غزل برائے اصلاح : کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں

اشرف علی — جون 20، 2022 2:38 شام
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
غزل
دلوں کے فاصلے کم ہو رہے ہیں
گلے لگ کر وہ ہم سے ، رو رہے ہیں
ہمارا خواب پورا ہو رہا ہے
ہم ان کے وہ ہمارے ہو رہے ہیں
کسے کس کی پڑی ہے اس جہاں میں
سب اپنا بوجھ خود ہی ڈھو رہے ہیں
جنہیں مَیں یاد کر کے رو رہا ہوں
وہ میرے ہجر میں بھی سو رہے ہیں
ذرا لے لو پڑوسی کی خبر بھی
کئی دن سے وہ بھوکے سو رہے ہیں
مِلے گا ہم کو میٹھا پھل کسی دن
کہ تخمِ صبر جو ہم بو رہے ہیں
برے دن میں اکیلا چھوڑ دیں گے
تمہارے ساتھ ہر دَم جو رہے ہیں
یہ سچ اندر سے ہم کو کھا رہا ہے
کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں
نہ کیوں ہو ناز ہم کو خود پہ اشرف !
کسی کے دل میں ہم بھی تو رہے ہیں
صریر — جون 20، 2022 4:16 شام
ہمارا خواب پورا ہو رہا ہے
ہم ان کے وہ ہمارے ہو رہے ہیں

یہ سچ اندر سے ہم کو کھا رہا ہے
کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں

نہ کیوں ہو ناز ہم کو خود پہ اشرف !
کسی کے دل میں ہم بھی تو رہے ہیں
خوب!✨
اشرف علی — جون 24، 2022 7:59 شام
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
غزل
دلوں کے فاصلے کم ہو رہے ہیں
گلے لگ کر وہ ہم سے ، رو رہے ہیں
ہمارا خواب پورا ہو رہا ہے
ہم ان کے وہ ہمارے ہو رہے ہیں
کسے کس کی پڑی ہے اس جہاں میں
سب اپنا بوجھ خود ہی ڈھو رہے ہیں
جنہیں مَیں یاد کر کے رو رہا ہوں
وہ میرے ہجر میں بھی سو رہے ہیں
ذرا لے لو پڑوسی کی خبر بھی
کئی دن سے وہ بھوکے سو رہے ہیں
مِلے گا ہم کو میٹھا پھل کسی دن
کہ تخمِ صبر جو ہم بو رہے ہیں
برے دن میں اکیلا چھوڑ دیں گے
تمہارے ساتھ ہر دَم جو رہے ہیں
یہ سچ اندر سے ہم کو کھا رہا ہے
کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں
نہ کیوں ہو ناز ہم کو خود پہ اشرف !
کسی کے دل میں ہم بھی تو رہے ہیں
پسندیدگی کے لیے بہت بہت شکریہ محترم صریر صاحب اور محترمہ زوجہ اظہر صاحبہ
اللّٰہ آپ کو خوش رکھے ، آمین ۔
اشرف علی — جون 24، 2022 8:02 شام
اس قدر پذیرائی کے لیے بے حد ممنون ہوں
اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے ،آمین ۔
جزاک اللّٰہ خیراً
اشرف علی — جون 24، 2022 8:04 شام
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
غزل
دلوں کے فاصلے کم ہو رہے ہیں
گلے لگ کر وہ ہم سے ، رو رہے ہیں
ہمارا خواب پورا ہو رہا ہے
ہم ان کے وہ ہمارے ہو رہے ہیں
کسے کس کی پڑی ہے اس جہاں میں
سب اپنا بوجھ خود ہی ڈھو رہے ہیں
جنہیں مَیں یاد کر کے رو رہا ہوں
وہ میرے ہجر میں بھی سو رہے ہیں
ذرا لے لو پڑوسی کی خبر بھی
کئی دن سے وہ بھوکے سو رہے ہیں
مِلے گا ہم کو میٹھا پھل کسی دن
کہ تخمِ صبر جو ہم بو رہے ہیں
برے دن میں اکیلا چھوڑ دیں گے
تمہارے ساتھ ہر دَم جو رہے ہیں
یہ سچ اندر سے ہم کو کھا رہا ہے
کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں
نہ کیوں ہو ناز ہم کو خود پہ اشرف !
کسی کے دل میں ہم بھی تو رہے ہیں
الف عین سر
الف عین — جون 25، 2022 4:12 صبح
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب
آداب !
آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔
غزل
دلوں کے فاصلے کم ہو رہے ہیں
گلے لگ کر وہ ہم سے ، رو رہے ہیں
ہمارا خواب پورا ہو رہا ہے
ہم ان کے وہ ہمارے ہو رہے ہیں
کسے کس کی پڑی ہے اس جہاں میں
سب اپنا بوجھ خود ہی ڈھو رہے ہیں
جنہیں مَیں یاد کر کے رو رہا ہوں
وہ میرے ہجر میں بھی سو رہے ہیں
ذرا لے لو پڑوسی کی خبر بھی
کئی دن سے وہ بھوکے سو رہے ہیں
مِلے گا ہم کو میٹھا پھل کسی دن
کہ تخمِ صبر جو ہم بو رہے ہیں
برے دن میں اکیلا چھوڑ دیں گے
تمہارے ساتھ ہر دَم جو رہے ہیں
یہ سچ اندر سے ہم کو کھا رہا ہے
کہ سچ میں ہم تمہیں اب کھو رہے ہیں
نہ کیوں ہو ناز ہم کو خود پہ اشرف !
کسی کے دل میں ہم بھی تو رہے ہیں
درست ہے مکمل غزل
اشرف علی — جون 25، 2022 7:28 شام
الحمد للّٰہ
بہت بہت شکریہ سر
جزاک اللّٰہ خیراً
اللّٰہ آپ کو شاد و سلامت رکھے ، آمین ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%81-%D8%B3%DA%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DA%BE%D9%88-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.118578/