فیضان قیصر — اکتوبر 31، 2016 9:13 صبح
سکھ، نصارا ،مسلمان مرتے گئے
سب ھی تجھ پہ مری جان مرتے گئے
شہرِ دل میں بپا زلزلے کے سبب
ایک اک کرکے ارمان مرتے گئے
خانئہ دل تو آسیب کا مارا تھا
اس میں ٹھرے جو مہمان مرتے گئے
زندگی کے سفر میں ہی فیضان جی
ہم نے دیکھا کہ انسان مرتے گئے
فیضان قیصر — اکتوبر 31، 2016 9:23 صبح
الف عین محترم عنائت فرمائیں
فیضان قیصر — اکتوبر 31، 2016 10:39 صبح
راحیل فاروق محترم نظرِ عنایت کچھ ادھر بھی
الف عین — اکتوبر 31، 2016 4:30 شام
سکھ، نصارا ،مسلمان مرتے گئے
سب ھی تجھ پہ مری جان مرتے گئے
۔۔اوہو یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے ہندو ترقی کر رہے ہیں کہ وہ مرنے سے محفوظ ہیں!!!
قافیہ بندی کی رو سے درست۔ لیکن مذہب کی بنیاد پر محض تین زمرے گنانا غلط۔۔
شہرِ دل میں بپا زلزلے کے سبب
ایک اک کرکے ارمان مرتے گئے
۔۔۔ درست
خانئہ دل تو آسیب کا مارا تھا
اس میں ٹھرے جو مہمان مرتے گئے
۔۔غالباً ’ٹھہرے‘ لکھنا تھا،درست شعر ہے۔ لیکن سب کو مارنے کی کیا ضرورت ہے!
زندگی کے سفر میں ہی فیضان جی
ہم نے دیکھا کہ انسان مرتے گئے
۔۔اس میں کوئی خاص بات نہیں، محض بھرتی کا شعر ہے، ویسے ہی مختصر سے چار اشعار تھے، ان میں بھی ایسا اضافہ؟
فیضان قیصر — اکتوبر 31، 2016 4:45 شام
بہت شکریہ محترم۔ مشقِ سخن جاری ہے۔ آپ کی رہنمائی میں امید کرتا ہوں خامیاں دور ہوتی چلی جائیں گی۔