غزل برائے اصلاح : اس کو بچپن سے چاہتا ہوں میں

اشرف علی — جولائی 20، 2022 12:56 شام
محترم الف عین صاحب ، محترم سید عاطف علی صاحب
محترم یاسر شاہ صاحب ، محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
غزل
ہاتھ جوڑوں کہ پاؤں پکڑوں مَیں ؟
اُس کو جانے سے کیسے روکوں مَیں
سامنے کاش تو نظر آئے !
اپنی آنکھوں کو جب بھی کھولوں مَیں
ہاتھ ، چھونے کو کہہ رہا ہے مگر
دل کا کہنا ہے ، صرف دیکھوں مَیں
میرے گھر میں کوئی نہیں ہے آج
فون کر کے اُسے بُلا لوں مَیں ؟
اُن کے گالوں کو جب نہیں چھیڑا
اُن کے ہونٹوں کو کیسے چوموں مَیں
مجھ کو اب نیند بھی نہیں آتی !
خواب کب تک تمہارے دیکھوں مَیں ؟
جس سے تم پیار کرتے ہو اشرف !
اُس کو بچپن سے چاہتا ہوں مَیں
اشرف علی — جولائی 21، 2022 2:38 شام
الف عین سر
الف عین — جولائی 21، 2022 11:02 شام
درست اور اچھی لگ رہی ہے غزل
اشرف علی — ستمبر 15، 2022 8:48 شام
درست اور اچھی لگ رہی ہے غزل
پذیرائی کے لیے بے حد ممنوں ہوں الف عین سر
آپ نے تعریف کر دی بس کام ہو گیا ...
جزاک اللّٰہ خیراً
اور ساتھ ہی معذرت چاہتا ہوں سر کہ اتنے دنوں کے بعد جواب دے رہا ہوں
بہت شرمندہ ہوں
پلز معاف کر دیجیے گا
سامنے کاش تو نظر آئے !
اپنی آنکھوں کو جب بھی کھولوں مَیں

مجھ کو اب نیند بھی نہیں آتی !
خواب کب تک تمہارے دیکھوں مَیں ؟
اوپر کے دونوں شعر ہٹانا چاہتا ہوں سر کیوں کہ پہلا شعر ایک گانے سے مل گیا ہے ( گانے میں آنکھیں کھولتے ہی چہرہ سامنے آنے کا ذکر ہے ) اور دوسرا شعر کا پہلا مصرع اکبرؔ صاحب کے مصرع سے ٹکرا رہا ( مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی )
براہِ مہربانی نئے اشعار کی اصلاح فرما دیجیے ...
جن کے آگے نظر نہیں اٹھتی
ان کی آنکھوں میں کیسے جھانکوں میں
ہے کمی مجھ میں ایک "فعلن" کی
"فاعلاتن" ، " مفاعلن" ، ہوں میں
تیرے دل تک مجھے پہنچنا ہے
بول ! کس راستے سے آؤں میں ؟
تیری زلفیں ہیں مثلِ نافِ غزال
مجھ پہ بکھرا انہیں کہ مہکوں میں
تیری ہر پنکھڑی کو گل بدن اب
تو کہے تو شگفتہ رکھّوں میں
یا
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں ؟
پرس میں یا کہ نوٹ بُک/ڈائری میں بتا !
