غزل برائے اصلاح ، مشورہ اور رہنمائی

محمد شکیل خورشید — نومبر 16، 2016 9:44 صبح

کچھ تو یادوں کا پاس رہنے دو
دل میں تھوڑی سی آس رہنے دو
پھر سجا لیں گے طرب کی محفل
آج دل ہے اداس رہنے دو
اینٹ پتھر ذرا سے کم کر دو
شہر میں گل کی باس رہنے دو
سارا عالم سیراب ہو جائے
میرے حصے میں پیاس رہنے دو
یا کرو قیس کو ملبوس شکیلؔ
یا مجھے بے لباس رہنے دو​
حسن محمود جماعتی — نومبر 16، 2016 11:07 صبح
واہ واہ شکیل صاحب۔ کیا کہنے ۔ اصلاح تو اساتذہ کریں گے۔ ہمیں کلام نے لطف دیا۔ بہت خوب۔
پھر سجا لیں گے طرب کی محفل
آج دل ہے اداس رہنے دو
اینٹ پتھر ذرا سے کم کر دو
شہر میں گل کی باس رہنے دو
بہت خوب کیا کہنے۔
محمد تابش صدیقی — نومبر 16، 2016 11:17 صبح
خوب جناب۔ اساتذہ کا کام اساتذہ جانیں۔ دو باتیں محسوس ہوئی ہیں۔
پھر سجا لیں گے طرب کی محفل
یہ لفظ طَرَب ہے ، آپ نے طَرْب استعمال کیا ہے۔
یا کرو قیس کو ملبوس شکیلؔ
اس مصرع کو دیکھ لیں۔
فاخر رضا — نومبر 16، 2016 1:52 شام
بہت خوب
یہ سیراب ہے یا سراب، یہ دیکھ لیں، سیراب کے ساتھ کچھ مشکل پیش آرہی ہے
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 5:45 صبح
بہت خوب
یہ سیراب ہے یا سراب، یہ دیکھ لیں، سیراب کے ساتھ کچھ مشکل پیش آرہی ہے
جزاک اللہ، سراب سے مفہوم پر زد پڑتی ہے، آپ کی نشاندہی یقیناََ بر محل ہے، رہنمائی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 5:46 صبح
خوب جناب۔ اساتذہ کا کام اساتذہ جانیں۔ دو باتیں محسوس ہوئی ہیں۔
یہ لفظ طَرَب ہے ، آپ نے طَرْب استعمال کیا ہے۔
اس مصرع کو دیکھ لیں۔
جزاک اللہ، رہنمائی کا شکریہ، مقطع کے مصرع میں مزید رہنمائی فرمایں تو مشکور ہوں گا
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 5:49 صبح
واہ واہ شکیل صاحب۔ کیا کہنے ۔ اصلاح تو اساتذہ کریں گے۔ ہمیں کلام نے لطف دیا۔ بہت خوب۔
بہت خوب کیا کہنے۔
قدر افزائی کا شکریہ جناب
محمد تابش صدیقی — نومبر 17، 2016 5:59 صبح
جزاک اللہ، رہنمائی کا شکریہ، مقطع کے مصرع میں مزید رہنمائی فرمایں تو مشکور ہوں گا
مجھے پڑھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ اس لیے کہا۔ :)
اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں۔
الف عین — نومبر 17، 2016 7:32 صبح
اس غزل میں دو بحور کا استعمال ہو گیا ہے۔ وہی دونوں مصرعے دوسری بحر میں آ گئے ہیں جن پر احباب کو وزن کا شک ہے۔
اس غزل کے ارکان ہیں
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جو ان ارکان میں کنفیوز کی جا سکتی ہے
فاعلاتن فَعِلاتن فعلن
طرب کو درست تلفظ ے ساتھ (ط اور ر مفتوح) باندھا جائے تو یہ مصرع دوسری بحر میں ہوتا ہے، اور ’ر‘ پر سکون کے ساتھ باندھا جائے تو اسی غزل کی بحر میں آتا ہے۔ غزل کے لیے ایک ہی بحر کی پابندی ضروری ہے،۔
ہا کرو قیس کو ملبوس شکیل
والا مصرع بھی اسی دوسری بحر میں ہو گیا ہے۔
یہ دونوں اشعار تو درست کرنے کی ضرورت ہے ہی۔
یہ مصرع تو دونوں بحور میں نہیں آتا۔
سارا عالم سیراب ہو جائے
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 9:25 صبح
اس غزل میں دو بحور کا استعمال ہو گیا ہے۔ وہی دونوں مصرعے دوسری بحر میں آ گئے ہیں جن پر احباب کو وزن کا شک ہے۔
اس غزل کے ارکان ہیں
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جو ان ارکان میں کنفیوز کی جا سکتی ہے
فاعلاتن فَعِلاتن فعلن
طرب کو درست تلفظ ے ساتھ (ط اور ر مفتوح) باندھا جائے تو یہ مصرع دوسری بحر میں ہوتا ہے، اور ’ر‘ پر سکون کے ساتھ باندھا جائے تو اسی غزل کی بحر میں آتا ہے۔ غزل کے لیے ایک ہی بحر کی پابندی ضروری ہے،۔
ہا کرو قیس کو ملبوس شکیل
والا مصرع بھی اسی دوسری بحر میں ہو گیا ہے۔
یہ دونوں اشعار تو درست کرنے کی ضرورت ہے ہی۔
یہ مصرع تو دونوں بحور میں نہیں آتا۔
سارا عالم سیراب ہو جائے
جزاک اللہ، جناب، اتنی باریک بینی سے رہنمائی پر، میں یقیناََ اتنی تکنیکی مہارت سے نابلد ہوں، آپ کی رہنمائی بہت کچھ سیکھنے پر اکسا رہی ہے، شکریہ
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 9:27 صبح
تمام احباب کا تہہِ دل سے شکرگزار ہوں ، بہت ڈرتے ڈرتے اس معزز ایوان میں قدم رکھا تھا، دلجوئی اور رہنمائی پر سب کا احسان مند ہوں
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 17، 2016 10:44 صبح
بہت خوب ۔۔ مزہ آ گیا ۔۔ سلامت رہیں
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 11:39 صبح
محترم الف عین صاحب ! ودیگر اساتذہ
ترمیم کے ساتھ دوبارہ جسارت کر رہا ہوں اگر بارِ خاطر نہ گزرے تو رہنمائی فرمائیں​

