امان زرگر — مئی 30، 2017 4:54 صبح
خوں ناب اشک بام پہ آ کر سنبھل گئے
ہم لوگ بھی عجیب تھے، غم سے بہل گئے
وہ چارہ گر بھی ہم سے نگاہیں چرا گیا
دل کے بھی داغ شبنمی قطروں میں ڈھل گئے
آنکھوں میں آ بسے شب فرقت اجاڑ دی
جو موجزن تھے قلب میں ارمان جل گئے
اے دل کہاں تلک سہیں بے مائگی تری
اب تو سراب دشت بھی لہجے بدل گئے
مجھ کو امان دشت کی ویرانیوں سے کیا
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے
امان زرگر — مئی 30، 2017 4:59 صبح
الف عین — مئی 30، 2017 6:50 صبح
اوزان کی تو کوئی غلطی نہیں۔ البتہ مجھے سارے خوبصورت مصرعے لگ رہے ہیں
امان زرگر — مئی 30، 2017 8:34 صبح
اوزان کی تو کوئی غلطی نہیں۔ البتہ مجھے سارے خوبصورت مصرعے لگ رہے ہیں
سر تو کیا خوبصورت اشعار نہیں لگ رہے؟
امان زرگر — مئی 30، 2017 9:06 صبح
خوں ناب اشک بام پہ آ کر سنبھل گئے
ہم کوچۂ حبیب میں ایسے بہل گئے
آنکھوں میں آ بسے شب فرقت اجاڑ دی
دل میں جو موجزن تھے سب ارمان جل گئے
امان زرگر — جون 1، 2017 2:35 صبح
کچھ تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ پیشِ خدمت ہے
خوں ناب اشک بام پہ آ کر سنبھل گئے
ہم کوچۂ حبیب میں ایسے بہل گئے
وہ چارہ گر بھی ہم سے نگاہیں چرا گیا
دل کے بھی داغ شبنمی قطروں میں ڈھل گئے
آنکھوں میں آ بسی شبِ فرقت کچھ اس طرح
دل میں جو موجزن تھے سب ارمان جل گئے
اے دل کہاں تلک سہیں بے مائگی تری
لرزاں سی دھڑکنوں کے بھی لہجے بدل گئے
ویرانیوں میں دشت کی تھا کرب اک مگر
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
ڈاکٹر چوہدری ابرار ماجد — جون 1، 2017 6:31 صبح
مراد کو پانے نکلا ہوں کوئی مجھ کو دعا دے
ضعیفی ہے ہمسفر میری کوئی مجھ کو عصا دے
شب و روز ڈھونڈتا پھرتا ہوں ایسا سوداگر
عقل کے بدلے عشق کا مجھ کو سودا دے
کبھی دھیمی نہ پڑ نے پائے میری طلب آشنائی
تشنگی عشق میں ایسی مجھ کو انتہاء دے
میری لکیروں سے کھچے وہ تصویر
نا خداوؤں کے جو تخت کو ہلا دے
میرے ہم خیال ہوں میرے ہم سفر
تصور میں میرے ایسی مجھ کو ضیاء دے
مجھ کو گر مان ہے تو تیری رحمت پر
خدایا تو ہی کوئی مجھ کو آسرا دے
میرا شعور تو ٹھہرا پابند سلاسل
اپنے فضل سے ہی تو کوئی مجھ کو پتا دے
الف عین — جون 1، 2017 7:36 صبح
سر تو کیا خوبصورت اشعار نہیں لگ رہے؟
مطلب یہی تھا کہ ربط باہم ہو تو شعر بن سکتا ہے، تمہارے اشعار میں ربط ڈھونڈھ کر لانا پڑتا ہے۔ کوئی قرینہ ایسا نہیں دیتے کہ قاری ڈائریکٹ اس ربط تک پہنچ جائے۔میرے خیال میں تم کو اس پر مشق کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ جتنے متبادل اشعار کہو گے، ان سب میں وہی سقم ہو گا تو؟
پہلے دو اشعار میں تو ربط محسوس ہوتا ہے لیکن آخر کے تینوں اشعار مجھے اسی طرح محسوس ہوتے ہیں، اب بھی ترمیم کے بعد۔
الف عین — جون 1، 2017 7:38 صبح
مراد کو پانے نکلا ہوں کوئی مجھ کو دعا دے
ضعیفی ہے ہمسفر میری کوئی مجھ کو عصا دے
شب و روز ڈھونڈتا پھرتا ہوں ایسا سوداگر
عقل کے بدلے عشق کا مجھ کو سودا دے
کبھی دھیمی نہ پڑ نے پائے میری طلب آشنائی
تشنگی عشق میں ایسی مجھ کو انتہاء دے
میری لکیروں سے کھچے وہ تصویر
نا خداوؤں کے جو تخت کو ہلا دے
میرے ہم خیال ہوں میرے ہم سفر
تصور میں میرے ایسی مجھ کو ضیاء دے
مجھ کو گر مان ہے تو تیری رحمت پر
خدایا تو ہی کوئی مجھ کو آسرا دے
میرا شعور تو ٹھہرا پابند سلاسل
اپنے فضل سے ہی تو کوئی مجھ کو پتا دے
