غزل برائے اصلاح :- جس جگہ پہنچنا تھا ، وہیں آ گیا

عمران سرگانی — جولائی 5، 2018 11:32 صبح
سر الف عین و دیگر اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔ ایک پرانی غزل آج نظر سے گزری۔
افاعیل:- فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
جس جگہ پہنچنا تھا ، وہیں آ گیا
یا کہیں اور تو میں نہیں آ گیا؟
پھر مسافت طے صفر سے کرنا پڑی
میں جہاں سے بڑھا تھا وہیں آ گیا
اک اڑان آسماں کو بھری تھی میں نے
پاؤں کیوں میرا زیرِ زمیں آ گیا
دل میں کھٹکا ہوا ، بھاگ کر میں اٹھا
کھولا دروازہ ، وہ تو نہیں آ گیا
کہنے کو تو وہ خالی مکاں تھا مگر
جو مرے گھر میں بن کر مکیں آ گیا
ہاتھ پیارے ترے چومنے تھے مجھے
آگے لے کر تو اپنی جبیں آ گیا
اب نہ عمران خود پر بھروسہ رہا
اور اسے آج مجھ پر یقیں آ گیا
شکریہ۔۔۔
الف عین — جولائی 5، 2018 7:08 شام
شروع کے تینوں اشعار میں کچھ خامی ہے، باقی درست ہیں
جس جگہ پہنچنا تھا ، وہیں آ گیا
یا کہیں اور تو میں نہیں آ گیا؟
۔۔۔ پہنچنا۔ پہ۔ چنا تقطیع ہو رہا ہے۔ فاعلن۔ درست تلفظ ہ متحرک اور چ ساکن ہے، فاعلن
پھر مسافت طے صفر سے کرنا پڑی
میں جہاں سے بڑھا تھا وہیں آ گیا
۔۔۔پہلا مصرع بحر سے خارج۔ صفر بر وزن درد، فعل درست ہے۔ طے کی ے کا اسقاط بھی غلط ہے (اگر ہے تو)
اک اڑان آسماں کو بھری تھی میں نے
پاؤں کیوں میرا زیرِ زمیں آ گیا
میں نے محض 'منے' تقطیع ہو رہا ہے
عمران سرگانی — جولائی 6، 2018 9:11 صبح
شروع کے تینوں اشعار میں کچھ خامی ہے، باقی درست ہیں
جس جگہ پہنچنا تھا ، وہیں آ گیا
یا کہیں اور تو میں نہیں آ گیا؟
۔۔۔ پہنچنا۔ پہ۔ چنا تقطیع ہو رہا ہے۔ فاعلن۔ درست تلفظ ہ متحرک اور چ ساکن ہے، فاعلن
پھر مسافت طے صفر سے کرنا پڑا
میں جہاں سے بڑھا تھا وہیں آ گیا
۔۔۔پہلا مصرع بحر سے خارج۔ صفر بر وزن درد، فعل درست ہے۔ طے کی ے کا اسقاط بھی غلط ہے (اگر ہے تو)
اک اڑان آسماں کو بھری تھی میں نے
پاؤں کیوں میرا زیرِ زمیں آ گیا
میں نے محض 'منے' تقطیع ہو رہا ہے
اب سر الف عین
جس جگہ تھا پہنچنا ، وہیں آ گیا
یا کہیں اور تو میں نہیں آ گیا؟
صفر سے طے مسافت کو کرنا پڑی
میں جہاں سے بڑھا تھا وہیں آ گیا
اک اڑان آسماں کو بھری تھی مگر
پاؤں کیوں میرا زیرِ زمیں آ گیا
دل میں کھٹکا ہوا ، بھاگ کر میں اٹھا
کھولا دروازہ ، وہ تو نہیں آ گیا
کہنے کو تو وہ خالی مکاں تھا مگر
جو مرے گھر میں بن کر مکیں آ گیا
ہاتھ پیارے ترے چومنے تھے مجھے
آگے لے کر تو اپنی جبیں آ گیا
اب نہ عمران خود پر بھروسہ رہا
اور اسے آج مجھ پر یقیں آ گیا
عمران سرگانی — جولائی 6، 2018 10:32 صبح
ایک شعر کا اضافہ
یاد آیا دوبارہ کیا تھا سفر
جب 'نو' کے بعد زیرو کہیں آ گیا
عمران سرگانی — جولائی 6، 2018 10:33 صبح
ایک شعر کا اضافہ
یاد آیا دوبارہ کیا تھا سفر
جب 'نو' کے بعد زیرو کہیں آ گیا
الف عین — جولائی 6، 2018 7:27 شام
صفر سے ہی مسافت کرنا ضروری ہے؟ اگر یوں ہو تو
ابتدا سے سفر مجھ کو کرنا پڑا؟
نئے شعر میں زیرو پسند نہیں آیا ۔الفاظ بدلو۔
عمران سرگانی — جولائی 6، 2018 7:40 شام
صفر سے ہی مسافت کرنا ضروری ہے؟ اگر یوں ہو تو
ابتدا سے سفر مجھ کو کرنا پڑا؟
نئے شعر میں زیرو پسند نہیں آیا ۔الفاظ بدلو۔
جس جگہ تھا پہنچنا ، وہیں آ گیا
یا کہیں اور تو میں نہیں آ گیا؟
یاد آیا دوبارہ کیا تھا سفر
صفر جب 'نو' کے آگے کہیں آ گیا
ابتدا سے سفر مجھ کو کرنا پڑا
میں جہاں سے بڑھا تھا وہیں آ گیا
اک اڑان آسماں کو بھری تھی مگر
پاؤں کیوں میرا زیرِ زمیں آ گیا
دل میں کھٹکا ہوا ، بھاگ کر میں اٹھا
کھولا دروازہ ، وہ تو نہیں آ گیا
کہنے کو تو وہ خالی مکاں تھا مگر
جو مرے گھر میں بن کر مکیں آ گیا
ہاتھ پیارے ترے چومنے تھے مجھے
آگے لے کر تو اپنی جبیں آ گیا
اب نہ عمران خود پر بھروسہ رہا
اور اسے آج مجھ پر یقیں آ گیا
عمران سرگانی — جولائی 7، 2018 8:18 شام
بہت شکریہ سر الف عین ۔۔۔ سلامت رہیں۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AC%D8%B3-%D8%AC%DA%AF%DB%81-%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D9%86%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D8%8C-%D9%88%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A2-%DA%AF%DB%8C%D8%A7.102152/