غزل برائے اصلاح شاعر یوسف جمیل یوسف

md waliullah qasmi — فروری 17، 2016 3:25 شام
السلام علیکم
اساتذہ حضرات برائے مہربانی اس غزل کی اصلاح فرما دیں عین کرن ہوگا
روشنی کے گهر میں لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے پالے پڑگئے
کیا پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
کهانالے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڑ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود اجالے پڑ گئے
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهول
وقت بدلا تو وہ کالے پڑ گئے
انکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاؤں
دو قدم چلنے میں چھالے پڑ گئے
md waliullah qasmi — فروری 17، 2016 3:31 شام
سر جی اصلاح فرما دیں آپ کے پسند کرنے کا مطلب غزل درست ہے جب کہ مجھے اصلاح چاہئے
ابن رضا — فروری 17، 2016 3:55 شام
اچھے اشعار ہیں ۔ کچھ میں ردوبدل کی ضرورت ہے جیسا کہ
روشنی کے گهر میں لالے پڑ گئے
جب چراغ آندھی کے پالے پڑگئے
روشنی کے گھر میں ڈاکے پڑ گئے پہلا مصرع پڑھ کے کچھ یوں گمان ہوتا ہے روشنی کوئی خاتون ہے
دوسرا مصرع سمجھ نہیں آیا
کیا پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
پتا
کهانا لے کے آئی ماں تو یوں لگا
خود بخود منہ میں نوالے پڑ گئے
ٹھیک ہے
جن میں بکتی تهیں دوائیں درد کی
ان دکانوں میں بھی تالے پڑ گئے
دکانوں پر
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود اجالے پڑ گئے
درست
شاخ پر تهے مختلف رنگوں کے پهول
وقت بدلا تو وہ کالے پڑ گئے
ایک شاخ پر مختلف رنگوں کے پھول کیسے ہو سکتے ہیں؟ پھول کالے نہیں پڑتے مرجھاتے ہیں۔ سوکھتے ہیں
انکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
آئیں کی جگہ آ گئیں ہونا چاہیے
ان کے چہرے پر بھی جھریاں آگئیں کرلیں
کس قدر نازک تھے یوسف اسکے پاؤں
دو قدم چلنے میں چھالے پڑ گئے
کس کی جگہ اس کردیں پاوں غلط باندھاہے۔ پچھلے شعر میں ان کے سے تکلم کیا اس میں اس کے سے؟
سید اسد معروف — فروری 17، 2016 7:35 شام
بہت اچھے یوسف صاحب
کیا پتہ کیا بزم میں اس نے کہا
سوچ میں سب سننے والے پڑ گئے
جگنوؤں سے گهر تھا روشن اس قدر
حیرتوں میں خود اجالے پڑ گئے
الف عین — فروری 18، 2016 6:49 صبح
ابن رضا نے مجھ سے زیادہ ہی شدید رویہ اپنایا ہے اعتراضات میں۔
دوکانوں میں تالا لگانا درست ہے، دوکانوں پر تو کم از کم میں نے نہیں سنا۔ شاید پبجابی میں محاورہ ہو جو پاکستان میں زیادہ عام ہو۔
شاخ کی جگہ باغ کہا جا سکتا ہے۔ ایک شاخ پر تو رنگ برنگے پھول عام نہیں، لیکن نا ممکن بھی نہیں۔ ’کالے‘ پڑنا محاورے کے خلاف ہے لیکن قافئے کا کیا کیا جائے؟
ابن رضا — فروری 18، 2016 7:48 صبح
ابن رضا نے مجھ سے زیادہ ہی شدید رویہ اپنایا ہے اعتراضات میں۔
دوکانوں میں تالا لگانا درست ہے، دوکانوں پر تو کم از کم میں نے نہیں سنا۔ شاید پبجابی میں محاورہ ہو جو پاکستان میں زیادہ عام ہو۔
شاخ کی جگہ باغ کہا جا سکتا ہے۔ ایک شاخ پر تو رنگ برنگے پھول عام نہیں، لیکن نا ممکن بھی نہیں۔ ’کالے‘ پڑنا محاورے کے خلاف ہے لیکن قافئے کا کیا کیا جائے؟
سر اسی طرح سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے کچھ غلط بولیں گے تو درست سیکھنے کو ملے گا۔ :)
اکمل زیدی — فروری 18، 2016 7:58 صبح
نکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
واہ واہ کیا ہی خوب ڈھنگ سے لکھی گئی ہے ...
اکمل زیدی — فروری 18، 2016 8:04 صبح
سر اسی طرح سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے کچھ غلط بولیں گے تو درست سیکھنے کو ملے گا۔ :)
رضا بھائی ایک بات یادآگائی آپ کے اس جملے سے ..سوچا برمحل تذکرہ کردوں....ہمارے ایک دوست نے ایک عام بول چال والا ایک جملہ کہا کے "بھئی اب کیا کریں غلطی ہوگئی اب آخر انسان ہوں ٹھہرا جو غلطی کا پتلا " میں نے صرف یہ جواب دیا تھا آپ نے غلطی کر کے اپنے آپ کو انسان ثابت کرنے کی کوشش تو نہیں کی ...حالاں کے اس کے اور بھی طریقے ہیں ...:D
md waliullah qasmi — فروری 18، 2016 8:27 صبح
شکریہ سر بہت خوشی ہوئ آپ نے لب کشائ کی اور ساتھیوں کا بھی شکر گزار ہو ں کہ انہوں نے پسند کیا
الف عین — فروری 19، 2016 7:15 صبح
ریاں تقطیع کرنا پڑے گا، جو غلط ہے۔ایک بات اور
انکے چہرے پر بهی آئیں جهریاں
میری آنکھوں میں بھی جالے پڑ گئے
ماضی کے صیغے کی بہتر صورت تو ابن رضا نے بتا دی ہے۔
’’آئیں کی جگہ آ گئیں ہونا چاہیے
ان کے چہرے پر بھی جھریاں آگئیں کرلیں‘‘
لیکن اس اصلاح میں ’جھریاں کا تلفظ بگڑ جاتا ہے۔ تشدید نہیں آتی، جھریاں بر وزن چھ
ایم اے راجا — فروری 19، 2016 4:04 شام
عمدہ کوشش ہے
md waliullah qasmi — فروری 20، 2016 1:29 صبح
سبھی دوستوں کا شکریہ جزاکم اللہ خیرا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81-%D8%AC%D9%85%DB%8C%D9%84-%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81.88058/