تیری فوٹو کہاں چھپاؤں میں
اس نے دعوت تو دی ہے مجھ کو مگر
اس کی شادی میں کیسے جاؤں میں ؟
مقبول — ستمبر 15، 2022 10:09 شام
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں ؟
بہت خوب
مقبول — ستمبر 15، 2022 10:09 شام
اس نے دعوت تو دی ہے مجھ کو مگر
اس کی شادی میں کیسے جاؤں میں ؟
دل پر پتھر رکھ کر🥲
الف عین — ستمبر 16، 2022 9:47 صبح
درست ہیں اشعار
گل بدن والا دوسرا متبادل بہتر لگ رہا ہے
ڈائری ہی بہتر ہے
اشرف علی — ستمبر 16، 2022 8:26 شام
بہت بہت شکریہ
جزاک اللّٰہ خیراً
اشرف علی — ستمبر 16، 2022 8:29 شام
درست ہیں اشعار
گل بدن والا دوسرا متبادل بہتر لگ رہا ہے
ڈائری ہی بہتر ہے
ٹھیک ہے سر
بہت بہت شکریہ
جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ، آمین ۔
اشرف علی — ستمبر 16، 2022 8:29 شام
غزل ( اصلاح کے بعد )
ہاتھ جوڑوں کہ پاؤں پکڑوں میں ؟
اُس کو جانے سے کیسے روکوں میں
جن کے آگے نظر نہیں اٹھتی
اُن کی آنکھوں میں کیسے جھانکوں میں
تیرے دل تک مجھے پہنچنا ہے
بول ! کس راستے سے آؤں میں
ہاتھ ، چھونے کو کہہ رہا ہے مگر
دل کا کہنا ہے ، صرف دیکھوں میں
اُن کے گالوں کو جب نہیں چھیڑا
اُن کے ہونٹوں کو کیسے چوموں میں
تیری زلفیں ہیں مثلِ نافِ غزال
مجھ پہ بکھرا انہیں کہ مہکوں میں
میرے گھر میں کوئی نہیں ہے آج
فون کر کے اُسے بُلا لوں میں ؟
ہے کمی مجھ میں ایک "فعلن" کی
"فاعلاتن" ، " مفاعلن" ، ہوں میں
پرس میں یا کہ ڈائری میں بتا !
تیری فوٹو کہاں چھُپاؤں میں
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں
اُس نے دعوت تو دی ہے مجھ کو مگر
اُس کی شادی میں کیسے جاؤں میں
جس سے تم پیار کرتے ہو اشرف !
اُس کو بچپن سے چاہتا ہوں میں
صریر — ستمبر 17، 2022 4:58 صبح
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں
بہت خوب اشرف بھائی!!👍👍✨✨
یاسر شاہ — ستمبر 17، 2022 3:55 شام
غزل ( اصلاح کے بعد )
ہاتھ جوڑوں کہ پاؤں پکڑوں میں ؟
اُس کو جانے سے کیسے روکوں میں
جن کے آگے نظر نہیں اٹھتی
اُن کی آنکھوں میں کیسے جھانکوں میں
تیرے دل تک مجھے پہنچنا ہے
بول ! کس راستے سے آؤں میں
ہاتھ ، چھونے کو کہہ رہا ہے مگر
دل کا کہنا ہے ، صرف دیکھوں میں
اُن کے گالوں کو جب نہیں چھیڑا
اُن کے ہونٹوں کو کیسے چوموں میں
تیری زلفیں ہیں مثلِ نافِ غزال
مجھ پہ بکھرا انہیں کہ مہکوں میں
میرے گھر میں کوئی نہیں ہے آج
فون کر کے اُسے بُلا لوں میں ؟
ہے کمی مجھ میں ایک "فعلن" کی
"فاعلاتن" ، " مفاعلن" ، ہوں میں
پرس میں یا کہ ڈائری میں بتا !
تیری فوٹو کہاں چھُپاؤں میں
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں
اُس نے دعوت تو دی ہے مجھ کو مگر
اُس کی شادی میں کیسے جاؤں میں
جس سے تم پیار کرتے ہو اشرف !
اُس کو بچپن سے چاہتا ہوں میں
اشرف بھائی اس طرح کی شاعری کو عموماً فارمولا شاعری کہتے ہیں ،یہ ایک خام سے کرافٹ کے سوا کچھ نہیں ۔ اس سے فوری داد تو مل جاتی ہے لیکن شاعر کا اندر کا آرٹسٹ مرتا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اندر کے آرٹسٹ کے بارے میں جانا جائے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے،یوں خواہ وقتی داد ملے نہ ملے لیکن آرٹ تخلیق کرنے سے ذوق کو تسکین ضرور ملتی ہے جو دیرپا رہتی ہے۔
آپ میں بہت کچھ صلاحیت ہے لہذا میرا یہی مشورہ ہے فارمولا شاعری میں اپنی ساری توانائیاں وقف نہ کریں۔
اشرف علی — ستمبر 17، 2022 7:21 شام
غزل ( اصلاح کے بعد )
ہاتھ جوڑوں کہ پاؤں پکڑوں میں ؟
اُس کو جانے سے کیسے روکوں میں
جن کے آگے نظر نہیں اٹھتی
اُن کی آنکھوں میں کیسے جھانکوں میں
تیرے دل تک مجھے پہنچنا ہے
بول ! کس راستے سے آؤں میں
ہاتھ ، چھونے کو کہہ رہا ہے مگر
دل کا کہنا ہے ، صرف دیکھوں میں
اُن کے گالوں کو جب نہیں چھیڑا
اُن کے ہونٹوں کو کیسے چوموں میں
تیری زلفیں ہیں مثلِ نافِ غزال
مجھ پہ بکھرا انہیں کہ مہکوں میں
میرے گھر میں کوئی نہیں ہے آج
فون کر کے اُسے بُلا لوں میں ؟
ہے کمی مجھ میں ایک "فعلن" کی
"فاعلاتن" ، " مفاعلن" ، ہوں میں
پرس میں یا کہ ڈائری میں بتا !
