غزل برائے اصلاح: دوا درود نہ دو سامنے شراب کرو

Danish Raza — مئی 5، 2017 5:29 شام
دوا درود نہ دو سامنے شراب کرو
جو ہو طبیب تو نا ذندگی خراب کرو
سمٹ گیاہوں ذمانے کی تنگ نظروں سے
مرا بکھیر کرو توڑ بے حساب کرو
مرے وجود کی دنیا حصار میں گم ہے
درون کچھ تو کرو کچھ تو آفتاب کرو
ادھار دین کا دنیا کا لے چکے مجھ سے
قیاس دور کرو اپنا احتساب کرو
لو آگیا ہوں بہت پاس... رو برو تیرے
لبوں کو زیر کرو وقفِ اضطراب کرو
تری یہ چرب ذبانی ہی وجہہِ شہرت ہے
سوال ایسا کرو آج لاجواب کرو
خداءِ نوح کہاں میراناخدا ہے کہاں
تو امتحان کرو آج سیلِ آب کرو
خدا کے بعد یقیں ہے اگر. وہ تیرا ہے
ظہور اب تو کرونہ کہ یوں سراب کرو
قصور وار تھا محفل میں جو سلام کیا
نہ یوں ذلیل کرو، یوں نہ اجتناب کرو
خضر سے کم تو نہیں مرتبہ ترا دانش
تو رہبری بھی کرو اب نہ یوں نقاب کرو
محمد عظیم الدین — مئی 5، 2017 9:44 شام
محفل میں خوش آمدید
اساتذہ کو ٹیگ کردیا کریں
الف عین
محمد ریحان قریشی
Danish Raza — مئی 6، 2017 11:06 صبح
محفل میں خوش آمدید
اساتذہ کو ٹیگ کردیا کریں
طریقہ معلوم نہیں تھا-
شاید آپ نےکردیا -شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D9%88%D8%A7-%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%AF-%D9%86%DB%81-%D8%AF%D9%88-%D8%B3%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%92-%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%B1%D9%88.96241/