غزل برائے اصلاح و تنقید

امان زرگر — اپریل 16، 2017 9:10 صبح
خاک افتادہ یہ دل میرا ہے جس آزار کا
سنگِ در ہے عشق کا، رہ کوچۂ دلدار کا
اب مسیحا آئے بھی تو ہو سکے گی کیا دوا
فرط الفت میں جنوں اب بڑھ چکا بیمار کا
بیچنے کو اب متاعِ جان و دل آئے سبھی
اک خریدار وفا حاکم ہوا بازار کا
فرش رہ ہیں دیدہ و دل، منتظر آغوش جاں
کچھ کرو چارہ گرو اب حسرت دیدار کا
بزم ہستی سے تہی دامن پلٹ آیا تبھی
اک مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
امان زرگر — اپریل 16، 2017 9:34 صبح
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
بھائی عاطف ملک
محمد عظیم الدین — اپریل 16، 2017 9:51 صبح
اب مسیحا آئے بھی تو ہو سکے گی کیا دوا
فرط الفت میں جنوں اب بڑھ چکا بیمار کا
بہت خوب امان اللہ بھائی
امان زرگر — اپریل 16، 2017 12:30 شام
بہت خوب امان اللہ بھائی
بہت شکریہ. خوش رہیں
عاطف ملک — اپریل 16، 2017 3:00 شام
خاک افتادہ ہے دل میرا یہ جس آزار کا
سنگِ در ہے عشق کا، رہ کوچۂ دلدار کا
اب مسیحا آئے بھی تو ہو سکے گی کیا دوا
فرط الفت میں جنوں اب بڑھ چکا بیمار کا
بیچنے کو اب متاعِ جان و دل لائے سبھی
اک خریدار وفا حاکم ہوا بازار کا
فرشِ رہ ہیں دیدہ و دل، جاں بہ لب آشفتہ سر
چارہ گر بھی کیا کریں اس حسرتِ دیدار کا
بزم ہستی سے تہی دامن پلٹ آیا تبھی
اک مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
خوبصورت ہے یہ تیرا قصہِ رنج و الم
پر کھٹکتا ہے مجھے "
یہ" مطلعِ اشعار کا
بہت خوبصورت کلام امان بھائی!
جتنا سمجھ سکا ہوں اتنا تو بہت مزے کا لگا۔
تجویز بھی دے دی ہے لیکن اساتذہ کی رائے کا انتظار کیجیے۔
سلامت رہیں اور اس سے بھی اچھا لکھیں :)
امان زرگر — اپریل 16، 2017 3:28 شام
خوبصورت ہے یہ تیرا قصہِ رنج و الم
پر کھٹکتا ہے مجھے "یہ" مطلعِ اشعار کا

بہت خوبصورت کلام امان بھائی!
جتنا سمجھ سکا ہوں اتنا تو بہت مزے کا لگا۔
تجویز بھی دے دی ہے لیکن اساتذہ کی رائے کا انتظار کیجیے۔
سلامت رہیں اور اس سے بھی اچھا لکھیں :)
آپ کا کھٹکا درست ہے مگر مبتدی کو مشق کے لئے اساتذہ کے کلام سے استفادہ کا حق حاصل ہے.
امان زرگر — اپریل 16، 2017 3:53 شام
اساتذہ کا منتظر ہوں... سر محمد ریحان قریشی ٹیکنیکل پوائنٹ آف ویو عنایت فرما دیں تو دل کو اطمینان ہو.
