غزل برائے اصلاح ۔۔۔ احمد فراز کی زمین پر

منذر رضا — مارچ 5، 2019 4:51 شام
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔۔۔
الف عین
فلسفی
محمد تابش صدیقی
سید عاطف علی
یاسر شاہ
چھپتے ہو کیوں، پردہ اٹھا کیوں نہیں دیتے
روئے حسیں اک بار دکھا کیوں نہیں دیتے
کوچے میں مرا آنا جو منظور نہیں ہے
پھر نقشِ کفِ پا بھی مٹا کیوں نہیں دیتے
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا میں دوبارہ
اک بار مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے
گر تم کو ہے دعوی کہ قریبِ رگِ جاں ہو
پھر آتشِ فرقت کو بجھا کیوں نہیں دیتے
جب کہہ بھی دیا اس نے: "بھلا دو مجھے دل سے"
اس شوخ کو پھر دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے
جب تم نے جلایا ہے نشیمن کو، چمن کو
پھر میرے قفس کو بھی جلا کیوں نہیں دیتے!
شکریہ!
فلسفی — مارچ 5، 2019 5:10 شام
یہ سمجھ نہیں پایا
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 5:47 شام
چھپتے ہو کیوں، پردہ اٹھا کیوں نہیں دیتے
روئے حسیں اک بار دکھا کیوں نہیں دیتے
پہلا مصرع وزن سے خارج ہے -دوسرے میں "حسیں"زیادہ دب رہا ہے -الف عین صاحب اس کے خلاف ہیں کہ "حسیں" کو یوں دبایا جائے -شعر یوں کر دیں:
کیوں چھپتے پھرو ،پردہ اٹھا کیوں نہیں دیتے
اک بار حسیں چہرہ دکھا کیوں نہیں دیتے
-----------
کوچے میں مرا آنا جو منظور نہیں ہے
پھر نقشِ کفِ پا بھی مٹا کیوں نہیں دیتے
کوچے ؟؟--اس شعر کو بدل دیں
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا میں دوبارہ
اک بار مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے
گر تم کو ہے دعوی کہ قریبِ رگِ جاں ہو
پھر آتشِ فرقت کو بجھا کیوں نہیں دیتے
واہ -
جب کہہ بھی دیا اس نے: "بھلا دو مجھے دل سے"
اس شوخ کو پھر دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے
یہ بھی ٹھیک ہے -
جب تم نے جلایا ہے نشیمن کو، چمن کو
پھر میرے قفس کو بھی جلا کیوں نہیں دیتے!
کوئی قرینہ پیدا کیجئے جس سے لگے آپ نشیمن سے دور قید میں ہیں - ایسا کچھ :
سنتے ہیں نشیمن مرا جلتا ہے چمن میں
کیوں چھوڑا قفس- یہ بھی جلا کیوں نہیں دیتے
آپ کی شاعری ،الف عین صاحب کی محنت سے،دن بدن بہتری کی طرف رواں دواں ہے -ما شاء اللہ
الف عین — مارچ 5، 2019 5:48 شام
چھپتے ہو کیوں، پردہ اٹھا کیوں نہیں دیتے
روئے حسیں اک بار دکھا کیوں نہیں دیتے
..... پہلا مصرع 'کیوں' کی وجہ سے بحر سے خارج ہو گیا دوسرا بھی حسیں کو 'حَسِ' باندھنے کی وجہ سے رواں نہیں
کوچے میں مرا آنا جو منظور نہیں ہے
پھر نقشِ کفِ پا بھی مٹا کیوں نہیں دیتے
.... درست
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا میں دوبارہ
اک بار مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے
... درست، فلسفی 'تا کر' سے مراد ' تاکہ کر'
گر تم کو ہے دعوی کہ قریبِ رگِ جاں ہو
پھر آتشِ فرقت کو بجھا کیوں نہیں دیتے
درست
جب کہہ بھی دیا اس نے: "بھلا دو مجھے دل سے"
اس شوخ کو پھر دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے
جب تم نے جلایا ہے نشیمن کو، چمن کو
پھر میرے قفس کو بھی جلا کیوں نہیں دیتے!