تیری فوٹو کہاں چھُپاؤں میں
گل بدن تو ہے ، تجھ کو ہر لمحہ
بن کے شبنم ، شگفتہ رکھّوں میں
اُس نے دعوت تو دی ہے مجھ کو مگر
اُس کی شادی میں کیسے جاؤں میں
جس سے تم پیار کرتے ہو اشرف !
اُس کو بچپن سے چاہتا ہوں میں
پسندیدگی کے لیے شکر گزار ہوں صریر بھائی
اللّٰہ آپ کو خوش رکھے ، آمین ۔
اشرف علی — ستمبر 17، 2022 7:22 شام
بہت خوب اشرف بھائی!!👍👍✨✨
بہت بہت شکریہ بھائی
جزاک اللّٰہ خیراً
اشرف علی — ستمبر 17، 2022 7:38 شام
ضرورت اس بات کی ہے کہ اندر کے آرٹسٹ کے بارے میں جانا جائے کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے
اس کے لیے کیا کرنا ہوگا سر
آپ پلز بتائیں ان شاء اللّٰہ میں پوری کوشش کروں گا
آپ میں بہت کچھ صلاحیت ہے
حوصلہ افزائی کے لیے شکر گزار ہوں سر
اور خاص طور سے اس بات کے لیے ممنون ہوں کہ آپ نے اس طرف توجہ دلائی اور ایسی باتیں بتائی جو صرف میرے لیے نہیں بلکہ ہر مبتدی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی ان شاء اللّٰہ
جزاک اللّٰہ خیراً
یہ صحیح سے سمجھ نہیں سکا سر
اس سے مراد کیا ڈائلاگ اور بات چیت والی شاعری/تک بندی ہے ؟
میرا یہی مشورہ ہے فارمولا شاعری میں اپنی ساری توانائیاں وقف نہ کریں
ان شاء اللّٰہ
لیکن کبھی کبھی ڈائلاگ ٹائپ میں کچھ لکھنے کو دل کرتا ہے سر ٹائم پاس کے لیے( نیا ہونے کا فائدہ اٹھا لیتا ہوں )
لیکن واقعی شاعری کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا کچھ رہنمائی فرمائیں یا کس طرح کے اشعار کو سامنے رکھ کر کوشش کروں کچھ کہنے کی
ایک بار پھر آپ کا بہت بہت شکریہ
یاسر شاہ — ستمبر 18، 2022 6:49 شام
یہ صحیح سے سمجھ نہیں سکا سر
اس سے مراد کیا

لیکن واقعی شاعری کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا کچھ رہنمائی فرمائیں یا کس طرح کے اشعار کو سامنے رکھ کر کوشش کروں کچھ کہنے کی
جاوید اختر سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو ساحر کو ساحر بناتی ہے حالانکہ انھی کے دور میں اور بھی فلمی گیت لکھنے والے گزرے ہیں تو انھوں نے بڑا اچھا جواب دیا کہ اگر یہ پتا چل جائے کہ وہ کیا چیز ہے جو ساحر کو ساحر بناتی ہے تو ہر شاعر ساحر بن جائے اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کیا خاص بات مونا لیزا کی مسکان میں ہے تو ہر مصور لیونارڈو ہو جائے۔
بات یہ ہے کہ آرٹ ایک ایسی چیز ہے جو نقل نہیں کی جاسکتی نہ کسی اور سے نہ خود آرٹسٹ سےیعنی فنکار جو فن پارہ تخلیق کر چکا بالکل وہی فن پارہ دوبارہ نہیں بنا سکتا وجہ یہی ہے کہ آرٹ کا کوئی فارمولا نہیں ہوتا البتہ کرافٹ نقل بھی ہو سکتا ہے اور ویسا ہی دوبارہ بن بھی سکتا ہے۔
