غزل برائے اصلاح تنقید و تبصرہ!

مہدی نقوی حجاز — جنوری 30، 2014 2:13 شام
غزل (تازہ)
مجھ پہ پوری جو تو کھلی ہوئی ہے
آگ اوروں کو کیوں لگی ہوئی ہے
حالِ دل جاننے کی نعمتِ خاص
میرے رب سے مجھے ملی ہوئی ہے
شکر ہے میرے علم کی کشکول
میرے رحمٰن نے بھری ہوئی ہے
پی رہا ہوں شراب تو کیا ہے؟
مجھ کو رب کی رضا ملی ہوئی ہے
دے رہی ہے مری شہادت وہ
مجھ پہ انگلی اگر اٹھی ہوئی ہے
کپکپاتی اجل مرے آگے
ہاتھ باندھے ہوئے کھڑی ہوئی ہے
ایک ہڈّی ہمارے آگے ہے
اور وہ بھی گلی سڑی ہوئی ہے
ناسمجھ جبرئیل سے اک بار
گفتگو میری سرسری ہوئی ہے
وہ سمجھتا ہے میری سب باتیں
یار سے گفتگو مری ہوئی ہے
سات افلاک سے تو بس میرے
سر پہ اک چھاؤنی بنی ہوئی ہے
میں اگر چاہوں تو خدا بن جاؤں
یہ اجازت مجھے ملی ہوئی ہے
میرا رخ دیکھ کر نکلتا ہے
چاند پر ایسے روشنی ہوئی ہے
اس لیے پاک ہے حجازؔ کی ذات
کیونکہ اس ذات سے جڑی ہوئی ہے
مہدی نقوی حجازؔ
الف عین
مزمل شیخ بسمل
محمد یعقوب آسی
محمد اظہر نذیر — جنوری 30، 2014 2:30 شام
حالِ دل جاننے کی نعمتِ خاص
میرے رب سے مجھے ملی ہوئی ہے
شکر ہے میرے علم کی کشکول
میرے رحمٰن نے بھری ہوئی ہے
پی رہا ہوں شراب تو کیا ہے؟
مجھ کو رب کی رضا ملی ہوئی ہے
واہ
مہدی نقوی حجاز — جنوری 30، 2014 2:36 شام
حالِ دل جاننے کی نعمتِ خاص
میرے رب سے مجھے ملی ہوئی ہے
شکر ہے میرے علم کی کشکول
میرے رحمٰن نے بھری ہوئی ہے
پی رہا ہوں شراب تو کیا ہے؟
مجھ کو رب کی رضا ملی ہوئی ہے
واہ
محبت اور خیر حضور!
کچھ شاعری پر بھی بات کیجیے
مزمل شیخ بسمل — جنوری 30، 2014 2:40 شام
جی اصلاح سخن میں خوش آمدید۔
جیسا کہ استاد جی الف عین نے نشاندہی فرمائی تھی کہ قوافی درست نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں وضاحت کی جاتی ہے کہ
قافیہ کا دار و مدار اصل پر ہوتا ہے وصل پر نہیں۔
یہاں لفظی ساخت کے اعتبار سے لگی اور کھلی میں اصل "گاف" اور "لام" ہے۔ اور وصل انکے بعد والی "ی" ہے۔ اب چونکہ حرف وصل ایک ایسا حرف ہے جو لفظ میں اصلی نہیں بلکہ زائد ہوتا ہے اور قافیہ بنتا اصلی سے ہے تو ہمیں اس اصول سے ان قوافی کو رد کرنا پڑے گا۔ کیونکہ لگی اور کھلی میں "ی" ہٹا دیں تو پوری غزل میں کوئی قافیہ باقی نہیں رہے گا۔
اس صورت میں بطور حیلہ شعرا اور اساتذہ یہ کرتے ہیں کہ آزادی کی خاطر ایک اصل اور ایک زائد کو مطلعے میں قافیہ بنا کر آگے اصل اور زائد دونوں رواں دواں رکھتے ہیں۔
مثلاً:
لگی اور بھی، تھی، گئی، کو قافیہ کرنا درست ہے۔
