السلام علیکم
اساتذہ حضرات برائے مہربانی اس غزل کی اصلاح فرما دیں عین کرن ہوگا
روشنی کے گهر میں لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے پالے پڑگئے
کیا پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
کهانالے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڑ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود اجالے پڑ گئے
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهول
وقت بدلا تو وہ کالے پڑ گئے
انکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاؤں
دو قدم چلنے میں چھالے پڑ گئے
اساتذہ حضرات برائے مہربانی اس غزل کی اصلاح فرما دیں عین کرن ہوگا
روشنی کے گهر میں لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے پالے پڑگئے
کیا پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
کهانالے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڑ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود اجالے پڑ گئے
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهول
وقت بدلا تو وہ کالے پڑ گئے
انکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاؤں
دو قدم چلنے میں چھالے پڑ گئے