غزل برائے اصلاح۔مومن کی زمین میں

منذر رضا — اپریل 23، 2019 6:06 شام
السلام علیکم۔ اساتذہ سے اصلاح کی درخواسے ہے
الف عین
فلسفی یاسر شاہ
عظیم
عشق کا حق ادا نہیں ہوتا
تم سے وعدہ وفا نہیں ہوتا
درد کیسے بھلائیں ہم یارو
میکدہ اب کھلا نہیں ہوتا
جس کے نغمے سرور دیتے تھے
اب وہ نغمہ سرا نہیں ہوتا
غیر رہتا ہے ساتھ اس کے اور
ایک پل کو جدا نہیں ہوتا
کچھ میں ہوتا ہے بے رخی کا رنگ
ہر ستم تو جفا نہیں ہوتا!
شکریہ۔
فلسفی — اپریل 23، 2019 6:40 شام
السلام علیکم۔ اساتذہ سے اصلاح کی درخواسے ہے
الف عین
فلسفی یاسر شاہ
عظیم
عشق کا حق ادا نہیں ہوتا
تم سے وعدہ وفا نہیں ہوتا
درد کیسے بھلائیں ہم یارو
میکدہ اب کھلا نہیں ہوتا
جس کے نغمے سرور دیتے تھے
اب وہ نغمہ سرا نہیں ہوتا
غیر رہتا ہے ساتھ اس کے اور
ایک پل کو جدا نہیں ہوتا
کچھ میں ہوتا ہے بے رخی کا رنگ
ہر ستم تو جفا نہیں ہوتا!
شکریہ۔
کچھ اشعار میں ردیف لطف نہیں دے رہی۔ مثلا دوسرا اور تیسرا شعر۔
الف عین — اپریل 24، 2019 5:37 صبح
بظاہر تو غزل اغلاط سے پاک لگتی ہے۔ آسان زمین ہے، کچھ مزید اشعار شامل کیے جا سکتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%94%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA.106544/