غزل برائے اصلاح و تنقید

شہنواز نور — اپریل 18، 2018 7:57 شام
السلام علیکم ۔۔۔۔محفلین ۔۔۔ایک غزل پیش ہے اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے ۔۔۔۔ممنون رہوں گا ۔۔
جب حکومت مل گئ خیرات پر
پھر سیاست آ گئ اوقات پر
اور بندر میڈیا میں بیٹھ کر
ناچتے ہیں باپ کی بارات پر
ظلم پر وہ بولتے ہیں اس طرح
جیسے مینڈک بولتے برسات پر
منہ انہیں کا دن میں کالا ہو گیا
جو حکومت کر رہے تھے رات پر
ریپ مندر میں ۔۔وطن میں رام کے
کیا کہوں اب ملک کے حالات پر
جس گھڑی انصاف تیرا مر گیا
بادشاہ پھر تھو ہے تیری ذات پر
نور جو پہلے ہی بے غیرت ہے وہ
کیا برا مانے کسی کی بات پر
شہنواز نور — اپریل 18، 2018 7:57 شام
الف عین
فرقان احمد — اپریل 18، 2018 8:05 شام
شہنواز نور میاں! غزل آپ کے جلالی مزاج کی تاب نہ لاتے ہوئے پگھل کر نظم بن گئی ہے۔ آپ زندہ دل ہیں، امید ہے برا نہ مانیں گے۔ :)
شہنواز نور — اپریل 18، 2018 8:08 شام
فرقان احمد سر۔۔۔۔ یہ صرف کوشش تھی خاکسار کی۔۔شکریہ
فرقان احمد — اپریل 18، 2018 8:18 شام
فرقان احمد سر۔۔۔۔ یہ صرف کوشش تھی خاکسار کی۔۔شکریہ
اردو محفل میں گاہے بگاہے چکر لگاتے رہا کریں۔ اپنی تخلیقی کاوش کی شراکت پر آپ کا شکریہ! :)
الف عین — اپریل 19، 2018 6:52 صبح
تقریبا درست ہے مسلسل غزل یا نظمیہ غزل ۔ 'برسات' اور 'رات' کے ساتھ 'پر' کا محل نہیں، 'میں' کا ہے۔
بادشاہ پھر تھو ہے تیری ذات پر
بادشاہ مکمل نہیں آتا وزن میں۔ لفظ بدل دیں
شہنواز نور — اپریل 19، 2018 8:01 صبح
بہت شکریہ سر ممنون ہوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.100983/