غزل برائے اصلاح بر مصرع طرح: لکھی ہے مصحفِ رخسار کی تفسیر مدت تک

md waliullah qasmi — دسمبر 26، 2015 4:25 شام
السلام علیکم
اساتذہ حضرات سے میری مؤدبانہ عا جزانہ درخواست ہے کہ میری غزل کی اصلاح فرمادیں یہ بات عرض کردوں کہ یہ میری تیسری غزل ہے اس سے قبل جو میری پہلی غزل تھی وہ اصلاح کیلئے بھیجا تھا الحمد للہ بہت بھتر انداز میں سمجھا یا گیا تھا اس بار بھی اچھے کی امید رکھتا ہوں
مرے اجداد نے جو کچھ بھی کی تحریر مدت تک
ہوئی میرے لئے وہ سب کے سب تقریر مدت تک
قفس سے جب ملی آزادیاں میری رہائی پر
قفس روتا رہا روتی رہی زنجیر مدت تک
سراپا حسن کا پیکر جو دیکھا خواب میں ہم نے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
غلط الفاظ کہتے ہیں نبی کی شان میں جو لوگ
نبی کے ایسے دشمن کو ملے تعزیر مدت تک
مری تعظیم کرتے ہیں وہ اب تکریم کرتے ہیں
کیا کرتے رہے ہیں جو مری تحقیر مدت تک
عقلمندی اسی میں ہے گھٹا لوخواہشہیں اپنی
کبھی ملتی نہیں ہر خواب کی تعبیر مدت تک
الف عین — دسمبر 28، 2015 12:46 صبح
اچھی کاوش ہے۔ لیکن ردیف پر غور کریں۔ کہیں کہیں مدت تک‘ واضح نہیں ہوتا یا غلط وتا ہے، جیسے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
گرامر کے حساب سے ’مدت سے‘ کا محل تھا۔
آخری شعر میں "عقل‘ کا غلط تلفظ تقطیع ہو رہا ہے۔
ظہیراحمدظہیر — دسمبر 28، 2015 4:26 صبح
بھائی ولی اللہ قاسمی صاحب! اچھی کاوش ہے ۔ استادِ محترم اعجاز صاحب کچھ باتوں کی نشاندہی کرچکے ہیں۔ ان پر غور کیجئے ۔ آپ کی پہلی غزل کےبرخلاف اس غزل میں زبان و بیان کی کچھ بنیادی اغلاط ہیں ۔ انہین دیکھ لیجئے۔ زبان و بیان کی درستی کے بعد ہی مضمون کی باری ٓتی ہے۔
مرے اجداد نے جو کچھ بھی کی تحریر مدت تک
ہوئی میرے لئے وہ سب کے سب تقریر مدت تک

’’جو کچھ بھی کیا تحریر مدت تک‘‘ درست ہوگا ۔ اسی طرح پھر دوسرے مصرع مین ’’ہوا میرے لئے وہ سب کا سب‘‘ درست ہوگا۔
سراپا حسن کا پیکر جو دیکھا خواب میں ہم نے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
سراپا حسن کا پیکر محلِ نظر ہے ۔ یا تو سراپا حسن رکھئے یا پھر حسن کا پیکر ۔ تلاش و جستجو کرلیجئے۔ یہ ٹائپو ہے۔ ردیف کی بابت محترمی الف عین صاحب بات کر ہی چکے ہیں ۔
مری تعظیم کرتے ہیں وہ اب تکریم کرتے ہیں
کیا کرتے رہے ہیں جو مری تحقیر مدت تک
کیا کرتے ہین اور کیا کرتے تھے تو درست ہے لیکن کیا کرتے رہے ہین درست نہین ۔’’ کرتے رہے ہیں جو ۔۔۔۔۔ الخ‘‘ درست زبان ہے ۔
عقلمندی اسی میں ہے گھٹا لوخواہشہیں اپنی
کبھی ملتی نہیں ہر خواب کی تعبیر مدت تک
تعبیر ملنا ایک دفعہ کا عمل ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ مدت تک کی ردیف استعمال نہین ہوسکتی جیسا کہ الف عین صاحب نے فرمایا۔ اس بدل دیجئے۔
md waliullah qasmi — دسمبر 30، 2015 3:01 شام
السلام علیکم
آپ حضرات نے بہت اچھا مشورہ دیا اس کے لئے آپ کا ممنون ومشکور ہوں
اب میری ایک گزارش ہے کہ میرے اشعار میں جو ترمیم ہونے کوہے وہ کر دیں تو آپ حضرات کی بڑی مہربانی ہوگی ابھی میں مبتدی ہوں اس لئے دقتیں در پیش ہیں آپ اس بچہ کا خیال رکھیں انشاءاللہ
ظہیراحمدظہیر — جنوری 1، 2016 2:14 صبح
السلام علیکم
آپ حضرات نے بہت اچھا مشورہ دیا اس کے لئے آپ کا ممنون ومشکور ہوں
