غزل برائے اصلاح و تنقید

منصور محبوب چوہدری — مئی 27، 2018 9:01 شام
کبھی نہ لہر بن سکا، بہاؤ میں گزر گیا
سکوں کی آرزو لئے، تناؤ میں گزر گیا
گزر گئی تمام عمر جس کی آرزو لئے
وہ لمحۂ وصال رکھ رکھاؤ میں گزر گیا
کبھی کوئی حسیں لگا، کبھی کوئی حسین تر
مرا شباب حسن کے چناؤ میں گزر گیا
ستم کہ بحرِ عشق میں کبھی نہ میں اتر سکا
مرا سفر تو حسرتوں کی ناؤ میں گزر گیا
تمام عمر جس سبب، گھمنڈ تجھ کو تھا بہت
وہ مال و دھن ترے ہی بچ بچاؤ میں گزر گیا
میں اجنبی کے ہاتھ تیرے سامنے ہی بک گیا
ترا تمام وقت بھاؤ تاؤ میں گزر گیا
نہ ہمسفر ملا مجھے، نہ راستہ ملا کوئی
پڑاؤ میں جنم ہوا، پڑاؤ میں گزر گیا
منصور محبوب چوہدری ۔ ۲۰۱۸ مئی​
منصور محبوب چوہدری — مئی 27، 2018 9:03 شام
محترم الف عین
و دیگر اساتذہ کرام و احباب سے اصلاح کی التماس ہے
سید عاطف علی — مئی 27، 2018 10:06 شام
بہت اچھی غزل ہے۔ منصور صاحب۔
مال و دھن کی ترکیب البتہ ناہموار ہے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 28، 2018 12:18 صبح
بہت خوب صورت غزل ۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔
بہت اچھی غزل ہے۔ منصور صاحب۔
مال و دھن کی ترکیب البتہ ناہموار ہے ۔

کیا مال و زر بہتر ہوگا؟
الف عین — مئی 28، 2018 6:51 صبح
اچھی غزل ہے۔ مال و دھن کی ترکیب کے علاوہ باقی سب درست ہے۔حیرت ہے کہ مال و زر کا سامنے کا محاورہ استعمال نہیں کیا۔ 'چناؤ' کا ہندی لفظ کچھ عجیب لگتا ہے مگر یہ قافیہ ہے، اس لیے خاموش ہوں۔
منصور محبوب چوہدری — مئی 28، 2018 7:08 صبح
بہت اچھی غزل ہے۔ منصور صاحب۔
مال و دھن کی ترکیب البتہ ناہموار ہے ۔

بہت شکریہ عاطف بھائی ۔ خلیل صاحب نے مال و زر کا مشورہ دیا ہے جس سے استاد محترم نے بھی اتفاق کیا۔
بہت خوب صورت غزل ۔ بہت سی داد قبول فرمائیے۔

خلیل صاحب ۔ بہت نوازش اور آپ نے مشکل ہی حل کر دی ۔
اچھی غزل ہے۔ مال و دھن کی ترکیب کے علاوہ باقی سب درست ہے۔حیرت ہے کہ مال و زر کا سامنے کا محاورہ استعمال نہیں کیا۔ 'چناؤ' کا ہندی لفظ کچھ عجیب لگتا ہے مگر یہ قافیہ ہے، اس لیے خاموش ہوں

استاد محترم شکریہ، آپ کی حوصلہ افزائی کا۔ مال و زر سے بہتر ہوگئی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.101605/