غزل برائے اصلاح۔ ان کو خوئے وفا نہ ہو جائے

منذر رضا — اپریل 12، 2019 7:27 شام
السلام علیکم۔۔۔اساتذہ سے اصلاح کی درخواست ہے۔۔۔۔
یاسر شاہ
الف عین
عظیم
محمد تابش صدیقی
فلسفی
ان کو خوئے وفا نہ ہو جائے
درد و غم کی دوا نہ ہو جائے
کوئی سمجھے تو کچھ کہوں میں بھی
ورنہ یاں کچھ برا نہ ہو جائے
چوم لوں تجھ کو ، ہاں مگر ڈر ہے
اک تماشا نیا نہ ہو جائے
ظلم اب بھی نہیں مکمل دوست
ورنہ محشر بپا نہ ہو جائے؟
میں گلی سے تری نہ جاؤں گا
جب تلک غم عطا نہ ہو جائے
اے قلم لکھ مگر خیال یہ رکھ
ظالموں کی ثنا نہ ہو جائے
کثرتِ آہ سے ہے ڈر، کہ یہ غم
نغمۂ بے صدا نہ ہو جائے
جس سے رشتے کئی ہیں میرے آج
وہ مقابل کھڑا نہ ہو جائے
میں یگانہ نہیں رہوں گا اگر
ساری دنیا یگانہ ہو جائے!
شکریہ!
منذر رضا — اپریل 14، 2019 5:12 صبح
الف عین
یاسر شاہ
عظیم
الف عین — اپریل 14، 2019 7:03 صبح
واہ، ماشاء اللہ اچھی غزل ہے اور درست، بس یہ شعر واضح نہیں ہو رہا
ظلم اب بھی نہیں مکمل دوست
ورنہ محشر بپا نہ ہو جائے؟
منذر رضا — اپریل 14، 2019 9:24 صبح
الف عین
بہت بہت شکریہ استادِ محترم۔
اس شعر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک ظلم انتہا تک نہیں پہنچتا، محشر کیسے بپا ہو گا؟؟؟
الف عین — اپریل 15، 2019 9:45 صبح
الف عین
بہت بہت شکریہ استادِ محترم۔
اس شعر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک ظلم انتہا تک نہیں پہنچتا، محشر کیسے بپا ہو گا؟؟؟
شعر سے یہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا ۔ اس کو نکال ہی دو
منذر رضا — اپریل 15، 2019 11:16 صبح
جی الف عین صاحب، صحیح فرمایا، شعر نکال دیتا ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94-%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%AE%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D9%86%DB%81-%DB%81%D9%88-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.106404/