غزل برائے اصلاح ۔۔۔اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی کو کھا گئی

منذر رضا — مارچ 26، 2019 5:59 صبح
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے
الف عین یاسر شاہ فلسفی محمد خلیل الرحمٰن محمد تابش صدیقی
عظیم
اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی کو کھا گئی
اک نگہِ یار کتنی شرابیں پلا گئی
یہ عطر میں رچی ہوئی بادِ صبا ہمیں
پھر تیری زلف کھلنے کا مژدہ سنا گئی
خونِ جگر سے گو اسے چاہا تھا روکنا
لیکن شرابِ غم بھی رگوں میں سما گئی
بھرتے تھے ان سے زخم، ولیکن ہوائے غم
ان مسکراہٹوں کو نمکداں بنا گئی
ماضی گزیدگی کی یہ معراج دیکھیے
فردا کے آسماں پہ بھی اب یاس چھا گئی
شاید چمن میں پھول کھلائے بھی ہوں مگر
میرا چراغ بادِ بہاری بجھا گئی
آخر یگانہ کا یہ سفر بھی ہوا تمام
اس انتظارِ یار میں اب موت آ گئی
شکریہ!
فلسفی — مارچ 26، 2019 6:09 صبح
اک نگہِ یار کتنی شرابیں پلا گئی
اس مصرعے کو ذرا دیکھ لیجیے دوبارا۔
کہیں کہیں الفاظ کے گرنے کی وجہ سے روانی متاثر ہے۔ اور کچھ مشکل الفاظ کی وجہ سے میری سمجھ متاثر ہے۔ :)
منذر رضا — مارچ 26، 2019 6:14 صبح
فلسفی
جی اشارہ کرنے کا شکریہ
مصرعہ بدل دیا
اس کی نگاہِ ناز شرابیں پلا گئی
یاسر شاہ — مارچ 26، 2019 7:49 صبح
یہ عطر میں رچی ہوئی بادِ صبا ہمیں
پھر تیری زلف کھلنے کا مژدہ سنا گئی
واہ صاحب !
یاسر شاہ — مارچ 26، 2019 7:54 صبح
اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی کو کھا گئی
اک نگہِ یار کتنی شرابیں پلا گئی
نگہ کا تلفّظ غلط بندھا ہے -چشم کر دیں اور پہلا مصرع ذراتبدیل کر دیں :
اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی جلا گئی
اک چشمِ یار کتنی شرابیں پلا گئی
یاسر شاہ — مارچ 26، 2019 7:58 صبح
باقی غزل بعد میں فرصت سے دیکھنے والی ہے ابھی ڈیوٹی پہ جانا ہے -
فلسفی — مارچ 26، 2019 8:21 صبح
ابھی ڈیوٹی پہ جانا ہے
یعنی ابھی جانا ہے :eek:، یا اللہ خیر
منذر رضا — مارچ 26، 2019 8:29 صبح
باقی غزل بعد میں فرصت سے دیکھنے والی ہے ابھی ڈیوٹی پہ جانا ہے -
یاسر شاہ
میں منتظر رہوں گا!
سعید احمد سجاد — مارچ 26، 2019 9:38 صبح
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی گزارش ہے
الف عین یاسر شاہ فلسفی محمد خلیل الرحمٰن محمد تابش صدیقی
عظیم
اک برقِ جلوہ خرمنِ ہستی کو کھا گئی
اک نگہِ یار کتنی شرابیں پلا گئی
یہ عطر میں رچی ہوئی بادِ صبا ہمیں
پھر تیری زلف کھلنے کا مژدہ سنا گئی
خونِ جگر سے گو اسے چاہا تھا روکنا
لیکن شرابِ غم بھی رگوں میں سما گئی
بھرتے تھے ان سے زخم، ولیکن ہوائے غم
ان مسکراہٹوں کو نمکداں بنا گئی
ماضی گزیدگی کی یہ معراج دیکھیے
فردا کے آسماں پہ بھی یاس چھا گئی
شاید چمن میں پھول کھلائے بھی ہوں مگر
میرا چراغ بادِ بہاری بجھا گئی
آخر یگانہ کا یہ سفر بھی ہوا تمام
اس انتظارِ یار میں اب موت آ گئی
شکریہ!
فردا کے آسماں پہ بھی یاس چھا گئی
اس مصرعے کا وزن گر رہا ہے میرے خیال میں دیکھ لیجیے گا
منذر رضا — مارچ 26، 2019 9:52 صبح
سعید احمد سجاد
بہت شکریہ بھائی، درحقیقت ٹایپنگ میں غلطی ہو گئی تھی، *اب* رہ گیا تھا،وہ لکھ دیا۔۔۔
شکریہ!
الف عین — مارچ 26، 2019 3:35 شام
درست ہے غزل۔ نگہ کے تلفظ میں یاسر کا مشورہ ( چشم ) زیادہ بہتر لگ رہا ہے نہ نسبت نگاہِ ناز کے۔ اک چشم کے ساتھ کتنی شرابیں زیادہ بہتر ہے محاورے کے لحاظ سے
منذر رضا — مارچ 26، 2019 3:50 شام
شکریہ الف عین صاحب
یاسر شاہ — مارچ 26، 2019 5:43 شام
لیکن شرابِ غم بھی رگوں میں سما گئی
بھرتے تھے ان سے زخم، ولیکن ہوائے غم
ان مسکراہٹوں کو نمکداں بنا گئی
ماضی گزیدگی کی یہ معراج دیکھیے
فردا کے آسماں پہ بھی اب یاس چھا گئی

بھائی مجھے یہ تینوں اشعار تشنہ محسوس ہوئے -ہر شعر میں کوئی کمی پائیں گے، اگر نثر کر کے دیکھیں گے -
شاید چمن میں پھول کھلائے بھی ہوں مگر
میرا چراغ بادِ بہاری بجھا گئی
آخر یگانہ کا یہ سفر بھی ہوا تمام
اس انتظارِ یار میں اب موت آ گئی

دونوں اشعار خوب ہیں -
منذر رضا — مارچ 26، 2019 6:28 شام
یاسر شاہ حضور بالکل بجا فرمایا ، مجھے بھی ان اشعار کے متعلق شک تھا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A7%DA%A9-%D8%A8%D8%B1%D9%82%D9%90-%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81-%D8%AE%D8%B1%D9%85%D9%86%D9%90-%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DA%AF%D8%A6%DB%8C.106122/