غزل برائے اصلاح پیش ہے

شہنواز نور — جولائی 4، 2017 10:12 صبح
السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔محفلین ۔۔۔۔۔ایک غزل پیش خدمت ہے اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے ۔
بھلے منہ پھیر لو دلبر مرے مجھ سے خفا ہو کر
بہت ہی یاد آؤں گا تمہیں میں کل جدا ہو کر​

مبارکباد چارہ گر تجھے تیری مہارت پہ
رگوں میں زہر دوڑے ہے ترا اب تو دوا ہو کر​

ہوا تھا عشق کب مجھ کو لگی تھی چوٹ کب دل پہ
جگر کا زخم اُبھرا ہے غزل میں اب ہرا ہو کر​

تجھی کو یاد کرنا ہے ترا ہی نام لینا ہے
کسی کا ہو نہیں سکتا کبھی یہ دل ترا ہو کر​

اسے ٹھوکر عطا کرتا ہے پتھر راہ کا اب تو
کوئی انسان ملتا تھا کبھی مجھ سے خدا ہو کر​

ستارا نور کا جتنی بلندی پر بھی ہو کم ہے
تجھے بھی خاک میں اک روز ملنا ہے فنا ہو کر​
شہنواز نور — جولائی 4، 2017 10:14 صبح
الف عین سر
لئیق احمد — جولائی 4، 2017 10:17 صبح
اسے ٹھوکر عطا کرتا ہے پتھر راہ کا اب تو
کوئی انسان ملتا تھا کبھی مجھ سے خدا ہو کر
اس کے علاوہ باقی شعر بہت اچھے ہیں
شہنواز نور — جولائی 4، 2017 10:22 صبح
شکریہ لئیق احمد صاحب ۔۔۔۔۔۔الف عین سر کی اصلاح دیکھ لیتے ہیں پھر وہ جو کہیں گے بہتر ہو گا
فرحان محمد خان — جولائی 4، 2017 10:55 صبح
خوبصورت جی
شہنواز نور — جولائی 4، 2017 1:35 شام
شکریہ فرحان محمد خان صاحب
شہنواز نور — جولائی 4، 2017 1:38 شام
سر یہ شعر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں ممکن ہے دھڑکے دو بدن میں ایک دل لوگو
کسی کی جان ہے وہ اب مری جانِ وفا ہو کر
الف عین — جولائی 4، 2017 6:02 شام
بھلے منہ پھیر لو دلبر مرے مجھ سے خفا ہو کر
بہت ہی یاد آؤں گا تمہیں میں کل جدا ہو کر
۔۔۔بھئی یہ دلبر، دلربا بالی ووڈ کا فلمی گانا لگتا ہے
بھلے ہی پھیر لو منہ اس طرح مجھ سے۔۔۔۔
کہو تو بہتر ہو، یا اس قسم کا کچھ اور
اگلے دو اشعار درست
’تِرا‘ بطور قافیہ اچھا نہیں لگ رہا۔ اس شعر کو نکال ہی دیا جائے۔ اور آخری دو
اسے ٹھوکر عطا کرتا ہے پتھر راہ کا اب تو
کوئی انسان ملتا تھا کبھی مجھ سے خدا ہو کر
÷÷دوسرا مصرع خوب ہے، گرہ بدلو۔ تھوکر عطا نہیں کی جاتی، ماری جاتی ہے!!!
ستارا نور کا جتنی بلندی پر بھی ہو کم ہے
تجھے بھی خاک میں اک روز ملنا ہے فنا ہو کر
÷÷ دوسرے مصرع میں بھی ’اسے‘ ہی کہو۔ پہلے مصرع کا ’کم ہے‘ ابہام پیدا کرتا ہے۔ شاید ’ہو تو ہو‘ کہنا تھا۔​
شہنواز نور — جولائی 4، 2017 6:40 شام
رہنمائی کیلئے ممنون ہوں سر ۔۔۔۔۔کیا یہ شعر درست ہے ۔۔۔۔۔
کہیں ممکن ہے دھڑکے دو بدن میں ایک دل لوگو
کسی کی جان ہے وہ اب مری جانِ وفا ہو کر
الف عین — جولائی 5، 2017 8:42 صبح
رہنمائی کیلئے ممنون ہوں سر ۔۔۔۔۔کیا یہ شعر درست ہے ۔۔۔۔۔
کہیں ممکن ہے دھڑکے دو بدن میں ایک دل لوگو
کسی کی جان ہے وہ اب مری جانِ وفا ہو کر
سمجھنے سے قاصر ہوں۔ کسی کی جان بھی ہے، میری جان بھی ہے اور وفا کی جان بھی ہے۔ یہ کون ہے تھری ان ون؟
شہنواز نور — جولائی 5، 2017 10:01 صبح
جی سر بہت بہت شکریہ اس رہنمائی کیلئے۔۔۔۔۔آپ کو اللّہ شاد و سلامت رکھے آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DB%81%DB%92.97421/