1۔اگر تم مجھ سے پوری طرح واقف ہو چکے ہو تو یہ بھی علم ہو گا کہ میں انکاری ’نہ‘ کو ’نا‘ کے طور پر دو حرفی باندھنا پسند نہیں کرتا۔
2۔ اس کے علاوہ تو، جو کو طویل کھینچنا بھی پسند نہیں۔ جُ اور ت‘ اگر آ سکیں۔
3۔ ’پر‘ بمعنی لیکن کا استعمال بھی مجھے پسند نہیں۔ اگر ’مگر‘ یا ’لیکن‘ یا وگرنہ وغیرہ آ سکے۔ اور الفاظ بدلنے پر اچھی طرح آ سکتا ہے۔
یہ عمومی اصول ہیں اس لیے پہلے لکھ دئے ہیں کہ یاد رہیں۔
اب اگر ردیف قبول کر بھی لی جائے تو باقی اشعار۔۔۔
وہ مرے درد کی بھی دوا نا کرے
اب یوں بھی ہو جہاں میں خدا نا کرے
۔۔ ’یوں بھی‘ کو ’یُبی‘ تقطیع کرنا بھی ناگوار محسوس ہوتا ہے۔
گھر کے دروازے تو بند ہیں دیر سے
آو ملنے تو کوئی ملا نا کرے
۔۔اوپر کا اصول نمبر 2 بطورخاص جب دروازے کی ’ے‘ بھی حذف کر دی جائے۔
دل بڑا چپ ہے پر ایسا بھی اب نہیں
تیرے کوچے سے گزرے' صدا نا کرے
۔۔درست لیکن یہاں بھی ’ایسا بھی‘ پہلے لفظ میں الف کا اسقاط اور ’بھی‘ کی ’ی‘ کا کھینچا جانا مستحسن نہیں۔
جو بھی چاہے ستم وہ روا رکھے پر
ہم کو خود سے کبھی بھی جدا نا کرے
۔۔ اصول نمبر 3
وہ دے کوئی خلش جو جگر میں رہے
چاہے اس کے سوا کچھ عطا نا کرے
۔درست
دل وہ ملا ہے اُس کو کہ توبہ بھلی
مرتا دیکھے مجھے تو دعا نا کرے
۔۔بحر میں نہیں آتا۔ تقطیع کر کے دیکھو۔ ’کو کہ‘ میں عیب تنافر بھی ہے۔
سر' جن باتوں کی نشاندہی فرمائی گئی ان کی روشنی میں کاوش ملاحظہ ہو۔
مِرے درد کی اب دوا نا کرے
یوں کرے وہ ستم گر' خدا نا کرے
گھر کے دروازے اب بند ہیں دوستو
آو ملنے تو کوئی ملا نا کرے
سوچ ایسا اگر ہو کہ چپ چاپ دل
تیرے کوچے سے گزرے صدا نا کرے
وہ دے کوئی خلش جو جگر میں رہے
چاہے اس کے سِوا کچھ عطا نا کرے
جو بھی چاہے ستم وہ کرے ٹھیک ہے
خود سے لیکن کبھی وہ جدا نا کرے
ہے وہ دل اُس کے سینے میں توبہ کرو
مرتا دیکھے مجھےگر دعا نا کرے