دونوں اشعار درست
یعنی مطلع ہی دوسرا کہیں باقی درست ہے
منذر رضا — مارچ 5، 2019 5:56 شام
یاسر شاہ
صد شکر کہ بندے کی قسمت جاگی اور آپ نے بھی اس جانب التفات فرمایا، بالکل صحیح فرمایا آپ نے مطلع بدل لیتا ہوں، لیکن کوچے والے شعر میں کیا قباحت ہے؟
منذر رضا — مارچ 5، 2019 6:01 شام
الف عین صاحب
حضور یاسر شاہ صاحب کے مجوزہ دو اشعار تبدیل کر رہا ہوں:
مطلع
کیوں چھپتے پھرو، پردہ اٹھا کیوں نہیں دیتے
اک بار حسیں چہرہ دکھا کیوں نہیں دیتے
آخری شعر
سنتا ہوں نشیمن مرا جلتا ہے چمن میں
کیوں چھوڑا قفس ، یہ بھی جلا کیوں نہیں دیتے
شکریہ!
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 6:07 شام
صرف کوچے بھلا نہیں لگ رہا -"اپنے کوچے" -"اپنی گلی " -"گھر اپنے "وغیرہ کہیں وزن کے مطابق -
منذر رضا — مارچ 5، 2019 6:14 شام
یاسر شاہ
گر اپنی گلی میں مرا آنا نہیں منظور
یہ ٹھیک ہے؟
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 6:21 شام
ہاں اچھا مصرع ہے -
منذر رضا — مارچ 5، 2019 6:26 شام
اور یاسر شاہ صاحب۔۔۔ایک اور تبدیلی بھی ذرا دیکھ دیجے
یہ زیادہ بہتر ہے یا پچھلا؟
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا بھی دوبارہ
ساقی! مجھے اب زہر پلا کیوں نہیں دیتے؟
ممنونِ احسان ہوں!
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 6:43 شام
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا بھی دوبارہ
یہ والا بہتر ہے -نوک پلک سنوارنا تو خیر آخر تک رہتا ہے -ہو سکتا ہے اگلی نشست میں جب آمد ہو تو آپ کو اس سے بھی بہتر کوئی مصرع مل جائے -
لگے ہاتھوں ایک اور مشوره دوں - دوسروں کی کاوشوں پہ بھی تبصرہ کیا کریں-جب اچھی چیز کو سراہیں گے اور خام پہ تنقید تو اس سے آپ کی جمالیاتی حس میں زبردست ترقی ہو گی -نتیجتا اور اچھے شعر کہہ پائیں گے -اگر یہ جمالیاتی حس کم ہوگی تو آپ کو دوسروں کی رائے ہر وقت درکار ہوگی -
فلسفی — مارچ 5، 2019 6:48 شام
لگے ہاتھوں ایک اور مشوره دوں - دوسروں کی کاوشوں پہ بھی تبصرہ کیا کریں-جب اچھی چیز کو سراہیں گے اور خام پہ تنقید تو اس سے آپ کی جمالیاتی حس میں زبردست ترقی ہو گی -نتیجتا اور اچھے شعر کہہ پائیں گے -اگر یہ جمالیاتی حس کم ہوگی تو آپ کو دوسروں کی رائے ہر وقت درکار ہوگی -
یہ چیز ۔۔۔ ہمیں بھی چنے کے جھاڑ پر یونہی چڑھایا گیا تھا۔ :bulgy-eyes:
منذر رضا — مارچ 5، 2019 6:52 شام
یاسر شاہ
حضور نے بجا فرمایا،
مگر شاید حقیر کا مدعا صحیح طور سے ادا نہ ہو سکا
میرا مطلب تھا کہ شعر وہ ٹھیک ہے جو پہلے لکھا تھا یا یہ نیا شعر
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا بھی دوبارہ
ساقی! مجھے اب زہر پلا کیوں نہیں دیتے؟
زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔
آپ کی عنایت کا منتظر ہوں!
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 7:06 شام
تا کر نہ سکوں مے کا تقاضا بھی دوبارہ
ساقی! مجھے اب زہر پلا کیوں نہیں دیتے؟

کہہ تو دیا پیارے!یہ والی شکل زیادہ بہتر ہے :)
منذر رضا — مارچ 5، 2019 7:09 شام
یاسر شاہ
حضور بے حد عنایت، آپ کی التفات کا بہت مشکور ہوں، آپ کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا!
