غزل برائے اصلاح "مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن"

فرحان محمد خان — اگست 6، 2017 12:43 شام
یوں تیری یاد کب سے مناتا رہا ہوں میں
اپنے ہی شعر خود سے چھپاتا رہا ہوں میں
حیرت ہے تیرے بعد مجھے تب ہوا تھا کیا
آواز دے کے خود کو بھلاتا رہا ہوں میں
احساس کی حدود سے کب سے نکل کیا
تنہائی میں خدا کو بھی پاتا رہا ہوں میں
کھوٹے جو سکے ہیں تو کوئی بات ہی نہیں
کاغذ کی کشتیاں بھی چلاتا رہا ہوں میں
یہ رشتہ جسم و روح کا ہے جو بنا ہوا
اس رشتہ کو بھی یارو نبھاتا رہا ہوں میں​
فرحان محمد خان — اگست 6، 2017 12:45 شام
سر الف عین
دیگر اساتذہء کرام
سید لبید غزنوی — اگست 6، 2017 12:57 شام
ما شاء اللہ اچھی کاوش ۔۔۔اصلاح کا کام تو اساتذہ ہی کر سکتے ہیں۔۔@محمدیعقوب آسی الف عین محمد خلیل الرحمٰن
فرحان محمد خان — اگست 6، 2017 12:59 شام
ما شاء اللہ اچھی کاوش ۔۔۔اصلاح کا کام تو اساتذہ ہی کر سکتے ہیں۔۔@محمدیعقوب آسی الف عین محمد خلیل الرحمٰن
شکریہ جناب آپ کا حُسنِ نظر:)
سید لبید غزنوی — اگست 6، 2017 1:04 شام
شکریہ جناب آپ کا حسنِ نظر:)
نیرنگ خیال
شکریہ برادرم۔۔
فرحان محمد خان — اگست 6، 2017 1:10 شام
سر محمد وارث
شکیل عباس — اگست 7، 2017 5:21 صبح
ما شاء اللہ بہت خوب۔۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 7، 2017 5:57 صبح
اساتذہ کی آمد سے قبل ہم ہی اپنی صلاح پیش کردیں، گر قبول افتد۔۔
حیرت ہے تیرے بعد مجھے
ہوگیا ہے
کیا​
آواز دے کے خود کو بھلاتا رہا ہوں میں

احساس کی حدود سے کب کا نکل گیا
تنہائی میں خدا کو بھی پاتا رہا ہوں میں​

کھوٹے جو سکے ہیں تو کوئی بات ہی نہیں
کاغذ کی کشتیاں بھی چلاتا رہا ہوں میں
یہ رشتہ جسم و روح کا ہے جو بنا ہوا
اس رشتہ کو بھی یارو نبھاتا رہا ہوں میں​
کھوٹے ہیں یار دوست، چلو! کچھ بُرا نہیں
کاغذ کی کشتیاں بھی چلاتا رہا ہوں میں​

رشتہ یہ جسم و روح کا جوں ہے بنا ہوا
اس کو بھی اے رفیق نبھاتا رہا ہوں میں​
فرحان محمد خان — اگست 7، 2017 8:03 صبح
ما شاء اللہ بہت خوب۔۔۔۔
شکریہ جناب
فرحان محمد خان — اگست 7، 2017 8:19 صبح
اساتذہ کی آمد سے قبل ہم ہی اپنی صلاح پیش کردیں، گر قبول افتد۔۔
حیرت ہے تیرے بعد مجھے
ہوگیا ہے
کیا​
آواز دے کے خود کو بھلاتا رہا ہوں میں

احساس کی حدود سے کب کا نکل گیا
تنہائی میں خدا کو بھی پاتا رہا ہوں میں​

کھوٹے ہیں یار دوست، چلو! کچھ بُرا نہیں
کاغذ کی کشتیاں بھی چلاتا رہا ہوں میں​

رشتہ یہ جسم و روح کا جوں ہے بنا ہوا
اس کو بھی اے رفیق نبھاتا رہا ہوں میں​
شکریہ سر بے حد :)
فرحان محمد خان — اگست 7، 2017 8:23 صبح
سر محمد خلیل الرحمٰن
یوں تیرا ہجر یار مناتا رہا ہوں میں
الف عین — اگست 7، 2017 11:46 شام
سر محمد خلیل الرحمٰن
یوں تیرا ہجر یار مناتا رہا ہوں میں
اگر مطلع کی ترمیم کی ہے تو یہ مصرع بہت بہتر ہے۔ کیونکہ یاد منائی نہیں جاتی۔ ہاں، ہجر کو بطور تہوار منایا جا سکتا ہے مجازاً۔
خلیل میاں کی پہلی دو ترمیمات تو خوب ہیں، لیکن بقیہ دونوں کی بہتر شکلیں بھی ممکن ہیں۔
ان سب میں خامی یہ تھی کہ حروف کا اسقاط نا خوشگوار لگ رہا تھا جس سے روانی متاثر ہوتی ہے۔
فرحان محمد خان — اگست 8، 2017 11:08 صبح
یوں تیرا ہجر یار مناتا رہا ہوں میں
اپنے ہی شعر خود سے چھپاتا رہا ہوں میں
حیرت ہے تیرے بعد مجھے ہوگیا ہے کیا
آواز دے کے خود کو بھلاتا رہا ہوں میں
احساس کی حدود سے کب کا نکل گیا
تنہائی میں خدا کو بھی پاتا رہا ہوں میں
سر باقی دونوں پہ کام کر رہا ہوں کچھ بہتری ہو تو پیش کرتا ہوں
اگر مطلع کی ترمیم کی ہے تو یہ مصرع بہت بہتر ہے۔ کیونکہ یاد منائی نہیں جاتی۔ ہاں، ہجر کو بطور تہوار منایا جا سکتا ہے مجازاً۔
خلیل میاں کی پہلی دو ترمیمات تو خوب ہیں، لیکن بقیہ دونوں کی بہتر شکلیں بھی ممکن ہیں۔
ان سب میں خامی یہ تھی کہ حروف کا اسقاط نا خوشگوار لگ رہا تھا جس سے روانی متاثر ہوتی ہے۔
الف عین — اگست 8، 2017 4:25 شام
ٹھیک ہیں یہ تینوں اشعار
ر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%85%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AA%D9%8F-%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D9%84-%D9%81%D8%A7%D8%B9%D9%84%D9%86.97843/