خوش آمدید۔ ایک نئی لڑی میں اپنے اشعار پروئیں، تو اصلاح بھی دی جا سکے۔ فی الحال تو یہی عرض ہے کہ بحر و اوزان سے واقفیت حاصل کریں
امان زرگر — جون 1، 2017 7:45 صبح
مطلب یہی تھا کہ ربط باہم ہو تو شعر بن سکتا ہے، تمہارے اشعار میں ربط ڈھونڈھ کر لانا پڑتا ہے۔ کوئی قرینہ ایسا نہیں دیتے کہ قاری ڈائریکٹ اس ربط تک پہنچ جائے۔میرے خیال میں تم کو اس پر مشق کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ جتنے متبادل اشعار کہو گے، ان سب میں وہی سقم ہو گا تو؟
پہلے دو اشعار میں تو ربط محسوس ہوتا ہے لیکن آخر کے تینوں اشعار مجھے اسی طرح محسوس ہوتے ہیں، اب بھی ترمیم کے بعد۔
سر بہت بہتر مشق کرتا ہوں. شعر کے محاسن کے حوالے سے کچھ رہنمائی یا کوئی ربط مل جاتا تو مشق میں آسانی رہتی اور منزل کے حصول میں بھی آسانی رہتی
الف عین — جون 1، 2017 7:58 صبح
عزیزم میں شاعری کا انسائکلو پیڈیا تو نہیں ہوں جو فوراً تم کو روابط دے دوں۔ اپنی طبع رسا کو ہی پہلا رہنما بناؤ اور مفہوم کے بارے میں خود ہی سوچو کہ جو تم کہنا چاہ رہے ہو وہ کس حد تک ادا ہو رہا ہے۔
محمد ریحان قریشی — جون 1، 2017 4:08 شام
سر بہت بہتر مشق کرتا ہوں. شعر کے محاسن کے حوالے سے کچھ رہنمائی یا کوئی ربط مل جاتا تو مشق میں آسانی رہتی اور منزل کے حصول میں بھی آسانی رہتی
اچھے شعرا کے کلام کا مطالعہ کریں۔
امان زرگر — جون 28، 2017 3:21 صبح
کچھ تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ پیشِ خدمت ہے
خوں ناب اشک بام پہ آ کر سنبھل گئے
ہم کوچۂ حبیب میں ایسے بہل گئے
وہ چارہ گر بھی ہم سے نگاہیں چرا گیا
دل کے بھی داغ شبنمی قطروں میں ڈھل گئے
آنکھوں میں آ بسی شبِ فرقت کچھ اس طرح
صبح وصال یار کے امکان جل گئے
اے دل کہاں تلک سہیں بے مائگی تری
لرزاں ہیں دھڑکنیں سبھی لہجے بدل گئے
ویرانیوں میں دشت کی تھا کرب بھی مگر
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی [/CENTER[]
محمد ریحان قریشی — جون 28، 2017 5:51 صبح
آنکھوں میں آ بسی شبِ فرقت کچھ اس طرح
صبح وصال یار کے امکان جل گئے
اچھا ہے.
اے دل کہاں تلک سہیں بے مائگی تری
لرزاں ہیں دھڑکنیں سبھی لہجے بدل گئے
درست.
ویرانیوں میں دشت کی تھا کرب بھی مگر
بندش کچھ سست ہے.
امان زرگر — جون 28، 2017 12:52 شام
اچھا ہے.
درست.
بندش کچھ سست ہے.
"بندش کا سست ہونا" بطور طالب علم میرے لئے نئی اصطلاح ہے. براہ مہربانی کچھ وضاحت فرما دیں.
محمد ریحان قریشی — جون 28، 2017 2:51 شام
"بندش کا سست ہونا" بطور طالب علم میرے لئے نئی اصطلاح ہے. براہ مہربانی کچھ وضاحت فرما دیں.
روانی کی کمی ہے.
امان زرگر — جون 29، 2017 3:05 صبح
ویرانیاں بھی کرب و بلا خیز تھیں مگر
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے
محمد ریحان قریشی — جون 29، 2017 6:22 صبح
ویرانیاں بھی کرب و بلا خیز تھیں مگر
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے
بہتر ہے.
امان زرگر — جولائی 27، 2017 7:35 صبح
ایک اور غزل تکمیل کو پہنچی سر
الف عین
امان زرگر — جولائی 27، 2017 7:38 صبح
خوں ناب اشک بام پہ آ کر سنبھل گئے
ہم کوچۂ حبیب میں ایسے بہل گئے
وہ چارہ گر بھی ہم سے نگاہیں چرا گیا
دل کے بھی داغ شبنمی قطروں میں ڈھل گئے
آنکھوں میں آ بسی شبِ فرقت کچھ اس طرح
صبح وصال یار کے امکان جل گئے
اے دل کہاں تلک سہیں بے مائگی تری
لرزاں ہیں دھڑکنیں سبھی لہجے بدل گئے
ویرانیاں بھی کرب و بلا خیز تھی مگر
آشفتہ تھی فضا سو بھٹکنے نکل گئے