یا پھر کھلی اور کبھی کو قافیہ کرلیں۔ یا اسی طرح مطلع کے ایک مصرعے کو ایسے بدلیں کہ ایک "ی" بطور اصلی آجائے اور ایک زائد۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 30، 2014 2:50 شام
جی اصلاح سخن میں خوش آمدید۔
جیسا کہ استاد جی الف عین نے نشاندہی فرمائی تھی کہ قوافی درست نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں وضاحت کی جاتی ہے کہ
قافیہ کا دار و مدار اصل پر ہوتا ہے وصل پر نہیں۔
یہاں لفظی ساخت کے اعتبار سے لگی اور کھلی میں اصل "گاف" اور "لام" ہے۔ اور وصل انکے بعد والی "ی" ہے۔ اب چونکہ حرف وصل ایک ایسا حرف ہے جو لفظ میں اصلی نہیں بلکہ زائد ہوتا ہے اور قافیہ بنتا اصلی سے ہے تو ہمیں اس اصول سے ان قوافی کو رد کرنا پڑے گا۔ کیونکہ لگی اور کھلی میں "ی" ہٹا دیں تو پوری غزل میں کوئی قافیہ باقی نہیں رہے گا۔
اس صورت میں بطور حیلہ شعرا اور اساتذہ یہ کرتے ہیں کہ آزادی کی خاطر ایک اصل اور ایک زائد کو مطلعے میں قافیہ بنا کر آگے اصل اور زائد دونوں رواں دواں رکھتے ہیں۔
مثلاً:
لگی اور بھی، تھی، گئی، کو قافیہ کرنا درست ہے۔
یا پھر کھلی اور کبھی کو قافیہ کرلیں۔ یا اسی طرح مطلع کے ایک مصرعے کو ایسے بدلیں کہ ایک "ی" بطور اصلی آجائے اور ایک زائد۔
صحیح! اس قاعدے کو تو میں نے بھلا ہی دیا تھا!! :) :)
ابن رضا — جنوری 30، 2014 3:25 شام
جی اصلاح سخن میں خوش آمدید۔
جیسا کہ استاد جی الف عین نے نشاندہی فرمائی تھی کہ قوافی درست نہیں ہیں۔ اسی سلسلے میں وضاحت کی جاتی ہے کہ
قافیہ کا دار و مدار اصل پر ہوتا ہے وصل پر نہیں۔
یہاں لفظی ساخت کے اعتبار سے لگی اور کھلی میں اصل "گاف" اور "لام" ہے۔ اور وصل انکے بعد والی "ی" ہے۔ اب چونکہ حرف وصل ایک ایسا حرف ہے جو لفظ میں اصلی نہیں بلکہ زائد ہوتا ہے اور قافیہ بنتا اصلی سے ہے تو ہمیں اس اصول سے ان قوافی کو رد کرنا پڑے گا۔ کیونکہ لگی اور کھلی میں "ی" ہٹا دیں تو پوری غزل میں کوئی قافیہ باقی نہیں رہے گا۔
اس صورت میں بطور حیلہ شعرا اور اساتذہ یہ کرتے ہیں کہ آزادی کی خاطر ایک اصل اور ایک زائد کو مطلعے میں قافیہ بنا کر آگے اصل اور زائد دونوں رواں دواں رکھتے ہیں۔
مثلاً:
لگی اور بھی، تھی، گئی، کو قافیہ کرنا درست ہے۔
یا پھر کھلی اور کبھی کو قافیہ کرلیں۔ یا اسی طرح مطلع کے ایک مصرعے کو ایسے بدلیں کہ ایک "ی" بطور اصلی آجائے اور ایک زائد۔

شیخ صاحب اختلافِ روی و توجیہ تو مجوزہ طور پر ختم ہوجائے گا مگر قوافی کی تکرار بھی کیا جائز یا مستحسن شمار کی جاتی ہے؟ جیسے ملی تین بار استعمال کیا گیا؟
خالد محمود چوہدری — جنوری 30، 2014 3:29 شام
شکر ہے میرے علم کی کشکول
