جو کچھ ہو آخری میں میسر سمیٹ لو
جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو
آلودگی فضا میں ہے پھیلی چہارسو
پرواز ہے فضول ابھی پر سمیٹ لو
ہاتھوں میں دیگا تم کو اٹھاکر نہیں کوئ
جو کچھ بھی ہے یہاں پہ وہ آکر سمیٹ لو
کچھ تو ضرور نکلے گا ہوگا جو قیمتی
بکھرے پڑے ہیں جتنے بھی پتھر سمیٹ لو
کہتے ہیں جس کو ہجر وہ لمحہ بھی آگیا
دل میں کرو اب عزم سفر گھر سمیٹ لو
اس صبر بے خلوص سے امید ہے فضول
کاسا اٹھاؤ ہاتھ میں چادر سمیٹ لو
محبوب کی گلی کے نشانی کے واسطے
گر کچھ نہیں ہے اور تو پتھر سمیٹ لو
آنسو بہے تو روئینگے بچے بہت جمیل
اشکوں کو اپنی آنکھ کے اندر سمیٹ لو
جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو
آلودگی فضا میں ہے پھیلی چہارسو
پرواز ہے فضول ابھی پر سمیٹ لو
ہاتھوں میں دیگا تم کو اٹھاکر نہیں کوئ
جو کچھ بھی ہے یہاں پہ وہ آکر سمیٹ لو
کچھ تو ضرور نکلے گا ہوگا جو قیمتی
بکھرے پڑے ہیں جتنے بھی پتھر سمیٹ لو
کہتے ہیں جس کو ہجر وہ لمحہ بھی آگیا
دل میں کرو اب عزم سفر گھر سمیٹ لو
اس صبر بے خلوص سے امید ہے فضول
کاسا اٹھاؤ ہاتھ میں چادر سمیٹ لو
محبوب کی گلی کے نشانی کے واسطے
گر کچھ نہیں ہے اور تو پتھر سمیٹ لو
آنسو بہے تو روئینگے بچے بہت جمیل
اشکوں کو اپنی آنکھ کے اندر سمیٹ لو