غزل برائے اصلاح "فاعلاتن مفاعلن فَعِلن"

فرحان محمد خان — جولائی 3، 2017 11:43 صبح
عشق کا اب ملال تھوڑی ہے
دل ہے جی یرغمال تھوڑی ہے
باتوں کی بات ہے میاں کوئی
چار لمحوں کا سال تھوڑی ہے
موت تو ہم کو آنی ہے آخر
عشقِ جی کو زوال تھوڑی ہے
یہ ترے حسن کی کرامت ہے
تیرا اس میں کمال تھوڑی ہے
یہ مری ذات پر ہیں سب کے سب
ان پہ کوئی سوال تھوڑی ہے
آپ کا مجھ خیال تھوڑی ہے
اور کوئی اِتصال تھوڑی ہے
پھول کا ذکر میں کیا کرتا
پھول اس کی مثال تھوڑی ہے
یہ فقط اک کتاب ہے صاحب
یہ مرے پاس ڈھال تھوڑی ہے
وہ غزل میں کہاں سے لاتا جی
یہ غزل ہے غزال تھوڑی ہے
سر الف عین
فرحان محمد خان — جولائی 3، 2017 12:15 شام
دیگر اساتذہء کرام
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 12:44 شام
تھوڑا ہی ہے بمعنی بالکل نہیں ہے غلط العام میں تھوڑی ہے ہوگیا لیکن ہمارے ناقص خیال کے مطابق شعر میں استعمال شاید جائز نہ ہو؟ کیا فرماتے ہیں فقہائے شعروادب بیچ اس مسئلے کے؟
محمد تابش صدیقی — جولائی 3، 2017 12:56 شام
تھوڑا ہی ہے بمعنی بالکل نہیں ہے غلط العام میں تھوڑی ہے ہوگیا لیکن ہمارے ناقص خیال کے مطابق شعر میں استعمال شاید جائز نہ ہو؟ کیا فرماتے ہیں فقہائے شعروادب بیچ اس مسئلے کے؟
شاعر راحت اندوری کی مشہور غزل
اگر خلاف ہیں، ہونے دو، جان تھوڑی ہے
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 1:15 شام

کسی لفظ کا اساتذہ کے ہاں استعمال حجت ہوسکتا ہے، موجودہ دور کے شاعروں کا کہا حجت نہیں کہلایا جاسکتا۔
محمد تابش صدیقی — جولائی 3، 2017 1:21 شام
کسی لفظ کا اساتذہ کے ہاں استعمال حجت ہوسکتا ہے، موجودہ دور کے شاعروں کا کہا حجت نہیں کہلایا جاسکتا۔
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہو جاوے تو سر سے کیا احسان گیا
میر تقی میر
محمد تابش صدیقی — جولائی 3، 2017 1:28 شام
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہو جاوے تو سر سے کیا احسان گیا
میر تقی میر
غالباً مفہوم میں فرق ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 1:29 شام
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہو جاوے تو سر سے کیا احسان گیا
میر تقی میر

چونکہ منت مونث ہے لہٰذا تھوڑی ہے بمعنی کم ہے استعمال ہوا۔ تھوڑا ہی ہے کے معنوں میں نہیں
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 1:51 شام
ہماری صلاح
باتوں کی بات ہے میاں کوئی
چار لمحوں کا سال تھوڑی ہے

اسے "بات کی بات" یا "بات سی بات" کردیجیے
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 1:53 شام
آپ کا مجھ خیال تھوڑی ہے
اور کوئی اِتصال تھوڑی ہے

