غزل تصویر کا جو دوسرا رخ تھا، نہیں دیکھا
ہم نے کبھی امکان کا رستہ نہیں دیکھا جس حال میں،جس جا بھی رہے،خود سے رہے دور
اک شخص بھی اپنی طرف آتا نہیں دیکھا اک غم کہ ہمیں راس بہت تھا ،سو نہیں ہے
مدت سے نمِ چشم کو رسوا نہیں دیکھا اے نقش گرِ خواب! ذرا دھیان ادھر بھی
ہم نے کبھی تعبیر کا چہرہ نہیں دیکھا قرطاسِ دلِ زار پہ یہ نقشِ شکستہ!
وہ کون تھا جس نے مجھے دیکھا، نہیں دیکھا یہ روگ مرے فکر کی تجسیم کرے گا
سورج نے مرے شہر کا نقشہ نہیں دیکھا کچھ تم بھی کہو، میری تو گویائی چلی بس!
کیا دیکھ لیا تم نے یہاں،کیا نہیں دیکھا چپ چاپ نوید اپنی حدوں میں پلٹ آؤ
ہم نے بھی کئی دن سے تماشا نہیں دیکھا (نوید صادق)
محمد وارث — اپریل 18، 2008 5:09 صبح
بہت خوشی ہو رہی ہے نوید صاحب آپ کے ایک طویل عرصے کے بعد محفل پر دیکھ کر اور افسوس بھی ہوا یہ جان کر کہ آپ علیل تھے، اللہ تعالٰی آپ کو صحت عطا فرمائیں۔ اور بہت خوبصورت غزل ہے یہ، بہت داد قبول کیجیئے، سبھی اشعار بہت اچھے ہیں۔ لاجواب۔
اس شعر میں لفظ 'دھیان' پر میرا دھیان بار بار جا رہا ہے کہ یہ بحر میں صرف اسی طرح پورا اترتا ہے کہ 'دھیان' کی 'ی' کو لفظ کے درمیان سے گرا کر اسے 'دان' پڑھا جائے، جو کہ شاید درست نہیں ہے، آپ کی کیا رائے ہے۔
اس شعر میں لفظ 'دھیان' پر میرا دھیان بار بار جا رہا ہے کہ یہ بحر میں صرف اسی طرح پورا اترتا ہے کہ 'دھیان' کی 'ی' کو لفظ کے درمیان سے گرا کر اسے 'دان' پڑھا جائے، جو کہ شاید درست نہیں ہے، آپ کی کیا رائے ہے۔
وارث صاحب! میری رائے میں "دھیان" کی ادائیگی کے سلسلے میں اس کی ی کے ساتھ بھی سوالیہ "کیا" کی ی کا سا سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے۔ یعنی وزن کے اعتبار سے دھیان اور دھان ایک ہی ہیں۔ دھیان آ گیا ہے مرگِ دلِ نا مراد کا
ملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی
ادا جعفری
خرم شہزاد خرم — اپریل 18، 2008 6:39 صبح
السلام علیکم جناب نوید صادق صاحب آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کیسے ہیں آپ اب آپ کی طبیعت کیسی ہے مجھے افسوس ہے کہ میں آپ سے رابطہ نہیں کر سکا میں نے ویسے آپ کو ایک دو دفعہ فون بھی کیا تھا لیکن آپ شاہد سو رہے تھے یا مصرف تھے اس لے بات نہیںہو سکی اب آپ کسے ہیں غزل تو مشاءاللہ بہت اچھی ہے آپ کو تو پتہ ہے ہم تنقید تو نہیں کر سکتے لیکن اتنا ہے کہ آپ کی اس غزل سے بہت کچھ سیکھنے کو مل جاے گا بہت شکریہ
وارث صاحب! میری رائے میں "دھیان" کی ادائیگی کے سلسلے میں اس کی ی کے ساتھ بھی سوالیہ "کیا" کی ی کا سا سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے۔ یعنی وزن کے اعتبار سے دھیان اور دھان ایک ہی ہیں۔ دھیان آ گیا ہے مرگِ دلِ نا مراد کا
ملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی
ادا جعفری
بہت شکریہ جناب، میری کنفیوژن دور ہو گئی، نوازش آپ کی اور معذرت نوید صادق صاحب سے۔
فرخ منظور — اپریل 18، 2008 8:28 صبح
بہت اچھی غزل ہے نوید صاحب دھیان لگا کر رکھیے اپنی شاعری پر تاکہ مزید اچھی غزلیں پڑھ سکیں - بہت شکریہ !
نوید صادق — اپریل 18، 2008 9:07 صبح
وارث بھائی!!