اب ہوتا یہ ہے کہ مشاعروں میں جب کوئی خاص شاعر مقبول ہو جاتا ہے تو مبتدی شعرا اپنے طور پہ اس شاعر کی مقبولیت کا ایک فارمولا بنا لیتے ہیں تاکہ اسی کی طرح وہ بھی مقبول ہو جائیں اور یہی وہ بے وقوفی ہے جس کے نتیجے میں ان کے ہاتھ آرٹ تو نہیں آتا البتہ ایک پست درجے کا کرافٹ ضرور ان کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور یہ اسی میں ریجھ کر اپنے اندر کے آرٹسٹ کو دریافت نہیں کر پاتے۔
اڑ گئی سونے کی چڑیا رہ گیا پر ہاتھ میں
اپنے اندر کے آرٹسٹ کو مطالعے،مشاہدے اور تجربے کے ذریعے ہی سے دریافت کیا جا سکتا ہے ۔مطالعہ شعرا کی صحبت کا قائم مقام ہے اگر آپ کو اپنے جوڑ اور مناسبت کا شاعر مل جائے تو اسے پڑھ کر آپ کی طبیعت بھی رواں ہو جائے گی اور شروع میں تو اسی کے رنگ میں شاعری ہوگی رفتہ رفتہ اپنا رنگ، اگر کوئی ہے، تو نکلتا جائے گا اور نکھرتا جائے گا،اقبال بھی شروع میں داغ کے رنگ میں لکھتے تھے بعد میں وہ رنگ ترک کر دیا اور وہ کلام بھی متروک قرار دیا اسی طرح غالب بھی شروع میں بیدل کی طرز پہ لکھتے تھے پھر وہ طرز چھوڑ دی ۔
اسی طرح مشاہدہ بھی کارگر ہے اپنے اندر کے شاعر کو دریافت کرنے میں ۔چنانچہ بہت سے شاعروں نے خوبصورت مناظر کو دیکھ کر شاعری کی ہے۔
اور تجربے کا تو کوئی بدل اور ثانی نہیں لیکن اکثر تجربات غیر اختیاری ہوتے ہیں بہت سے لوگ دل کی چوٹ کھا کر شاعری کرنے لگ جاتے ہیں ۔ایک اللہ والے کیا خوب فرماتے ہیں ۔
شاعری مد_نظر ہم کو نہیں
واردات _دل لکھا کرتے ہیں ہم
ایک بلبل ہے ہماری راز داں
ہر کسی سے کب کھلا کرتے ہیں ہم
ان کے آنے کا لگا رہتا ہے دھیان
بیٹھے بٹھلائے اٹھا کرتے ہیں ہم
اشرف علی — ستمبر 18، 2022 9:26 شام
جاوید اختر سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ وہ کیا چیز ہے جو ساحر کو ساحر بناتی ہے حالانکہ انھی کے دور میں اور بھی فلمی گیت لکھنے والے گزرے ہیں تو انھوں نے بڑا اچھا جواب دیا کہ اگر یہ پتا چل جائے کہ وہ کیا چیز ہے جو ساحر کو ساحر بناتی ہے تو ہر شاعر ساحر بن جائے اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہ کیا خاص بات مونا لیزا کی مسکان میں ہے تو ہر مصور لیونارڈو ہو جائے
وااااااہ
اب ہوتا یہ ہے کہ مشاعروں میں جب کوئی خاص شاعر مقبول ہو جاتا ہے تو مبتدی شعرا اپنے طور پہ اس شاعر کی مقبولیت کا ایک فارمولا بنا لیتے ہیں تاکہ اسی کی طرح وہ بھی مقبول ہو جائیں اور یہی وہ بے وقوفی ہے جس کے نتیجے میں ان کے ہاتھ آرٹ تو نہیں آتا البتہ ایک پست درجے کا کرافٹ ضرور ان کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور یہ اسی میں ریجھ کر اپنے اندر کے آرٹسٹ کو دریافت نہیں کر پاتے۔
جی سر ! سمجھ گیا
اتنے اچھے اور تفصیل سے سمجھانے کے لیے سراپا سپاس گزار ہوں
جزاک اللّٰہ خیراً
اپنے اندر کے آرٹسٹ کو مطالعے،مشاہدے اور تجربے کے ذریعے ہی سے دریافت کیا جا سکتا ہے ۔
