غزل برائے اصلاح :: عشق ہو جائے تو پھر ہوش کہاں رہتا ہے

ریحان احمد ریحانؔ — اپریل 15، 2020 6:56 شام
تمام احباب سے خصوصاً سر الف عین صاحب سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی اصلاح فرمائیں
جب تلک نام ترا وردِ زباں رہتا ہے
دل کی بستی میں عجب ایک سماں رہتا ہے
ایک مدت ہوئی وہ شخص جدا ہے مجھ سے
اب خدا جانے وہ کیسا ہے کہاں رہتا ہے
یوں نہیں ہے کہ ہمیں تیرے ستم یاد نہیں
زخم بھر جائے اگر پھر بھی نشاں رہتا ہے
ہیں بجا سب تری باتیں بھی مگر اے ناصح
عشق ہو جائے تو پھر ہوش کہاں رہتا ہے
کوئی رت ہو کوئی موسم ہو کوئی عالم ہو
عشق کا شعلہ مرے دل میں تپاں رہتا ہے
الف عین — اپریل 16، 2020 6:47 صبح
اچھی اور درست غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں
محفل میں خوش آمدید
اویس رضا — اپریل 16، 2020 6:52 صبح
اچھی اور درست غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں
محفل میں خوش آمدید
جی استادِ محترم بہت شکریہ حوصلہ افزائی کیلئے
الف عین — اپریل 16، 2020 7:06 صبح
آپ دونوں آپ ہی ہیں؟
ریحان احمد ریحانؔ — اپریل 16، 2020 7:15 صبح
آپ دونوں آپ ہی ہیں؟
استادِ محترم میں سمجھا نہیں آپ کیا پوچھ رہے ہیں
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 16، 2020 7:31 صبح
ریحان احمد ریحانؔ کی غزل پر اویس رضا استادِ محترم کا شکریہ ادا کررہے ہیں ۔ استادِ محترم کا شک تب تو بجا ہے۔
جی استادِ محترم بہت شکریہ حوصلہ افزائی کیلئے

آپ دونوں آپ ہی ہیں؟
ریحان احمد ریحانؔ — اپریل 16، 2020 7:43 صبح
اچھا جی میں اب سمجھا میں نے پہلے یہ اکاونٹ بنایا تھا لیکن اس پر غلطی سے اپنے بھائی کا نام لکھ دیا لیکن بعد میں پتا چلا کہ میں اسے تبدیل نہیں کر سکتا اسلیے میں نے اپنے نام کا نئہ اکاونٹ بنا لیا
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 16، 2020 11:37 صبح
اچھی غزل ہے ماشاءاللہ۔ بس آخری شعر کو عوام کے ہتھے چڑھنے سے بچائیے گا، وہ ’’تپاں‘‘ کو ’’تپا‘‘ بنادیں گے :)
الف عین — اپریل 17، 2020 6:53 صبح
ریحان احمد ریحانؔ کی غزل پر اویس رضا استادِ محترم کا شکریہ ادا کررہے ہیں ۔ استادِ محترم کا شک تب تو بجا ہے۔
درست سمجھے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B9%D8%B4%D9%82-%DB%81%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%DB%81%D9%88%D8%B4-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.111396/