الف عین — اپریل 17، 2017 4:48 صبح
خاک افتادہ یہ دل میرا ہے جس آزار کا
سنگِ در ہے عشق کا، رہ کوچۂ دلدار کا
÷÷مطلع میری ناقص عقل میں تو نہیں گھس سکا۔ ’یہ دل‘ تو چل سکتا ہے لیکن وہ آزار کیا ہے، سمجھ میں نہیں آیا۔ رہ اور کوچہ ایک ساتھ؟ یا یہ فعل رہنا سے مشتق رہ بمعنی رہ ہے؟
اب مسیحا آئے بھی تو ہو سکے گی کیا دوا
فرط الفت میں جنوں اب بڑھ چکا بیمار کا
بیچنے کو اب متاعِ جان و دل آئے سبھی
اک خریدار وفا حاکم ہوا بازار کا
۔۔تھیک ہیں دونوں
فرش رہ ہیں دیدہ و دل، منتظر آغوش جاں
کچھ کرو چارہ گرو اب حسرت دیدار کا
÷÷حسرت دیدار کا کیا کروانا چاہ رہے ہیں، یہ واضح نہیں۔
بزم ہستی سے تہی دامن پلٹ آیا تبھی
اک مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
۔۔تبھی کی معنویت نہیں سمجھ سکا۔
امان زرگر — اپریل 17، 2017 10:36 صبح
خاک افتادہ یہ دل میرا ہے جس آزار کا
سنگِ در ہے عشق کا، رہ کوچۂ دلدار کا
÷÷مطلع میری ناقص عقل میں تو نہیں گھس سکا۔ ’یہ دل‘ تو چل سکتا ہے لیکن وہ آزار کیا ہے، سمجھ میں نہیں آیا۔ رہ اور کوچہ ایک ساتھ؟ یا یہ فعل رہنا سے مشتق رہ بمعنی رہ ہے؟
اب مسیحا آئے بھی تو ہو سکے گی کیا دوا
فرط الفت میں جنوں اب بڑھ چکا بیمار کا
بیچنے کو اب متاعِ جان و دل آئے سبھی
اک خریدار وفا حاکم ہوا بازار کا
۔۔تھیک ہیں دونوں
فرش رہ ہیں دیدہ و دل، منتظر آغوش جاں
کچھ کرو چارہ گرو اب حسرت دیدار کا
÷÷حسرت دیدار کا کیا کروانا چاہ رہے ہیں، یہ واضح نہیں۔
بزم ہستی سے تہی دامن پلٹ آیا تبھی
اک مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
۔۔تبھی کی معنویت نہیں سمجھ سکا۔

فرش رہ ہیں دیدہ و دل، منتظر آغوش جاں
چارہ گر! آ دیکھ عالم حسرت دیدار کا
لطف خوباں سے وہ بھر لائے گا دامان جنوں
اک عطا سے کب مٹے شوق طلب نادار کا
جام دے کر دل کو محروم تمنا کر دیا
یوں مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
بزم ہستی سے پلٹ آیا تہی دامن تبھی
تھا فقط حرص و ہوس واں منصب و دینار کا
اور مطلع
کیا کریں اس عشق سوزاں درپئے آزار کا
چل مرے دل عزم باندھیں کوچۂ دلدار کا
الف عین — اپریل 18، 2017 5:14 صبح
نیا مطلع اب بھی دل کو نہیں لگا۔ عشق جو در پئے آزار ہے، اس کا‘ کہنا چاہا تھا شاید۔
پچھلے شعر میں ’تبھی‘ نے ہی ہاتھ روک دیا تھا، اس لیے آگے نہیں بڑھ سلا، ورنہ سوال ’مغاں شیوہ‘ ترکیب پر بھی تھا! اور اب یہ دو اشعار میں تقسیم ہو گیا ہے!
امان زرگر — اپریل 18، 2017 11:58 صبح
اس کو دو اشعار میں تقسیم کر کے سمجھا تھا تبھی کا مسئلہ حل ہو گیا. مغاں شیوہ شاید ساقی کو کہا جا سکتا ہے.
اور اک نیا مطلع
ہو سکے شاید مداوا ہجر کے آزار کا
چل مرے دل عزم باندھیں کوچۂ دلدار کا
نیا مطلع اب بھی دل کو نہیں لگا۔ عشق جو در پئے آزار ہے، اس کا‘ کہنا چاہا تھا شاید۔
پچھلے شعر میں ’تبھی‘ نے ہی ہاتھ روک دیا تھا، اس لیے آگے نہیں بڑھ سلا، ورنہ سوال ’مغاں شیوہ‘ ترکیب پر بھی تھا! اور اب یہ دو اشعار میں تقسیم ہو گیا ہے!
الف عین — اپریل 18، 2017 3:09 شام
اس کو دو اشعار میں تقسیم کر کے سمجھا تھا تبھی کا مسئلہ حل ہو گیا. مغاں شیوہ شاید ساقی کو کہا جا سکتا ہے.
اور اک نیا مطلع
ہو سکے شاید مداوا ہجر کے آزار کا
چل مرے دل عزم باندھیں کوچۂ دلدار کا
اچھا مطلع ہے۔ اسے رکھو غزل میں
عبید انصاری — اپریل 18، 2017 3:42 شام
÷÷حسرت دیدار کا کیا کروانا چاہ رہے ہیں، یہ واضح نہیں۔
شاید کونڈا کروانا چاہتے ہوں:LOL:
امان زرگر — اپریل 18، 2017 4:51 شام
اچھا مطلع ہے۔ اسے رکھو غزل میں
سر جو نئے اشعار تھے ان پر آپ نےکوئی رائے نہیں دی تھی.
جو کہ درج ذیل ہیں
فرش رہ ہیں دیدہ و دل، منتظر آغوش جاں
چارہ گر! آ دیکھ عالم حسرت دیدار کا
لطف خوباں سے وہ بھر لائے گا دامان جنوں
اک عطا سے کب مٹے شوق طلب نادار کا
جام دے کر دل کو محروم تمنا کر دیا
یوں مغاں شیوہ نے تڑپایا جگر میخوار کا
بزم ہستی سے پلٹ آیا تہی دامن تبھی
تھا فقط حرص و ہوس واں منصب و دینار کا
الف عین — اپریل 19، 2017 11:48 صبح
مغاں شیوہ پر دیگر اہم علم کیا کہتے ہیں؟
’تبھی‘ کے بارے میں بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ لفظ کیوں لایا گیا ہے، سمجھنے سے قاصر ہوں۔
باقی اشعار درست ہیں
امان زرگر — اپریل 19، 2017 12:22 شام
مغاں شیوہ پر دیگر اہم علم کیا کہتے ہیں؟
’تبھی‘ کے بارے میں بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ لفظ کیوں لایا گیا ہے، سمجھنے سے قاصر ہوں۔
باقی اشعار درست ہیں
سر محمد ریحان قریشی شفقت فرمائیں ذرا
امان زرگر — اپریل 19، 2017 1:12 شام
لطف خوباں سے وہ بھر لائے گا دامان جنوں
اک عطا سے کب مٹے شوق طلب نادار کا
کی بجائے
لطف خوباں آج دامان جنوں بھر دے مرا
اک عطا سے کب مٹے شوق طلب نادار کا
یا
لطف خوباں آج دامان جنوں بھر دے مرا
اک عطا سے ٹال دے شوق طلب نادار کا
اور ،تبھی، کی جگہ
بزم ہستی سے پلٹ آیا تہی دامن جنوں
تھا فقط حرص و ہوس واں منصب و دینار کا
سر الف عین
الف عین — اپریل 19، 2017 3:33 شام
دینار والا تو درست ہے لیکن ’لطف خوباں‘ کیا ترکیب ہے؟
امان زرگر — اپریل 19، 2017 4:14 شام
دینار والا تو درست ہے لیکن ’لطف خوباں‘ کیا ترکیب ہے؟
جی سر 'لطف خوباں' 'محبوب کی کرم نوازی' کے معانی میں لیا ہے اسے
امان زرگر — اپریل 20، 2017 11:55 صبح
کوئی 'مغاں شیوہ' اور 'لطف خوباں' تراکیب کے بارے بتا دے تو احسان ہو گا.
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.95816/