نوید ناظم — دسمبر 1، 2016 7:39 شام
میں تجھ کو بھلا دوں تو پھر کیا بنے
یہ خود کو سزا دوں تو پھر کیا بنے
نہ پوچھو مرا حالِ دل مجھ سے تم
میں سچ سچ بتا دوں تو پھر کیا بنے
جسے دیکھنے سےخدا یاد ہے
وہ بت بھی گرا دوں تو پھر کیا بنے
جو اک پردہ سا تجھ میں اور مجھ میں ہے
اگر یہ ہٹا دوں تو پھر کیا بنے
وہ جو بندگی سے ہی بیزار ہے
میں اس کو خدا دوں تو پھر کیا بنے
میں بھی طُور پر جا کے تجھ کو کبھی
تجلّی دکھا دوں تو پھر کیا بنے
یہ دنیا ہو جائے اِدھر سے اُدھر
میں نقشہ گھما دوں تو پھر کیا بنے
اسے روشنی چاہیے اب نوید
میں گھر کو جلا دوں تو پھر کیا بنے
نوید ناظم — دسمبر 1، 2016 7:41 شام
محترم
الف عین صاحب
محترم
راحیل فاروق صاحب
محترم
محمد ریحان قریشی صاحب
الف عین — دسمبر 2، 2016 4:06 صبح
یہ دنیا ہو جائے اِدھر سے اُدھر
وہی پچھلی والی غلطی ہے۔ اس سے سیکھنا چاہیےتھا۔ ’ہُجاُ اچھا نہیں لگتا اور اس میں
میں بھی طُور پر جا کے تجھ کو کبھی
’مِ بی‘ تقطیع ہونا۔
مفہوم کے اعتبار سے
جسے دیکھنے سےخدا یاد ہے
وہ بت بھی گرا دوں تو پھر کیا بنے
۔۔خدا یاد آتا ہے کہا تھا کیا؟
میں اس کو خدا دوں تو پھر کیا بنے
۔۔خدا کیسے دیا جا سکتا ہے؟
الف عین — دسمبر 2، 2016 4:07 صبح
اور یہ بھی۔
میں نقشہ گھما دوں تو پھر کیا بنے
نقشہ گھمانا؟ ہاں، گلوب گھمایا جا سکتا ہے۔
نوید ناظم — دسمبر 2، 2016 7:20 صبح
یہ دنیا ہو جائے اِدھر سے اُدھر
وہی پچھلی والی غلطی ہے۔ اس سے سیکھنا چاہیےتھا۔ ’ہُجاُ اچھا نہیں لگتا اور اس میں
سر درست فرمایا آپ نے' غلطی کو دہرانا تو اس سے بھی بڑی غلطی ہے' اس بار کی معذرت قبول کیجیے
میں بھی طُور پر جا کے تجھ کو کبھی
’مِ بی‘ تقطیع ہونا۔
اس کو بدل دیا سر۔۔۔
''کبھی طُور پر جا کے میں بھی تجھے'' کر دیا۔
مفہوم کے اعتبار سے
جسے دیکھنے سےخدا یاد ہے
وہ بت بھی گرا دوں تو پھر کیا بنے
۔۔خدا یاد آتا ہے کہا تھا کیا؟
نہیں سر خدا یاد ہے کہا تھا
میں اس کو خدا دوں تو پھر کیا بنے
۔۔خدا کیسے دیا جا سکتا ہے؟
سر' جیسے ملتا ہے ویسے دیا بھی جا سکتا ہے !
اور یہ بھی۔
میں نقشہ گھما دوں تو پھر کیا بنے
نقشہ گھمانا؟ ہاں، گلوب گھمایا جا سکتا ہے۔
سر یہ شعر حذف کیا۔
فیضان قیصر — دسمبر 2، 2016 4:11 شام
چلو آپ خدا دے دو مگر دو گے کس طرح؟ طور پہ موسی گئے تجلی خدا نے دکھائی۔ آپ خود ہی طور جا رہے ہیں تجلی کس کو دکھائیں گے؟ اسے روشنی دینے کے لئے گھر جلانے کی منطق؟
نوید ناظم — دسمبر 2، 2016 5:02 شام
چلو آپ خدا دے دو مگر دو گے کس طرح؟ طور پہ موسی گئے تجلی خدا نے دکھائی۔ آپ خود ہی طور جا رہے ہیں تجلی کس کو دکھائیں گے؟ اسے روشنی دینے کے لئے گھر جلانے کی منطق؟
1 - ڈاکٹر صاحب۔۔۔ خدا دینے سے مراد خدا کو ماننے کا شعور دینا بھی لیا جا سکتا ہے ویسے۔۔۔۔ اور اس کے طریقے تو بے شمار ہیں۔
2-کیا ہم اپنا جلوہ طور پہ دکھائیں گے۔۔۔ گویا جلوے بھی 2 ہو سکتے ہیں ایک انسان کا اور ایک خدا کا۔۔۔ حضور کیوں مشرک کرتے ہیں ہمیں۔۔۔ اس شعر کو تو آپ بلا وضاحت قبول فرمائیں بلکہ آسانئ کے لیے رد بھی کر سکتے ہیں۔
3- گھر جلانے کی منطق پہلے مصرعے میں موجود ہے۔۔۔ اب اس منطق سے اتفاق نہ کرنا کسی کا بھی حق ہے۔۔۔
الف عین — دسمبر 3، 2016 12:13 شام
ان دونوں اشعار کو حذف کرنا ہی بہتر ہے۔