عبید انصاری — مارچ 24، 2017 1:16 شام
اصلاح و تبصرہ مطلوب ہے۔
جوکریں برملا کیجے
عرض یوں مدعا کیجے
یہ نقاب اب اٹھا لیجے
ایک محشر بپا کیجے
اِک ذری مسکراہٹ سے
دور سب کا گِلہ کیجے
کیسے ان کو منائیں گے
مضطرب ہیں، دعا کیجے
درد کی 'انتہا' کیا ہے؟
عشق کی 'ابتدا' کیجے
بس! کہ اب ظلم کی حد ہے
ظلم چھوڑیں وفا کیجے
قتل کرکے وہ کہتے ہیں
غلطی ہوگئی، شما کیجے
اے عبید اس کی یادوں میں
آپ خود کو فنا کیجے
محمد تابش صدیقی — مارچ 24، 2017 1:24 شام
عبید انصاری — مارچ 24، 2017 1:29 شام
ایک اوربات بتا دیجے کہ یہاں کسی ممبر کوذرا 'زیادہ' ٹیگ کرنا ان کو زچ کرنے کے زمرے میں تو نہیں آتا؟
محمد تابش صدیقی — مارچ 24، 2017 1:31 شام
ایک لڑی میں ایک دفعہ ٹیگ کریں.

یا پھر اساتذہ کی طرف سے اصلاح کے بعد دوبارہ پوسٹ کریں تو دوبارہ ٹیگ کر سکتے ہیں.
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 24، 2017 1:33 شام
ہماری صلاح یہ ہے کہ اساتذہ کی آمد سے پہلے مطلع اول کو نکال باہر کیجے۔ نیز بے وفاؤ! اردو نہیں بلکہ پنجابی انداز ہے اسے بھی درست کرلیجے۔ باقی اساتذہ جانیں
"دیجے" کو بھی ہٹانا بہتر ہوگا۔
محمد ریحان قریشی — مارچ 24، 2017 1:59 شام
"دیجے" کو بھی ہٹانا بہتر ہوگا۔
یعنی یہ دراصل دیجیے ہے اور بحر کے افاعیل ہیں فاعلن فاعلن فاعلن(متدارک مسدس سالم)۔
عبید انصاری — مارچ 24، 2017 2:05 شام
ہماری صلاح یہ ہے کہ اساتذہ کی آمد سے پہلے مطلع اول کو نکال باہر کیجے۔ نیز بے وفاؤ! اردو نہیں بلکہ پنجابی انداز ہے اسے بھی درست کرلیجے۔ باقی اساتذہ جانیں
"دیجے" کو بھی ہٹانا بہتر ہوگا۔
تعمیل کی گئی، اب دیکھیے گا۔
عبید انصاری — مارچ 24، 2017 2:06 شام
یعنی یہ دراصل دیجیے ہے یعنی بحر کے افاعیل ہیں فاعلن فاعلن فاعلن(متدارک مسدس سالم)۔
۔۔۔۔
محمد ریحان قریشی — مارچ 24، 2017 2:10 شام
اِک ذری مسکراہٹ سے
کیسے ان کو منائیں گے
درد کی 'انتہا' کیا ہے؟
بس! کہ اب ظلم کی حد ہے
قتل کرکے وہ کہتے ہیں
غلطی ہوگئی، شما کیجے
اے عبید اس کی یادوں میں
یہ تمام مصرعے بحر سے خارج محسوس ہو رہے ہیں۔
الف عین — مارچ 24، 2017 4:25 شام
دیجیے کے ساتھ وزن درست ہو جاتا ہے۔ باقی جو مصرعے ریحان نے وزن سے خارج بتائے ہیں، ان کو بھی الفاظ کی نشست بدلنے یا الفاظ بدلنے سے درست ہو سکتے ہیں۔ مفہوم کے حساب سے یہ دیکھیں۔
کیسے ان کو منائیں گے
مضطرب ہیں، دعا کیجے
کون مضطرب ہیں، ہم یا وہ؟ اور اضطراب کا منانے سے تعلق۔ منانا تو ناراض ہونے والے کو کیا جاتا ہے!
عبید انصاری — مارچ 24، 2017 4:33 شام
دیجیے کے ساتھ وزن درست ہو جاتا ہے۔ باقی جو مصرعے ریحان نے وزن سے خارج بتائے ہیں، ان کو بھی الفاظ کی نشست بدلنے یا الفاظ بدلنے سے درست ہو سکتے ہیں۔ مفہوم کے حساب سے یہ دیکھیں۔
کیسے ان کو منائیں گے
مضطرب ہیں، دعا کیجے
کون مضطرب ہیں، ہم یا وہ؟ اور اضطراب کا منانے سے تعلق۔ منانا تو ناراض ہونے والے کو کیا جاتا ہے!
جی بہتر! سمجھ گیا۔