غزل برائے اصلاح (فاعلاتن مفاعلن فعلن)

نوید ناظم — اکتوبر 31، 2016 11:09 صبح
میرے دکھ کی دوا نہیں کرتا
کرنے کو یوں کیا نہیں کرتا
یہ بھی کم عقل کی نشانی ہے
بولتا ہے' سنا نہیں کرتا
دیکھ صیاد کا ستم مجھ پر
یہ قفس بھی کھُلا نہیں کرتا
ڈال دے خود بھنور میں کشتی کو
ایسے تو نا خدا نہیں کرتا
خود مِلے ہے رقیب سے دیکھو
میں تو اس کا بُرا نہیں کرتا
ایک ہی عیب ہے بڑا اس میں
یہ کہ ہم سے مِلا نہیں کرتا
بچ کے رہنا نوید نظروں سے
وہ نشانہ خطا نہیں کرتا
نوید ناظم — اکتوبر 31، 2016 11:10 صبح
محترم الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
الف عین — اکتوبر 31، 2016 4:22 شام
درست ہے غزل لیکن کوئی بہت خاص بات بھی نہیں
نوید ناظم — اکتوبر 31، 2016 5:09 شام
درست ہے غزل لیکن کوئی بہت خاص بات بھی نہیں
جی سربہتر۔۔۔۔۔۔ آپ توجہ فرماتے ہیں اس طالب علم کے لیے یہی خاص بات ہے۔۔۔۔بہت شکریہ!
الف عین — اکتوبر 31، 2016 11:18 شام
میری خاص بات یہ ہے کہ میں لگی لپٹی نہیں رکھتا۔
نوید ناظم — اکتوبر 31، 2016 11:52 شام
میری خاص بات یہ ہے کہ میں لگی لپٹی نہیں رکھتا۔
یہ بھی ہمارے ہی بھلے کی بات ہے سر!!
ذوالقرنین آفاقی — نومبر 1، 2016 1:34 صبح
میرے دکھ کی دوا نہیں کرتا
کرنے کو یوں کیا نہیں کرتا
یہ بھی کم عقل کی نشانی ہے
بولتا ہے' سنا نہیں کرتا
دیکھ صیاد کا ستم مجھ پر
یہ قفس بھی کھُلا نہیں کرتا
ڈال دے خود بھنور میں کشتی کو
ایسے تو نا خدا نہیں کرتا
خود مِلے ہے رقیب سے دیکھو
میں تو اس کا بُرا نہیں کرتا
ایک ہی عیب ہے بڑا اس میں
یہ کہ ہم سے مِلا نہیں کرتا
بچ کے رہنا نوید نظروں سے
وہ نشانہ خطا نہیں کرتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%84%D9%86.92785/