غزل برائے اصلاح یوسف جمیل یوسف

md waliullah qasmi — فروری 25، 2016 2:07 شام
جو کچھ ہو آخری میں میسر سمیٹ لو
جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو
آلودگی فضا میں ہے پھیلی چہارسو
پرواز ہے فضول ابھی پر سمیٹ لو
ہاتھوں میں دیگا تم کو اٹھاکر نہیں کوئ
جو کچھ بھی ہے یہاں پہ وہ آکر سمیٹ لو
کچھ تو ضرور نکلے گا ہوگا جو قیمتی
بکھرے پڑے ہیں جتنے بھی پتھر سمیٹ لو
کہتے ہیں جس کو ہجر وہ لمحہ بھی آگیا
دل میں کرو اب عزم سفر گھر سمیٹ لو
اس صبر بے خلوص سے امید ہے فضول
کاسا اٹھاؤ ہاتھ میں چادر سمیٹ لو
محبوب کی گلی کے نشانی کے واسطے
گر کچھ نہیں ہے اور تو پتھر سمیٹ لو
آنسو بہے تو روئینگے بچے بہت جمیل
اشکوں کو اپنی آنکھ کے اندر سمیٹ لو
سید اسد معروف — فروری 26، 2016 8:44 صبح
آنسو بہے تو روئینگے بچے بہت جمیل
اشکوں کو اپنی آنکھ کے اندر سمیٹ لو
بہت اچھے۔
"کاسہ" مجھے لگتا ہے ایسے لکھنا چاہیئے۔
الف عین — فروری 26، 2016 9:33 صبح
عزیزی یوسف جمیل سےکہیں کہ خود ہی یہاں پوسٹ کیا کریں محفل کے رکن بن کر۔
جو کچھ ہو آخری میں میسر سمیٹ لو
جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو
مطلع واضح نہیں ہے۔ اگر دوسرا مصرع یوں ہو
جانا ہی ہے یہاں سے تو منظر سمیٹ لو
تو بات بنتی ہے۔ پہلے مصرع میں ’آخری‘ کا استعمال بھی غلط ہے، محض ’آخر‘ ہونا چاہئے۔
آلودگی فضا میں ہے پھیلی چہارسو
پرواز ہے فضول ابھی پر سمیٹ لو
۔۔پہلا مصرع شست نہیں، اسے یوں کہیں
آلودگی فضاؤں میں پھیلی ہےچارسو
تو رواں ہو جاتا ہے۔
دل میں کرو اب عزم سفر گھر سمیٹ لو
۔۔اس میں عزم‘ کی ’ع‘ کا اسقاط ہو رہا ہے۔ الف تو جائز ہے لیکن ’ع‘ کا گرنا جائزنہیں۔
’’دل میں‘ نکال کر الفاظ بدلیں تو بہتر ہو سکتا ہے۔
محبوب کی گلی کے نشانی کے واسطے
گر کچھ نہیں ہے اور تو پتھر سمیٹ لو
اس کو نکال ہی دیں، ناصر کاظمی کی نقل لگ رہا ہے۔
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
md waliullah qasmi — فروری 26، 2016 11:20 صبح
شکریہ سر
میں کوشش کر رہا ہوں کہ یوسف جمیل صاصب خود یہاں تشریف لائیں انشاءاللہ بہت جلد یہاں آجائیں گے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81-%D8%AC%D9%85%DB%8C%D9%84-%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81.88260/