کچھ تو یادوں کا پاس رہنے دو
دل میں تھوڑی سی آس رہنے دو
کل طرب کی سجائیں گے محفل
آج دل ہے اداس رہنے دو
اینٹ پتھر ذرا سے کم کر دو
شہر میں گل کی باس رہنے دو
یا کرو با لباس قیس کو بھی
یا مجھے بے لباس رہنے دو​

سیر ہو جائے ایک دنیا شکیلؔ
میرے حصے میں پیاس رہنے دو​
محمد شکیل خورشید — نومبر 17، 2016 11:42 صبح
اس غزل میں دو بحور کا استعمال ہو گیا ہے۔ وہی دونوں مصرعے دوسری بحر میں آ گئے ہیں جن پر احباب کو وزن کا شک ہے۔
اس غزل کے ارکان ہیں
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جو ان ارکان میں کنفیوز کی جا سکتی ہے
فاعلاتن فَعِلاتن فعلن
طرب کو درست تلفظ ے ساتھ (ط اور ر مفتوح) باندھا جائے تو یہ مصرع دوسری بحر میں ہوتا ہے، اور ’ر‘ پر سکون کے ساتھ باندھا جائے تو اسی غزل کی بحر میں آتا ہے۔ غزل کے لیے ایک ہی بحر کی پابندی ضروری ہے،۔
ہا کرو قیس کو ملبوس شکیل
والا مصرع بھی اسی دوسری بحر میں ہو گیا ہے۔
یہ دونوں اشعار تو درست کرنے کی ضرورت ہے ہی۔
یہ مصرع تو دونوں بحور میں نہیں آتا۔
سارا عالم سیراب ہو جائے
محترم الف عین صاحب !
ترمیم کے ساتھ دوبارہ جسارت کر رہا ہوں اگر بارِ خاطر نہ گزرے تو رہنمائی فرمائیں​

کچھ تو یادوں کا پاس رہنے دو
دل میں تھوڑی سی آس رہنے دو
کل طرب کی سجائیں گے محفل
آج دل ہے اداس رہنے دو
اینٹ پتھر ذرا سے کم کر دو
شہر میں گل کی باس رہنے دو
یا کرو با لباس قیس کو بھی
یا مجھے بے لباس رہنے دو​
سیر ہو جائے ایک دنیا شکیلؔ
میرے حصے میں پیاس رہنے دو​
محمداحمد — نومبر 17، 2016 12:45 شام
اینٹ پتھر ذرا سے کم کر دو
شہر میں گل کی باس رہنے دو

خوبصورت!
بہت خوب شکیل صاحب !
اردو محفل میں خوش آمدید!
الف عین — نومبر 18، 2016 9:31 صبح
درست ہو گئی ہے غزل
یا کرو با لباس قیس کو بھی
یا مجھے بے لباس رہنے دو
میں روانی کی کمی اب بھی لگ رہی ہے۔ کیا یوں کر سکتے ہیں۔
یا عطا کر دو قیس کو ملبوس
یا
پیرہن قیس کو بھی پہنا دو
محمد شکیل خورشید — نومبر 18، 2016 11:26 صبح
درست ہو گئی ہے غزل
یا کرو با لباس قیس کو بھی
یا مجھے بے لباس رہنے دو
میں روانی کی کمی اب بھی لگ رہی ہے۔ کیا یوں کر سکتے ہیں۔
یا عطا کر دو قیس کو ملبوس
یا
پیرہن قیس کو بھی پہنا دو
جزاک اللہ، جناب،" پیرہن قیس کو بھی پہنا دو" آپ کی اجازت سے استعمال کر رہا ہوں، امید ہے آئندہ بھی آپ کی رہنمائی حاصل رہے گی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%8C-%D9%85%D8%B4%D9%88%D8%B1%DB%81-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C.93047/