معذرت کی اس میں کیا بات ہے۔ یہ تو سیکھنے سکھانے کا عمل ہے۔ سند کے لئے یگانہ کا ایک شعر کس کی آواز کان میں آئی
دور کی بات دھیان میں آئی (یگانہ)
الف عین — اپریل 18، 2008 6:42 شام
ناصر کا بھی تو ہے۔ ا
س کی صورت بھی دھیان سے اتری۔
بلکہ دھیان کو اگر دھِیان باندھا گیا تو فاش غلطی ہوگی۔ ہندی کے لفظ میں بھی نصف دھ ہے، گیان کی طرح۔
اور نوید کی اس خوبصورت غزل کے اسی شعر پر میرا دھیان دوسرے مصرعے کی طرف گیا:
ہم نے کبھی تعبیر کا چہرہ نہیں دیکھا
آنے دو تعیر کو ان کے انٹر ویو کے لئے۔ قلمی۔۔۔ یعنی سائبر چہرہ تو ہم سب دیکھ ہی سکتے ہیں ایک دوسرے کا۔
معاف کرنا نوید۔۔ مذاق سوجھ گیا۔ لیکن یہ غزل متقاضی ہے کہ ایک بار پھر بھر پور داد دی جائے۔
پچھلی غزل سمت کے تازہ شمارے میں شامل کی تھی۔ دیکھ لی؟
نوید صادق — اپریل 18، 2008 7:25 شام
ویسے آپس کی بات ہے، سودا نے ایک جگہ دھیان کو پورا بھی باندھ رکھا ہے۔ لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب کئی چیزیں اپنی حتمی شکل میں نہیں آئی تھیں تھیں۔ لیکن ان کے ہمعصر درد نے دھیان بروزن دان باندھا ہے، اور یہی صحیح ہے۔
غزل تصویر کا جو دوسرا رخ تھا، نہیں دیکھا
ہم نے کبھی امکان کا رستہ نہیں دیکھا جس حال میں،جس جا بھی رہے،خود سے رہے دور
اک شخص بھی اپنی طرف آتا نہیں دیکھا اک غم کہ ہمیں راس بہت تھا ،سو نہیں ہے
مدت سے نمِ چشم کو رسوا نہیں دیکھا اے نقش گرِ خواب! ذرا دھیان ادھر بھی
ہم نے کبھی تعبیر کا چہرہ نہیں دیکھا قرطاسِ دلِ زار پہ یہ نقشِ شکستہ!
وہ کون تھا جس نے مجھے دیکھا، نہیں دیکھا یہ روگ مرے فکر کی تجسیم کرے گا
سورج نے مرے شہر کا نقشہ نہیں دیکھا کچھ تم بھی کہو، میری تو گویائی چلی بس!
کیا دیکھ لیا تم نے یہاں،کیا نہیں دیکھا چپ چاپ نوید اپنی حدوں میں پلٹ آؤ
ہم نے بھی کئی دن سے تماشا نہیں دیکھا (نوید صادق)
بہت پیاری غزل ہے صادق صاحب، واہ واہ، یہ شعر تو کمال کا ہے، جس حال میں،جس جا بھی رہے،خود سے رہے دور
اک شخص بھی اپنی طرف آتا نہیں دیکھا اور اس شعر نے بھی دل کے تار چھودیئے۔ اے نقش گرِ خواب! ذرا دھیان ادھر بھی
ہم نے کبھی تعبیر کا چہرہ نہیں دیکھا آپ کو داد کے ڈھیروں پھول قبول ہوں۔
زرقا مفتی — اپریل 19، 2008 6:30 صبح
نوید صادق صاحب
ؔپ کی غزل کے بیشتر اشعار پسندآئے
میری جانب سے داد قبول کیجئے
والسلام
زرقا
غزل تصویر کا جو دوسرا رخ تھا، نہیں دیکھا
ہم نے کبھی امکان کا رستہ نہیں دیکھا جس حال میں،جس جا بھی رہے،خود سے رہے دور
اک شخص بھی اپنی طرف آتا نہیں دیکھا اک غم کہ ہمیں راس بہت تھا ،سو نہیں ہے
مدت سے نمِ چشم کو رسوا نہیں دیکھا اے نقش گرِ خواب! ذرا دھیان ادھر بھی
ہم نے کبھی تعبیر کا چہرہ نہیں دیکھا قرطاسِ دلِ زار پہ یہ نقشِ شکستہ!
وہ کون تھا جس نے مجھے دیکھا، نہیں دیکھا یہ روگ مرے فکر کی تجسیم کرے گا
سورج نے مرے شہر کا نقشہ نہیں دیکھا کچھ تم بھی کہو، میری تو گویائی چلی بس!
کیا دیکھ لیا تم نے یہاں،کیا نہیں دیکھا چپ چاپ نوید اپنی حدوں میں پلٹ آؤ
ہم نے بھی کئی دن سے تماشا نہیں دیکھا (نوید صادق)
میں نے بھی ابھی غور کیا کہ یہ اصلاح سخن میں پوسