غزل برائے اصلاح "سنو میں خاک ہوتا جا رہا ہوں"

محمدارتضیٰ آسی — اکتوبر 8، 2014 10:25 صبح
سنو میں خاک ہوتا جا رہا ہوں
حدِ افلاک ہوتا جا رہا ہوں
شرارت اسکی آنکھوں میں ہے ایسی
کہ میں چالاک ہوتا جا رہا ہوں
وظیفے میں اسے پڑھتا ہوں ہر شب
قسم سے پاک ہوتا جا رہا ہوں
گزرتی جا رہی ہے سانس اور میں
پسِ ادراک ہوتا جا رہا ہوں
عجب اک خوف ہے مجھ کو یہ آسی
بہت بے باک ہوتا جا رہا ہوں
محمد ارتضٰی آسی
محمدارتضیٰ آسی — اکتوبر 9، 2014 10:46 صبح
منتظر ہوں
استاد محترم جناب الف عین صاحب
محمدارتضیٰ آسی — اکتوبر 9، 2014 10:47 صبح
جناب محمد یعقوب آسی صاحب
جناب مزمل شیخ بسمل
محمد یعقوب آسی — اکتوبر 9، 2014 2:01 شام
اچھی غزل ہے، جناب آسیؔ صاحب۔
محمدارتضیٰ آسی — اکتوبر 9، 2014 2:04 شام
اچھی غزل ہے، جناب آسیؔ صاحب۔

متشکرم حضور
الف عین — اکتوبر 10، 2014 5:23 شام
اچھی غزل ہے، پسند آئی۔ لیکن
حدِ افلاک ہوتا جا رہا ہوں
۔۔یہ مصرع ابلاغ نہیں دے رہا۔ واضح کریں۔
وظیفے میں اسے پڑھتا ہوں ہر شب
قسم سے پاک ہوتا جا رہا ہوں
۔۔اس میں تھوڑا ابہام ہے۔ محبوب کو ہی بطور تسبیح پڑھا جا رہا ہے یا اس کے نام کی تسبیح ہے؟؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B3%D9%86%D9%88-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-%D8%AC%D8%A7-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.78053/