اس شعر کو نکال دیجیے
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 2:01 شام
پھول کا ذکر میں کیا کرتا
پھول اس کی مثال تھوڑی ہے
"کیا کرتا" بمعنی کیوں کرتا، کیسے کرتا کا غلط تلفظ باندھا ہے آپ نے۔
اگر یہ استمراری کے معنوں میں باندھا ہے تو درست ہوسکتا تھا لیکن اس صورت میں دوسرے مصرع میں مضمون پورا نہیں ہورہا۔
فرحان محمد خان — جولائی 3، 2017 6:28 شام
شکریہ سر
خاک سے آدم کر دکھلایا یہ منت کیا تھوڑی ہے
اب سر خاک بھی ہو جاوے تو سر سے کیا احسان گیا
میر تقی میر
جزاک اللہ سر
فرحان محمد خان — جولائی 3، 2017 6:30 شام
شکریہ سر
ہماری صلاح
اسے "بات کی بات" یا "بات سی بات" کردیجیے
الف عین — جولائی 4، 2017 5:43 شام
تھوڑی ہے تو قبول کیا جا سکتا ہے میرے خیال میں۔ اب ایک ایک کر کے پوسٹ مارٹم
عشق کا اب ملال تھوڑی ہے
دل ہے جی یرغمال تھوڑی ہے
۔۔دو لخت ہے۔ دونوں میں ربط نہیں لگ رہا۔ ’دل ہے جی‘ کا بیابیہ بھی اچھا نہیں
باتوں کی بات ہے میاں کوئی
چار لمحوں کا سال تھوڑی ہے
÷÷ چارلمحے کیوں!! اس کا مفہوم بھی سمجھ نہیں سکا۔
موت تو ہم کو آنی ہے آخر
عشقِ جی کو زوال تھوڑی ہے
۔۔۔ عشقِ جی!!! ’جی‘ ہندی الاصل ہے۔ اضافت غلط ہے۔ ’عشق بھی لا زوال تھوڑی ہے‘ کہیں تو ممکن ہے۔
یہ ترے حسن کی کرامت ہے
تیرا اس میں کمال تھوڑی ہے
÷÷خوب، درست
یہ مری ذات پر ہیں سب کے سب
ان پہ کوئی سوال تھوڑی ہے
÷÷واضح نہیں، یہ کون؟
آپ کا مجھ خیال تھوڑی ہے
اور کوئی اِتصال تھوڑی ہے
بیچ میں ایک اور مطلع؟ وہ بھی بے معنی!!! خلیل میاں کا ددرست مشورہ ہے
پھول کا ذکر میں کیا کرتا
پھول اس کی مثال تھوڑی ہے
۔۔ کیا اور کَیا پر بات ہو چکی۔ الفاظ بدلو تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ جیسے
پھول کا ذکر کیوں کروں آخر
یہ فقط اک کتاب ہے صاحب
یہ مرے پاس ڈھال تھوڑی ہے
÷÷درست،
وہ غزل میں کہاں سے لاتا جی
یہ غزل ہے غزال تھوڑی ہے
÷÷÷غزال ہوتا تو لے آتے!!! یہ بھی بے معنی لگتا ہے
فرحان محمد خان — جولائی 4، 2017 6:10 شام
تھوڑی ہے تو قبول کیا جا سکتا ہے میرے خیال میں۔ اب ایک ایک کر کے پوسٹ مارٹم
عشق کا اب ملال تھوڑی ہے
دل ہے جی یرغمال تھوڑی ہے
۔۔دو لخت ہے۔ دونوں میں ربط نہیں لگ رہا۔ ’دل ہے جی‘ کا بیابیہ بھی اچھا نہیں
باتوں کی بات ہے میاں کوئی
چار لمحوں کا سال تھوڑی ہے
÷÷ چارلمحے کیوں!! اس کا مفہوم بھی سمجھ نہیں سکا۔
موت تو ہم کو آنی ہے آخر
عشقِ جی کو زوال تھوڑی ہے
۔۔۔ عشقِ جی!!! ’جی‘ ہندی الاصل ہے۔ اضافت غلط ہے۔ ’عشق بھی لا زوال تھوڑی ہے‘ کہیں تو ممکن ہے۔
یہ ترے حسن کی کرامت ہے
تیرا اس میں کمال تھوڑی ہے
÷÷خوب، درست
یہ مری ذات پر ہیں سب کے سب
ان پہ کوئی سوال تھوڑی ہے
÷÷واضح نہیں، یہ کون؟
آپ کا مجھ خیال تھوڑی ہے
اور کوئی اِتصال تھوڑی ہے
بیچ میں ایک اور مطلع؟ وہ بھی بے معنی!!! خلیل میاں کا ددرست مشورہ ہے
پھول کا ذکر میں کیا کرتا
پھول اس کی مثال تھوڑی ہے
۔۔ کیا اور کَیا پر بات ہو چکی۔ الفاظ بدلو تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔ جیسے
پھول کا ذکر کیوں کروں آخر
یہ فقط اک کتاب ہے صاحب
یہ مرے پاس ڈھال تھوڑی ہے
÷÷درست،
وہ غزل میں کہاں سے لاتا جی
یہ غزل ہے غزال تھوڑی ہے
÷÷÷غزال ہوتا تو لے آتے!!! یہ بھی بے معنی لگتا ہے
شکریہ سر
فرحان محمد خان — جولائی 4، 2017 6:15 شام
(مجھ پہ ہیں یہ سوال سب کے سب)
یہ مری ذات پر ہیں سب کے سب
ان پہ کوئی سوال تھوڑی ہے
الف عین — جولائی 4، 2017 6:26 شام
(مجھ پہ ہیں یہ سوال سب کے سب)
یہ مری ذات پر ہیں سب کے سب
ان پہ کوئی سوال تھوڑی ہے
سب سوالات میری ذات پہ ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%86-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86-%D9%81%D9%8E%D8%B9%D9%90%D9%84%D9%86.97409/