غزل برائے اصلاح (فعولن فعولن فعولن فعولن)

نوید ناظم — نومبر 20، 2016 7:14 شام
کوئی جال ہے جو بچھایا گیا ہے
پرندوں کو رسماً اڑایا گیا ہے
بڑی دور سے چل کے آیا تھا وہ بھی
سرِ بزم جس کو اٹھایا گیا ہے
ہمیں آرزو تھی کہ دیکھیں خدا کو
مگر آئینہ سا دکھایا گیا ہے
کوئی حق پرست آج سولی چڑھے گا
جو پھر دار کو یوں سجایا گیا ہے
یہ آوازِ حق ہے یہ اٹھ کر رہے گی
اس آواز کو کب دبایا گیا ہے
بس اب شام بھی آس پاس آ گئی ہے
ہمیں چھوڑ کر آج سایہ گیا ہے
اب اس جھوٹ کو لوگ سچ مان لیں گے
یہ ٹی وی پہ آخر چلایا گیا ہے
بھلا اس سے کیا آگ دل کی بجھے گی
یہ پانی جو آنکھوں میں لایا گیا ہے
لو روکا گیا تھا اِسے جس گلی سے
ںوید اس گلی میں ہی پایا گیا ہے
نوید ناظم — نومبر 20، 2016 7:16 شام
محترم الف عین صاحب
محترم راحیل فاروق صاحب
الف عین — نومبر 21، 2016 6:09 صبح
تکنیکی طور پر درست ہے
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 21، 2016 6:46 صبح
بھلا اس سے کیا آگ دل کی بجھے گی
یہ پانی جو آنکھوں میں لایا گیا ہے
بہت خوبصورت غزل ہے ۔۔ شاندار
فیضان قیصر — نومبر 21، 2016 5:37 شام
یہ آوازِ حق ہے یہ اٹھ کر رہے گی
نوید بھائی مجھے لگا آپ کچھ یوں کہنا چاہ رہے ہیں
یہ آوازِ حق ہے یہ اٹھ کر رہی ہے
اسے جب کبھی بھی دبا یا گیا ہے
نوید ناظم — نومبر 22، 2016 5:38 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے ۔۔ شاندار
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب!
راحیل فاروق — دسمبر 11، 2016 10:36 صبح
ماشاءاللہ۔ من حیث المجوع بہت اچھے اشعار، نوید بھائی۔ داد قبول ہو۔
لو روکا گیا تھا اِسے جس گلی سے
ںوید اس گلی میں ہی پایا گیا ہے
مصرعِ اولیٰ میں لو کی واؤ ساقط ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اصول مدِ نظر رکھیے:
اگر مصرع وتدِ مجموع سے شروع ہو رہا ہو اور وزن پورا کرنے کے لیے کسی دو حرفی لفظ کا حرفِ علت ساقط کرنا پڑے تو احسن یہ ہے کہ وہ لفظ فعل کی کوئی صورت نہ ہو۔ یعنی لو، ہو، ہے، دو، تھا، تھے، تھیں، ہوں، لیں وغیرہ کو اس جگہ استعمال نہ کیا جائے۔ ان کی بجائے تو، کہ، سو، وہ، یہ وغیرہ کا استعمال زیادہ اچھا رہتا ہے۔ اساتذۂِ اردو کے ہاں یہ التزام عموماً آپ کو ملے گا گو آج کے شعرا اس کا اتنا خیال نہیں کرتے۔ مگر مصرع کے حسن پر اس کا اثر طبعِ سلیم کے لیے اظہر من الشمس ہے۔
نوید ناظم — دسمبر 12، 2016 3:42 شام
ماشاءاللہ۔ من حیث المجوع بہت اچھے اشعار، نوید بھائی۔ داد قبول ہو۔
مصرعِ اولیٰ میں لو کی واؤ ساقط ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اصول مدِ نظر رکھیے:
اگر مصرع وتدِ مجموع سے شروع ہو رہا ہو اور وزن پورا کرنے کے لیے کسی دو حرفی لفظ کا حرفِ علت ساقط کرنا پڑے تو احسن یہ ہے کہ وہ لفظ فعل کی کوئی صورت نہ ہو۔ یعنی لو، ہو، ہے، دو، تھا، تھے، تھیں، ہوں، لیں وغیرہ کو اس جگہ استعمال نہ کیا جائے۔ ان کی بجائے تو، کہ، سو، وہ، یہ وغیرہ کا استعمال زیادہ اچھا رہتا ہے۔ اساتذۂِ اردو کے ہاں یہ التزام عموماً آپ کو ملے گا گو آج کے شعرا اس کا اتنا خیال نہیں کرتے۔ مگر مصرع کے حسن پر اس کا اثر طبعِ سلیم کے لیے اظہر من الشمس ہے۔
بے حد شکریہ راحیل بھائی۔۔۔۔ انشاءاللہ آپ کی بات کو مدِ نظر رکھوں گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86.93132/