غزل برائے اصلاح۔

منذر رضا — اپریل 17، 2019 8:11 شام
السلام علیکم، اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے
الف عین
یاسر شاہ
عظیم
دشتِ جنوں کے راہی کہیں تھک کے سو گئے
منزل ملی نہ راستہ ،خوابوں میں کھو گئے
اے دل ،ترے لیےیہ عنایت بھی ہے بہت
وہ تجھ میں آئے، تخمِ تمنا بھی بو گئے
خونِ جگر سے میری قبا داغ داغ تھی
وہ چشمِ التفات سے سب داغ دھو گئے
شبگیر نالے جن کی علامت تھے شہر میں
شدت سے یاس کی وہ سرِ شام سو گئے
خوش تھے تو قہقوں سے فلک کو ہلا دیا
رونے پہ آئے ہم تو سمندر ڈبو گئے!
وہ دل جو سال بھر تھے بہاروں سے باغ باغ
فصلِ بہار میں وہ خزاں جیسے ہو گئے!
شکریہ!
عظیم — اپریل 17، 2019 11:50 شام
دشتِ جنوں کے راہی کہیں تھک کے سو گئے
منزل ملی نہ راستہ ،خوابوں میں کھو گئے
۔۔۔راستہ تو تھا تبھی تو راہی تھے
اے دل ،ترے لیےیہ عنایت بھی ہے بہت
وہ تجھ میں آئے، تخمِ تمنا بھی بو گئے
۔۔۔'عنایات ہیں بہت' میرا خیال ہے کہ درست رہے گا۔ دوسرے مصرع میں دو چیزوں کا ذکر ہے اس لیے
خونِ جگر سے میری قبا داغ داغ تھی
وہ چشمِ التفات سے سب داغ دھو گئے
۔۔۔درست
شبگیر نالے جن کی علامت تھے شہر میں
شدت سے یاس کی وہ سرِ شام سو گئے
۔۔۔
'نالے' میں ے کا گرنا اچھا نہیں لگ رہا باقی مجھے درست معلوم ہو رہا ہے
خوش تھے تو قہقوں سے فلک کو ہلا دیا
رونے پہ آئے ہم تو سمندر ڈبو گئے!
۔۔۔۔۔۔سمندر ڈبونا ذہن قبول نہیں کر رہا۔ دنیا وغیرہ لے آئیں
وہ دل جو سال بھر تھے بہاروں سے باغ باغ
فصلِ بہار میں وہ خزاں جیسے ہو گئے!
۔۔۔۔درست
الف عین — اپریل 18، 2019 6:09 صبح
مطلع میں راہی کی ی کا اسقاط بھی اچھا نہیں لگتا
سمندر ڈبو گئے.. قبول کیا جا سکتا ہے
منذر رضا — اپریل 19، 2019 9:58 صبح
دو اشعار تبدیلی کے بعد
الف عین
عظیم
آوارگانِ دشت کہیں تھک کے سو گئے
منزل ملی نہ راستہ، خوابوں میں کھو گئے
کرتے تھے کل تلک جو مناجات رات بھر
مایوس ہو کے آج سرِ شام سو گئے
یاسر شاہ — اپریل 19، 2019 7:12 شام
واہ منذر میاں ! بہت خوب غزل ہے -مجھے تو ہر شعر اچھا لگا -
صرف اس میں ذرا سا جھول محسوس ہوا :
خونِ جگر سے میری قبا داغ داغ تھی
وہ چشمِ التفات سے سب داغ دھو گئے

کہ بغیر کسی ظاہری سبب کے داغ محض التفات سے کیسے دھل گئے ؟
منذر رضا — اپریل 19، 2019 7:48 شام
یاسر شاہ
حضور داد کے لیے شکر گزار ہوں۔آپ جیسے سخن فہم افراد کی داد ہی میرا سرمایۂ افتخار ہے۔
اس شعر کی بابت عرض یہ ہے کہ اس میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ معشوق نے جب میری قبا کو داغ داغ دیکھا، تو چشمِ التفات سے اشک رواں ہو گئے جن سے سب داغ دھل گئے۔
اگر یہ معنی اس شعر سے بعید ہو تو بتلائیے گا، تا کہ کچھ تبدیلی کی جائے۔
عنایت!
یاسر شاہ — اپریل 19، 2019 7:51 شام
یہی تو کہنا چاہ رہا ہوں کہ یہ مفہوم شعر سے ظاہر نہیں ہوتا -
منذر رضا — اپریل 19، 2019 8:03 شام
یاسر شاہ
حضور تھوڑی سی یہ رہنمائی فرمائیے کہ کیا کمی ہے، اور اسے کس طرح سے دور کیا جائے، مثلاً اشکوں کا ذکر لایا جائے یا کیا؟
رہنمائی کے لیے بہت بہت شکر گزار ہوں۔۔۔۔
یاسر شاہ — اپریل 19، 2019 8:09 شام
مثلا ایسی کوئی بات کیجیے کہ انھیں دیکھ کر خوشی کے آنسو بہے اور سب داغ دھل گئے-مجھے تو فی الحال کوئی منظوم صورت نہیں سوجھ رہی - آپ خود ہی سوچیے -
الف عین — اپریل 20، 2019 4:25 صبح
میرے خیال میں یہ مفہوم ادا ہو جاتا ہے اگرچہ قاری کو غور کرنا پڑے گا
الف عین — اپریل 20، 2019 4:26 صبح
تبدیل شدہ اشعار بھی درست ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94.106471/