غزل برائے اصلاح پیش ہے

شہنواز نور — نومبر 29، 2016 9:55 شام
محفلیں السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔ ایک تازہ غزل پیش خدمت ہے اساتذہ کی اصلاح کا منتظر ہوں ۔
شہنواز نور — نومبر 29، 2016 10:11 شام
غزل
حکومت حق پر اب باطل کرے گا
وطن کی رہبری جاہل کرے گا
عدالت پر ہمیں پورا یقیں ہے
مگر انصاف کیا قاتل کرے گا ؟
بھلے آباد ہوں برباد ہوں ہم
کرینگے ہم وہی جو دل کرے گا
دعا ماں باپ کی بھی مل نہ پائی
جہاں میں اور کیا حاصل کرے گا
مجھے جنت کی بے شک آرزو ہے
مگر یہ کام تو سائل کرے گا
نہ تو ہوگا مگر تیرا تصوّر
تری جانب مجھے مائل کرے گا
جو چاہت کی لکھے گا داستاں وہ
ہمارا نام بھی شامل کرے گا
بھرا ہے نور جسنے دل میں اپنا
وہی الفت میں بھی کامل کرے گا
شہنواز نور
الف عین — نومبر 30، 2016 10:59 صبح
تکنیکی طور پر درست،
ان کو دیکھیں۔
دعا ماں باپ کی بھی مل نہ پائی
جہاں میں اور کیا حاصل کرے گا
÷÷ دوسرے مصرع کا فاعل کون ہے؟ واضح نہیں۔
مجھے جنت کی بے شک آرزو ہے
مگر یہ کام تو سائل کرے گا
÷÷کیا کام، آرزو کرنے کا؟
شہنواز نور — نومبر 30، 2016 11:14 صبح
میں اس رہنمائی کیلئے سپاس گزار ہوں آپ کا جس کمی کی جانب اشارہ کیا گیا ہے وہ درست کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DB%81%DB%92.93317/