ان شاء اللّٰہ ان پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا
بہت بہت شکریہ سر
مطالعہ شعرا کی صحبت کا قائم مقام ہے اگر آپ کو اپنے جوڑ اور مناسبت کا شاعر مل جائے تو اسے پڑھ کر آپ کی طبیعت بھی رواں ہو جائے گی اور شروع میں تو اسی کے رنگ میں شاعری ہوگی رفتہ رفتہ اپنا رنگ، اگر کوئی ہے، تو نکلتا جائے گا اور نکھرتا جائے گا،
میرے سب سے پسندیدہ شاعر تو مرزا غالبؔ ہیں لیکن شاید میں جونؔ صاحب کے رنگ میں تک بندی کرنے لگا ہوں تو کیاجیسے چل رہا ، ابھی چلنے دوں ؟ یا پھر ابھی سے کچھ الگ کرنے کی کوشش کروں ؟
بہت سے لوگ دل کی چوٹ کھا کر شاعری کرنے لگ جاتے ہیں ۔
میں بھی ان میں سےایک ہوں
لیکن افسوس جس کے لیے شاعری کرتا ہوں اس کو سنا نہیں پاتا
خیر ! آپ کی باتوں سے اتنا تو سمجھ میں آ گیا کہ میں غلط جا رہا تھااور اب ان شاء اللّٰہ سدھرنے کی کوشش کروں گا
لیکن وہ غزلیں جو آل ریڈی کہہ چکا ہوں وہ تو پرانے انداز میں ہی ہیں تو اب وہ جیسے تیسے پاس ہو جائیں یعنی ان کی اصلاح ہو جائیں
جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ آپ کو شاد و آباد رکھے اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے ، آمین ۔
یاسر شاہ — ستمبر 23، 2022 6:28 شام
میرے سب سے پسندیدہ شاعر تو مرزا غالبؔ ہیں لیکن شاید میں جونؔ صاحب کے رنگ میں تک بندی کرنے لگا ہوں تو کیاجیسے چل رہا ، ابھی چلنے دوں ؟ یا پھر ابھی سے کچھ الگ کرنے کی کوشش کروں ؟
بات آپ کی غزل سے چلی تھی،لہذا وہیں سے آگے بڑھاتے ہیں،آپ کا اسلوب نگارش صاف بتاتا ہے کہ آپ نے جون کے کلام کا ایک فارمولا بنا رکھا ہے جسے اپنی غزل میں استعمال کر رہےہیں ۔اور یہ صرف آپ نہیں کر رہے بلکہ آج کل بہت سے نئے شعرا یہ کام کر رہے ہیں ۔ںعضوں نے تو بال بھی بڑھا رکھے ہیں اور جون جیسا عجیب تخلص بنا کر مشاعروں میں انھی کی سی اداکاری بھی کرتے ہیں۔اور ان کے کلام کا یہ فارمولا بنایا کہ عامیانہ ،بول چال کے اسلوب میں عجیب و غریب باتیں کر لینا ہی جون ایلیا ہونا ہے حالانکہ ایسا نہیں اور اگر کہیں کہیں ایسا ہے بھی تو یہ ان کا حال ہے جبکہ نقل کرنے والوں کا محض قال۔حال والوں کی باتیں بھی لطف سے خالی نہیں ہوتیں اور ان کی نقل محض قال اور بے لطف ہوتی ہے ۔ جون کا بہت سا کلام سہل ممتنع ہے اور سہل ممتنع کلام کی وہ صنعت ہے جس میں کلام آسان لگتا ہے لیکن ہوتا نہیں۔بہت سے مبتدی یہیں دھوکا کھاتے ہیں ۔چنانچہ مثال کے طور پہ ان کا ایک شعر دیکھیے:
آپ مجھ کو بہت پسند آئیں
آپ میری قمیص سیجیے گا
یہاں دلچسپ نکتہ تو یہ ہے کہ پسند جون کر رہے ہیں اور قمیص سینے کی سزا پسندیدہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں ۔
