غزل برائے اصلاح۔ رہِ وفا میں چراغِ ہوس جلاتے نہیں

منذر رضا — ستمبر 2، 2019 1:33 شام
السلام علیکم!
اساتذہ سے اصلاح کی گذارش ہے۔
الف عین
یاسر شاہ
سید عاطف علی
رہِ وفا میں چراغِ ہوس جلاتے نہیں
یگانہ ہم کبھی احسانِ غیر اٹھاتے نہیں
دلِ سیاہ میں سیلابِ نور کیسے آئے
وہ اپنے روئے حسیں سے نقاب اٹھاتے نہیں
ہجومِ اشک، سرِ چشم سے لوٹ گیا
کہ شاخِ بید پہ غافل، کبھی پھل آتے نہیں
نفس نفس سے مجھے بوئے دوست آتی ہے
ہوا کے جھونکے کبھی آگ کو بجھاتے نہیں
فراق میں بھی اب احساسِ قرب ہوتا ہے
ہم اپنے جسمِ شکستہ میں روح پاتے نہیں!
شکریہ!
سعید احمد سجاد — ستمبر 2، 2019 4:19 شام
ماشأﷲ اچھی غزل ہے
ہجومِ اشک، سرِ چشم سے لوٹ گیا
کہ شاخِ بید پہ غافل، کبھی پھل آتے نہیں
اس کے پہلے مصرعہ میں میرے خیال سے چشم سے کے بعد ہی یا کوئی لفظ ٹائپ ہونے سے رہ گیا ہے
نفس نفس سے مجھے بوئے دوست آتی ہے
ہوا کے جھونکے کبھی آگ کو بجھاتے نہیں
دوسرے مصرعے میں میرے خیال سے" کو "بھرتی کا محسوس ہو رہا ہے اور روانی بھی متاثر کر رہا ہے
ملک عدنان احمد — ستمبر 2، 2019 5:47 شام
دلِ سیاہ میں سیلابِ نور کیسے آئے
دلِ سیاہ میں سیلابِ نور کیا آئے
ہجومِ اشک، سرِ چشم سے لوٹ گیا
ہجومِ اشک، سرِ چشم سے ہی لوٹ گیا
الف عین — ستمبر 3، 2019 4:21 صبح
سیلاب نور کیسے آئے. بھی درست ہے
ہجوم اشک والے شعر میں ہی' کا اضافہ عمدہ ہے
دلِ سیاہ میں سیلابِ نور کیا آئے
ہجومِ اشک، سرِ چشم سے ہی لوٹ گیا
ہوا کے جھونکے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں لگتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94-%D8%B1%DB%81%D9%90-%D9%88%D9%81%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA%D9%90-%DB%81%D9%88%D8%B3-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D8%AA%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.108279/