میرے رحمٰن نے بھری ہوئی ہے
مزمل شیخ بسمل — جنوری 30، 2014 3:29 شام
شیخ صاحب اختلافِ روی و توجیہ تو مجوزہ طور پر ختم ہوجائے گا مگر قوافی کی تکرار بھی کیا جائز ہے؟ جیسے ملی تین بار استعمال کیا گیا؟

اس سے فرق نہیں پڑتا۔ اصول قافیہ کے مطابق تو آپ مطلع کے بعد تمام اشعار میں ایک ہی قافیہ رکھ لیں تب بھی غزل درست ہوگی لیکن غزل کی چاشنی ختم ہو جائے گی اس واسطے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ورنہ قاعدہ یہ ہے کہ ایسا کرنا بھی درست ہے۔ باقی ایک غزل میں ایک ہی لفظ کو ایک سے زائد بار قافیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
شیرازخان — جنوری 30، 2014 8:41 شام
پی رہا ہوں شراب تو کیا ہے؟
مجھ کو رب کی رضا ملی ہوئی ہے
ناسمجھ جبرئیل سے اک بار
گفتگو میری سرسری ہوئی ہے
میں اگر چاہوں تو خدا بن جاؤں
یہ اجازت مجھے ملی ہوئی ہے

جناب ایسے اشعار کیا سوچ کر لکھ رہے ہیں ؟؟ ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آیا؟؟
مہدی نقوی حجاز — جنوری 31، 2014 3:12 صبح
پی رہا ہوں شراب تو کیا ہے؟
مجھ کو رب کی رضا ملی ہوئی ہے
ناسمجھ جبرئیل سے اک بار
گفتگو میری سرسری ہوئی ہے
میں اگر چاہوں تو خدا بن جاؤں
یہ اجازت مجھے ملی ہوئی ہے

جناب ایسے اشعار کیا سوچ کر لکھ رہے ہیں ؟؟ ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آیا؟؟
سرکار، ہم تو سوچ سمجھ کر نہیں پی کر لکھتے ہیں
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے۔۔۔
ہمارا قلم تو محض وسیلہ ہے، ہم خیانت تو کر نہیں سکتے۔ الہامی اشعار میں ہم اپنی طرف سے رد و بدل کرنے کے قائل نہیں!
محمد یعقوب آسی — جنوری 31، 2014 11:24 صبح
معذرت خواہ ہوں۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 31، 2014 11:42 صبح
اتنی آزادی تو عطا کیجے سرکار!!
محمد یعقوب آسی — جنوری 31، 2014 11:44 صبح
اتنی آزادی تو عطا کیجے سرکار!!
میں نے آپ کو نہیں خود کو پابند کیا ہے۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 31، 2014 11:47 صبح
میں نے آپ کو نہیں خود کو پابند کیا ہے۔
سو ہماری سفارش پر خود کو آزادی بخش دیجیے حضور، اصلاح سخن کا زمرہ ہے۔
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ۔۔
خالد محمود چوہدری — جنوری 31، 2014 11:49 صبح
سرکار، ہم تو سوچ سمجھ کر نہیں پی کر لکھتے ہیں
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے۔۔۔
ہمارا قلم تو محض وسیلہ ہے، ہم خیانت تو کر نہیں سکتے۔ الہامی اشعار میں ہم اپنی طرف سے رد و بدل کرنے کے قائل نہیں!