اب میری ایک گزارش ہے کہ میرے اشعار میں جو ترمیم ہونے کوہے وہ کر دیں تو آپ حضرات کی بڑی مہربانی ہوگی ابھی میں مبتدی ہوں اس لئے دقتیں در پیش ہیں آپ اس بچہ کا خیال رکھیں انشاءاللہ
قاسمی صاحب! بہتر یہی ہے کہ یہ قدم آپ خود اٹھائیں ۔ ابتدا میں یہ سب کچھ تو کرنا پڑے گا تبھی کلام مین پختگی پیدا ہوگی ۔ یہی سیکھنے کا عمل ہے ۔ آپ ان اشعار میں ردوبدل کریں اور دوبارہ اسی لڑی میں لگائیں۔ انشاءاللہ آپ کو رہنمائی مل جائے گی۔
md waliullah qasmi — جنوری 1، 2016 8:59 صبح
قاسمی صاحب! بہتر یہی ہے کہ یہ قدم آپ خود اٹھائیں ۔ ابتدا میں یہ سب کچھ تو کرنا پڑے گا تبھی کلام مین پختگی پیدا ہوگی ۔ یہی سیکھنے کا عمل ہے ۔ آپ ان اشعار میں ردوبدل کریں اور دوبارہ اسی لڑی میں لگائیں۔ انشاءاللہ آپ کو رہنمائی مل جائے گی۔
بہت بہت شکریہ میں کوشش کرتا ہوں
md waliullah qasmi — جنوری 9، 2016 4:50 صبح
مرے اجداد نے جو کچھ کیا تحریر مدت تک
ہُوا میرے لئے وہ سب کا سب تقریر مدت تک
خردمندی اسی میں ہے گھٹا لو خواہشیں اپنی
کبھی ملتی نہیں ہے خواب کی تعبیر مدت تک
نبی کی شان میں گستاخیاں جو لوگ کرتے ہیں
نبی کےایسے دشمن کو ملے تعزیر مدت تک
سراپا حسن دیکھا تھا کبھی جو خواب میں ہم نے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
مری تعظیم کرتے ہیں وہ اب تکریم کرتے ہیں
جوکرتے آئے ہیں صاحب مری تحقیر مدت تک
قفس سے جب ملی آزادیاں میری رہائ پر
قفس روتا رہا روتی رہی زنجیر مدت تک
غزل بےساختہ بولی شہنشاہِ غزل ہے تو
غزل والے کریں گے یاد تجھ کو میر مدت تک
ولی پہچان گلشن میں ذرا اپنی بناؤ تم
کبھی رہتی نہیں ہے باپ کی جاگیر مدت تک
استاذہ حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے شاگرد کی اصلاح فرمائیں کس حد تک میں کامیاب ہوں یوں تو ابھی بھی غلطی کا پورا امکان ہے
ظہیراحمدظہیر — جنوری 9، 2016 5:42 صبح
مرے اجداد نے جو کچھ کیا تحریر مدت تک
ہُوا میرے لئے وہ سب کا سب تقریر مدت تک
خردمندی اسی میں ہے گھٹا لو خواہشیں اپنی
کبھی ملتی نہیں ہے خواب کی تعبیر مدت تک
نبی کی شان میں گستاخیاں جو لوگ کرتے ہیں
نبی کےایسے دشمن کو ملے تعزیر مدت تک
سراپا حسن دیکھا تھا کبھی جو خواب میں ہم نے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
مری تعظیم کرتے ہیں وہ اب تکریم کرتے ہیں
جوکرتے آئے ہیں صاحب مری تحقیر مدت تک
قفس سے جب ملی آزادیاں میری رہائ پر
قفس روتا رہا روتی رہی زنجیر مدت تک
غزل بےساختہ بولی شہنشاہِ غزل ہے تو
غزل والے کریں گے یاد تجھ کو میر مدت تک
ولی پہچان گلشن میں ذرا اپنی بناؤ تم
کبھی رہتی نہیں ہے باپ کی جاگیر مدت تک
استاذہ حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے شاگرد کی اصلاح فرمائیں کس حد تک میں کامیاب ہوں یوں تو ابھی بھی غلطی کا پورا امکان ہے

ماشاءاللہ کیا بات ہے جناب ولی اللہ قاسمی صاحب۔ آپ تو ماشاءاللہ اب پر لگا کر اڑ رہے ہیں ۔ بہت اچھی تبدیلیاں کی ہیں آپ نے۔
مرے اجداد نے جو کچھ کیا تحریر مدت تک
ہُوا میرے لئے وہ سب کا سب تقریر مدت تک
ہوا کی جگہ بنا بھی رکھا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خردمندی اسی میں ہے گھٹا لو خواہشیں اپنی
کبھی ملتی نہیں ہے خواب کی تعبیر مدت تک
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا اس شعر میں ردیف آڑے آرہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نبی کی شان میں گستاخیاں جو لوگ کرتے ہیں