اب قمیص نئے سرے سے سینی ہے یا چاک دامن سینا ہے یا پھر چاک گریباں ۔"میری قمیص سیجیے گا " میں سب داخل ہے ،ہر ایک صورت کے لحاظ سے معنویت مختلف ہے اور ایک مصرع سے یہ سب معنویتیں پیدا ہو رہی ہیں ۔لطیف اشارہ اس آیت کی طرف بھی ہے جس میں نکاح سے جڑے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے ۔لیکن اگر کوئی ایسے شعر کی نقل یوں کرے :
آپ اچھی لگی ہیں مجھ کو بہت
مجھ کو روزانہ فون کیجیے گا
تو یہی کہا جائے گا بھئی کوئی اور کام کیجیے گا۔
اور وہ کام یہ کیجیے گا کہ مولانا روم اقبال اور فیض وغیرہ کو پڑھیے یا ایسے شعرا کو پڑھیے جن کی شاعری قنوطیت پہ مبنی نہیں اور جنھیں پڑھ کے امید اور ولولہ پیدا ہوتا ہو۔ورنہ مایوس شاعروں کو پڑھ کے وہی عالم ہوگا جیسا کہ مثل مشہور ہے بھری جوانی میں مانجھا ڈھیلا۔😊
یہ سب باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ یہ اصلاح سخن ہے اور آپ نے مجھے ٹیگ بھی کیا ہے چنانچہ یہ باتیں اب اور یہاں نہ ہوں گی تو کب اور کہاں ہوں گی؟
اشرف علی — ستمبر 24، 2022 7:51 شام
یہ ان کا حال ہے جبکہ نقل کرنے والوں کا محض قال۔
واااااہ
حال والوں کی باتیں بھی لطف سے خالی نہیں ہوتیں اور ان کی نقل محض قال اور بے لطف ہوتی ہے ۔
جی سر
چنانچہ مثال کے طور پہ ان کا ایک شعر دیکھیے:
آپ مجھ کو بہت پسند آئیں
آپ میری قمیص سیجیے گا

لیکن اگر کوئی ایسے شعر کی نقل یوں کرے :
آپ اچھی لگی ہیں مجھ کو بہت
مجھ کو روزانہ فون کیجیے گا
تو یہی کہا جائے گا بھئی کوئی اور کام کیجیے گا۔
اب بات سمجھ میں آگئی سر
اتنا وقت دینے کے لیے اور اتنے اچھے طریقے سے سمجھانے کے لیے بہت بہت شکریہ
جزاک اللّٰہ خیراً
اور وہ کام یہ کیجیے گا کہ مولانا روم اقبال اور فیض وغیرہ کو پڑھیے
ان شاء اللّٰہ
ان کا کلام کہاں مل جائے گا (اردو میں ) ؟
یہ سب باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ یہ اصلاح سخن ہے اور آپ نے مجھے ٹیگ بھی کیا ہے چنانچہ یہ باتیں اب اور یہاں نہ ہوں گی تو کب اور کہاں ہوں گی؟
جی بالکل
مجھے بہت اچھا لگا
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ، آمین ۔
یاسر شاہ — ستمبر 25، 2022 3:15 شام
ان کا کلام کہاں مل جائے گا (اردو میں ) ؟

اگر آپ میرے پڑوسی ہوتے تو دو ایک کتب تو میں ہی آپ کو دے دیتا مولانا رومی کے کلام کی اردو شرح پہ مبنی ،اب ظاہر ہے آپ کو قریبی کتب خانے میں بٹوے سمیت کشٹ کرنا پڑے گا۔
لیکن وہ غزلیں جو آل ریڈی کہہ چکا ہوں وہ تو پرانے انداز میں ہی ہیں تو اب وہ جیسے تیسے پاس ہو جائیں یعنی ان کی اصلاح ہو جائیں
اس کا جواب رہ گیا تھا۔ہاں وہ پرانی غزلیات تو پیش کر دیں ،ساتھ ساتھ مطالعہ جاری رکھیں ۔خود ہی فرق محسوس کریں گے۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%86%D9%BE%D9%86-%D8%B3%DB%92-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.118673/