توبہ توبہ کر یار مولویاں دے ہتھے چڑھ گیا تے فیر خیر نہیں۔ کفر دا فتویٰ سیکنٹاں وچ لا دینا اے۔
مہدی نقوی حجاز — جنوری 31، 2014 11:51 صبح
توبہ توبہ کر یار مولویاں دے ہتھے چڑھ گیا تے فیر خیر نہیں۔ کفر دا فتویٰ سیکنٹاں وچ لا دینا اے۔
میرے چاروں طرف منافق ہیں
اس لیے شہر سے چڑا ہوا ہوں
اور وہی
اپنے اپنے خداؤں کے قاتل
واجب القتل کہہ رہے ہیں مجھے!
حق سائیں سوہنا!
سید عاطف علی — جنوری 31، 2014 11:59 صبح
میرے خیال میں تو احباب کے پیشِ نظر "مرحوم حسرت موہانی کی رائے ہے کہ ۔ شعردراصل ہیں وہی حسرت۔سنتے ہی دل میں جو اتر جایئں۔۔۔۔
اگراس مجرد الہام کو کسی منتج تخیل کے اسلوب میں ڈھال کر قاری تک پہنچائیں تو مثل المعنی فی البطن الشاعر کا سہارا نہ لینا پڑے۔۔۔
ویسے قوافی اور تکنیکی پہلؤوں سے قطع نظر کچھ اشعار کی داد لازم ہے۔:)
مہدی نقوی حجاز — جنوری 31، 2014 2:45 شام
میرے خیال میں تو احباب کے پیشِ نظر "مرحوم حسرت موہانی کی رائے ہے کہ ۔ شعردراصل ہیں وہی حسرت۔سنتے ہی دل میں جو اتر جایئں۔۔۔ ۔
اگراس مجرد الہام کو کسی منتج تخیل کے اسلوب میں ڈھال کر قاری تک پہنچائیں تو مثل المعنی فی البطن الشاعر کا سہارا نہ لینا پڑے۔۔۔
ویسے قوافی اور تکنیکی پہلؤوں سے قطع نظر کچھ اشعار کی داد لازم ہے۔:)
سرکار، ہر بات دل میں نہیں اترتی۔ حسرت کی بات سے اختلاف نہیں، اس پر تضمین ہے کہ
دل میں اترے گا خود کلامِ حجاز
پہلے ظرف اپنا تم بڑا کر لو!
قوافی کے علاوہ جو تکنیکی پہلو ہیں ان پر بھی روشنی ڈالیے حضور والیٰ
سید عاطف علی — جنوری 31، 2014 4:13 شام
سرکار، ہر بات دل میں نہیں اترتی۔ حسرت کی بات سے اختلاف نہیں، اس پر تضمین ہے کہ
دل میں اترے گا خود کلامِ حجاز
پہلے ظرف اپنا تم بڑا کر لو!
قوافی کے علاوہ جو تکنیکی پہلو ہیں ان پر بھی روشنی ڈالیے حضور والیٰ
واہ مہدی بھائی۔ آپ کا یہ شعر سنتے ہی دل میں اتر گیا ۔:)
آپ کی مشق سخن اور ہمارے ظرف کی چکی کی مشقت سے اسی طرح ہمارا ظرف و فہم بھی " بڑا " ہو ہی جائے گا ۔اور ہم بالآخر کلام کے متحمل بھی ہو جائیں گے۔۔
تکنیکی بحث میں تو قوافی ہی ہیں بس وہ بھی قدرے تکلّف کے ساتھ لیکن میرے نزدیک آپ کے ان قوافی میں بھی کوئی خاص عیوب نہیں۔البتہ بہتری ممکن کہی جاسکتی ہے۔بہت آداب اور آفرین۔
عظیم — جنوری 31، 2014 5:41 شام
نذرانہ نہیں! سود ہے پیرانِ حرم کا
ہر خرقہ ء سالوس کے اندر ہے مہاجن
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81.71691/