نبی کےایسے دشمن کو ملے تعزیر مدت تک
بالکل ٹھیک ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سراپا حسن دیکھا تھا کبھی جو خواب میں ہم نے
تلاشُ جستجو ہے اب وہی تصویر مدت تک
یہاں بھی وہی ردیف والا مسئلہ ہے ۔ تلاشُ جستجو کے بجائے تلاش و جستجو درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مری تعظیم کرتے ہیں وہ اب تکریم کرتے ہیں
جوکرتے آئے ہیں صاحب مری تحقیر مدت تک
ردیف ساتھ نہیں دے رہی۔ مدت تک کے بجائے مدت سے درست ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قفس سے جب ملی آزادیاں میری رہائ پر
قفس روتا رہا روتی رہی زنجیر مدت تک
آزادیاں ٹھیک نہیں ہے : قفس سے جب ملی آزادی تو میری رہائ پر
روتا رہا روتی رہی بھی ٹھیک نہیں : قفس تڑپا کیا ، روتی رہی زنجیر مدت تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل بےساختہ بولی شہنشاہِ غزل ہے تو
غزل والے کریں گے یاد تجھ کو میر مدت تک
بغیر کسی سیاق و سباق کے ’’ غزل بے ساختہ بولی‘‘ ٹھیک نہیں لگ رہا ۔ اسکے بجائے کچھ اور سوچئے مثلاً: غزل کہتی ہے خود تجھ کو شہنشاہِ غزل ہے تو وغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولی پہچان گلشن میں ذرا اپنی بناؤ تم
کبھی رہتی نہیں ہے باپ کی جاگیر مدت تک
بہت خوب!
md waliullah qasmi — جنوری 9، 2016 6:00 صبح
جزاک اللہ احسن الجزا
پھر میں کوشش کرتا ہوں
معاف کیجے گا میں پر لگا کر نہیں اڑ رہا ہوں
ورنہ اتنی غلطی نہیں آتی
ظہیراحمدظہیر — جنوری 9، 2016 7:51 صبح
جزاک اللہ احسن الجزا
پھر میں کوشش کرتا ہوں
معاف کیجے گا میں پر لگا کر نہیں اڑ رہا ہوں
ورنہ اتنی غلطی نہیں آتی
ولی اللہ بھائی ۔ غلطی کوئی نہیں ہے۔ شروع میں سب ایسے ہی اشعار کہا کرتے ہیں۔ ہمت نہ ہاریں اور سعی جاری رکھیں ۔ آپ جلدی سیکھنے والوں مین سے ہیں۔:):):)
md waliullah qasmi — جنوری 9، 2016 8:31 صبح
شکریہ سر جی
اب جن اشعار میں ردیف آڑے آرہا ہے اس کا میں کیا کروں جس طرح کا مضمون باندھا ہے اس حساب سے کوئ قافیہ نہیں سمجھ میں آرہا تو کیا باقی اشعار کو ضائع کردوں
ظہیراحمدظہیر — جنوری 9، 2016 8:57 صبح
شکریہ سر جی
اب جن اشعار میں ردیف آڑے آرہا ہے اس کا میں کیا کروں جس طرح کا مضمون باندھا ہے اس حساب سے کوئ قافیہ نہیں سمجھ میں آرہا تو کیا باقی اشعار کو ضائع کردوں
ہاں بھائی۔ بعض دفعہ ایسا کرنا بھی پڑتا ہے۔ کوشش کر دیکھیں۔ اگر ٹھیک ہوجائین تو بہتر ورنہ نکال دیں۔ مچال کے طور پر یہ شعر دیکھ لیں اور اس طرح زمانہ بدل کر دیکھیں۔
سراپا حسن دیکھا تھا کبھی جو خواب میں ہم نے
رہی آنکھوں میں وہی تصویر مدت تک
md waliullah qasmi — جنوری 9، 2016 10:37 صبح
اگر یوں کر دیں تو کیسا رہیگا
رہی آنکھوں میں پھر میری وہی تصویر مدت تک
ظہیراحمدظہیر — جنوری 10، 2016 5:05 صبح
اگر یوں کر دیں تو کیسا رہیگا
رہی آنکھوں میں پھر میری وہی تصویر مدت تک
بالکل درست۔ بس اسی طرح دوسرے مصرعوں میں بھی ردوبدل کرکے دیکھ لیں۔
md waliullah qasmi — جنوری 10، 2016 7:47 صبح
آپ نے کچھ فرمایا نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%D8%B1-%D9%85%D8%B5%D8%B1%D8%B9-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D9%85%D8%B5%D8%AD%D9%81%D9%90-%D8%B1%D8%AE%D8%B3%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%B1-%D9%85%D8%AF%D8%AA-%D8%AA%DA%A9.86688/