عمار ابن ضیا — جنوری 18، 2009 3:35 شام
غزل
اصلاح کے لیے
نشہ ہے تم کو ابھی اپنی جس جوانی کا
بہت قریب ہے انجام اس کہانی کا
وہ سہہ رہا ہے تِرے نام کی بھی رسوائی
سمجھ رہے ہو جسے اپنے نام پر ٹیکا
اگرچہ دیر ہی سے، مان جاؤگے لیکن
جو ہم نہیں ہوں تو محفل کا رنگ ہو پھیکا
وہ ایک مرضِ محبت کہ چھوڑتا ہی نہیں
ہر اِک طبیب لگاوے ہے زور چوٹی کا
ہزار کاموں میں مشغول ہم رہے عمار!
مگر چکا نہ سکے قرض اپنی مٹی کا
عمار ابن ضیا — جنوری 18، 2009 3:37 شام
عرصے بعد آمد ہوئی ہے۔

اور اس میں بھی کچھ نقائص ہیں، جیسے کہ مطلع میں۔ غزل کا ردیف "ی کا" ہے جبکہ مطلع کا ردیف "نی کا" ہے۔
محمد امین — جنوری 18، 2009 3:44 شام
تمہارا "موڈ" اور غزل کا رنگ کچھ چغلی کھا رہا ہے ۔۔۔۔ ہاہاہا
میرے بھائی بہت اچھا لکھا ہے، اچھے خیالات کو رقم کیا ہے، اغلاط تو اساتذہ ہی بتائیں گے، مجھے تو بہت اچھی لگی غزل۔۔۔ہاں بس وہی ردیف میں تھوڑا اٹکا میں۔۔۔
عمار ابن ضیا — جنوری 18، 2009 4:02 شام
تمہارا "موڈ" اور غزل کا رنگ کچھ چغلی کھا رہا ہے ۔۔۔۔ ہاہاہا
میرے بھائی بہت اچھا لکھا ہے، اچھے خیالات کو رقم کیا ہے، اغلاط تو اساتذہ ہی بتائیں گے، مجھے تو بہت اچھی لگی غزل۔۔۔ہاں بس وہی ردیف میں تھوڑا اٹکا میں۔۔۔
شکریہ امین۔۔۔ موڈ اور غزل کا رنگ مجھ سے بھی چغلی کھارہا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ لگایا اور کہا کہ چپ کرکے بیٹھ، ایسی باتیں سب سے نہیں کرتے۔۔۔

مغزل — جنوری 19، 2009 7:21 صبح
غزل
نشہ ہے تم کو ابھی اپنی جس جوانی کا
بہت قریب ہے انجام اس کہانی کا
وہ سہہ رہا ہے تِرے نام کی بھی رسوائی
سمجھ رہے ہو جسے اپنے نام پر ٹیکا
اگرچہ دیر ہی سے، مان جاؤگے لیکن
جو ہم نہیں ہوں تو محفل کا رنگ ہو پھیکا
وہ ایک مرضِ محبت کہ چھوڑتا ہی نہیں
ہر اِک طبیب لگاوے ہے زور چوٹی کا
ہزار کاموں میں مشغول ہم رہے عمار!
مگر چکا نہ سکے قرض اپنی مٹی کا
’’ بہت خوب ، لاجواب غزل ہے ، بہت شکریہ پیش کرنے کیلیے ‘‘
arifkarim — جنوری 19، 2009 8:53 صبح

عمار یہ کراچی میں نئے شاعری کے بم کیوں پھاڑ رہے ہو؟ کہیں کسی سے عشق وشق تو نہیں سچ مچ میں ہو گیا!
عمار ابن ضیا — جنوری 19، 2009 10:40 صبح

عمار یہ کراچی میں نئے شاعری کے بم کیوں پھاڑ رہے ہو؟ کہیں کسی سے عشق وشق تو نہیں سچ مچ میں ہو گیا!
کیوں بھئی؟ بم کہاں پھاڑ رہا ہوں؟ چنگاری کہہ سکتے ہو

عشق وشق پیار ویار۔۔۔ ہمم۔۔۔ ڈنڈے پڑوانے ہیں کیا؟

الف عین — جنوری 19، 2009 4:07 شام
مطلع میں واقعی ایطا ہے جو ایک سقم ہے۔ اس کے علاوہ چوتھے شعر میں ’مرض‘ کا تلفظ غلط نظم ہوا ہے۔ درست مَرَض ہے۔ م اور ر دونوں پر زبر۔ باقی فنی غلطی تو کوئی نہیں ہے بظاہر۔ ویسے اچھی غزل ہے، لیکن تمھاری حال کی غزلوں کے پائے کی نہیں ہے۔
خرم شہزاد خرم — جنوری 20، 2009 5:37 صبح
غزل کی پسندگی یا نا پسندگی کی بات تو بعد میں کروں گا پہلے مجھے کچھ سمجھ تو آئے
اگر غزل کا ردیف مطلع میں نی کا ہے اور باقی غزل میں ی کا ہے تو اس غزل کے قافیے کون سے ہیں
عمار ابن ضیا — جنوری 20، 2009 8:30 صبح
خرم! دیکھو، غزل کے قافیے تو یہ ہیں نا، ٹی، نی، پھی۔ لیکن مطلع کے دونوں مصرعوں میں "نی" آیا ہے۔ تو یہ قافیہ کہاں رہا؟ ردیف ہوگیا نا۔۔۔!
ایم اے راجا — جنوری 24، 2009 5:58 شام
اچھی غزل ہے، مگر قافیہ مطلع کے علاوہ زوار دار نہیں، جو کہ غزل کا رنگ کر رہا ہے پھیکا