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 7:09 شام
یہ چیز ۔۔۔ ہمیں بھی چنے کے جھاڑ پر یونہی چڑھایا گیا تھا۔ :bulgy-eyes:
:ROFLMAO:
بھیا ہم بھی کسی کے چڑھائے ہوئے ہیں -سرور عالم راز صاحب انڈیا کے ہیں - امریکہ میں رہتے ہیں -خدا جانے ابھی کیسے ہیں -ای میل کرتا ہوں جواب نہیں دیتے ہیں -
تنقید تو سیکھے ہی ہم ان سے -وہ اپنی غزل پیش کرتے تھے اور صاف کہتے تھے رسمی واہ واہ تو مجھے چاہیے ہی نہیں -سب بیلاگ لکھیں- اس لکھنے کو وہ کبھی کہتے tongue in cheek اور کبھی thinking aloud
خود بھی جب اشعار پہ تنقید کرتے تو مجال نہیں کوئی ناقص شعر پہ ان سے داد لے لے -اس وجہ سے بیچارے معتوب بھی بہت رہتے تھے -مگر بقول حبیب جالب :
لوگ ہیں خامشی پہ زیرِ عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
غرض بڑے پیارے آدمی ہیں -
فلسفی — مارچ 5، 2019 7:26 شام
:ROFLMAO:
بھیا ہم بھی کسی کے چڑھائے ہوئے ہیں -سرور عالم راز صاحب انڈیا کے ہیں - امریکہ میں رہتے ہیں -خدا جانے ابھی کیسے ہیں -ای میل کرتا ہوں جواب نہیں دیتے ہیں -
تنقید تو سیکھے ہی ہم ان سے -وہ اپنی غزل پیش کرتے تھے اور صاف کہتے تھے رسمی واہ واہ تو مجھے چاہیے ہی نہیں -سب بیلاگ لکھیں- اس لکھنے کو وہ کبھی کہتے tongue in cheek اور کبھی thinking aloud
خود بھی جب اشعار پہ تنقید کرتے تو مجال نہیں کوئی ناقص شعر پہ ان سے داد لے لے -اس وجہ سے بیچارے معتوب بھی بہت رہتے تھے -مگر بقول حبیب جالب :
لوگ ہیں خامشی پہ زیرِ عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
غرض بڑے پیارے آدمی ہیں -
سو فیصد متفق
مجھے بھی سر الف عین صاحب کی یہی بات بہت پیاری لگتی ہے۔ بناوٹ سے پاک، صاف اور کھری بات کرتے ہیں۔۔۔ اب تو خال خال ہی ہیں ایسے لوگ۔ الله سلامت رکھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی اور اردو فورم پر شاید ایک دو بار سرور صاحب سے گفتگو ہوئی ہے، اپنی ایک غزل کے بارے میں۔ لیکن پرانی بات ہے اس کے بعد کافی عرصے تک ان کا جواب نہیں آیا اس لیے میں نے بھی اس فورم پر جانا چھوڑ دیا۔ اب یاد نہیں کون سا فورم تھا۔ ای میلز کھنگال کے دیکھوں گا۔
آپ کی تنقید بغرض اصلاح کا بھی بے حد ممنون ہوں۔ امید ہے آپ شفقت فرماتے رہیں گے۔ الله تعالی آپ کو دین اور دنیا کی تمام برکتیں عطا کرے۔ آمین
یاسر شاہ — مارچ 5، 2019 7:43 شام
ب یاد نہیں کون سا فورم تھا۔ ای میلز کھنگال کے دیکھوں گا۔
اردوانجمن تھی -اب نہیں رہی -
آپ کی تنقید بغرض اصلاح کا بھی بے حد ممنون ہوں۔ امید ہے آپ شفقت فرماتے رہیں گے۔ الله تعالی آپ کو دین اور دنیا کی تمام برکتیں عطا کرے۔ آمین
ان شاء اللہ -آمین -ممنونِ محبّت -
الف عین — مارچ 6، 2019 3:44 شام
بہتر طریقہ یہی ہے کہ اپنے ہر مصرع پر بالکل مطمئن نہیں ہوا جائے، اس وقت تک جب تک کہ وہ کسی مجموعے کی زینت نہ بن جائے۔ رسالوں میں شائع ہونے کے بعد بھی کوئی بہتری کی صورت محسوس ہو تو بغیر جھجک کے وہ تبدیلی کر لینی چاہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%D9%BE%D8%B1.105799/