Imran Niazi — مارچ 21، 2010 12:44 شام
اسلام و علیکم
دل نہ بہلے نہ میری آنکھ کی لالی جائے
روز ہی ضبط کی مقدار بڑھا لی جائے
یا تو ایسا ہو کسی دن وہ مجھے آن ملے
یا کسی طور مری خام خیالی جائے
اُس کے ہر جرم پہ، ہر ظلم پہ پردہ ہی رہے
میری ہر بات سرِ عام اچھالی جائے
کب تلک خود کو اندھیرے میںرکھیں
آج کی رات کوئی شمع جلا لی جائے
ماتمِ ہجر تو تنہائی طلب ہوتا ہے
یہ غلط ہے کے دنیا بھی بلا لی جائے
ایسے لوٹا ہوں میںناکام امیدوں کو لیئے
جیسےکالی کسی چوکھٹ سے سوالی جائے
جس نے سایہ بھی دیا ہے تو سدا جلتا ہوا
زندگی کی یہی دیوار گرا لی جائے
میںنے اپنوں سے نہیں جان بھی پیاری کی کبھی
یہ خیانت نہ مرے حصے میںڈالی جائے
لوگ ہنستے ہیں کہ عمران نے دھوکا کھایا
یہ نئی بات نہیں یوں نہ اچھالی جائے
الف عین — مارچ 21، 2010 4:33 شام
ماشاء ناللہ اچھی غزل ہے۔ مطلع پسند آیا۔
یہ مصرع
کب تلک خود کو اندھیرے میںرکھیں
ایک رکن کم ہے، یوں کہو۔
کب تلک خود کو اندھیرے میں اسی طرح رکھیں
ماتمِ ہجر تو تنہائی طلب ہوتا ہے
یہ غلط ہے کے دنیا بھی بلا لی جائے
دوسرا مصرع بحر سے خارج۔۔ یوں ہو سکتا ہے
یہ غلط بات کہ دنیا بھی بلا لی جائے
جس نے سایہ بھی دیا ہے تو سدا جلتا ہوا
زندگی کی یہی دیوار گرا لی جائے
میںنے اپنوں سے نہیں جان بھی پیاری کی کبھی
یہ خیانت نہ مرے حصے میںڈالی جائے
ان دونوں اشعار میں ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ ہے، بات واضح نہیں ہو رہی۔
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ’جس‘ سے خیال ’دیوار ‘ کی طرف نہیں جاتا، کسی شخص، محبوب کا خیال آتا ہے۔
اور دیواریں زندگی میں کہاں ہوتی ہیں؟
دوسرے شعر کا پہلا مصرع واضح نہیں۔
manjoo — مارچ 25، 2010 4:34 صبح
یا تو ایسا ہو کسی دن وہ مجھے آن ملے
یا کسی طور مری خام خیالی جائے
بہت خوب نیازی صاحب۔
کوئ سرائیکی وی سناؤ
Imran Niazi — مارچ 25، 2010 5:28 صبح
ماشاء ناللہ اچھی غزل ہے۔ مطلع پسند آیا۔
یہ مصرع
کب تلک خود کو اندھیرے میںرکھیں
ایک رکن کم ہے، یوں کہو۔
کب تلک خود کو اندھیرے میں اسی طرح رکھیں
ماتمِ ہجر تو تنہائی طلب ہوتا ہے
یہ غلط ہے کے دنیا بھی بلا لی جائے
دوسرا مصرع بحر سے خارج۔۔ یوں ہو سکتا ہے
یہ غلط بات کہ دنیا بھی بلا لی جائے
جس نے سایہ بھی دیا ہے تو سدا جلتا ہوا
زندگی کی یہی دیوار گرا لی جائے
میںنے اپنوں سے نہیں جان بھی پیاری کی کبھی
یہ خیانت نہ مرے حصے میںڈالی جائے
ان دونوں اشعار میں ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ ہے، بات واضح نہیں ہو رہی۔
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ’جس‘ سے خیال ’دیوار ‘ کی طرف نہیں جاتا، کسی شخص، محبوب کا خیال آتا ہے۔
اور دیواریں زندگی میں کہاں ہوتی ہیں؟
دوسرے شعر کا پہلا مصرع واضح نہیں۔
بہت بہت شکریہ سر،
یہ غلط بات کہ دنیا بھی بلا لی جائے یہ تو استعمال ہو سکتا ہے نا ؟
اور ، میںنے اپنوں سے نہیں جان بھی پیاری کی کبھی
یہ خیانت نہ مرے حصے میںڈالی جائے، اس شعر میں کہنے کا مقصد ہے کہ میں کسی دوست سے تو کچھ پیارا نہیں کیا تو یہ بھی تو ایک خیانت ہے سو اسے میرے میںنہ ڈالیں
Imran Niazi — مارچ 25، 2010 5:30 صبح
یا تو ایسا ہو کسی دن وہ مجھے آن ملے
یا کسی طور مری خام خیالی جائے
بہت خوب نیازی صاحب۔
کوئ سرائیکی وی سناؤ
بھائی یہ سرائیکی کا فورم نہیںہے نا !
کہیںاور ملاقات وئی تو ضرور سناؤں گا،
تعریف کرنے کے لئیے شکریہ
الف عین — مارچ 25، 2010 4:44 شام
پہلی بات تو میری اصلاح کی ہی ہے، اس کو بے شک قبول کر سکتے ہو۔
لیکن دوسری بات اب بھی میری ناقص سمجھ سے بالاتر ہے۔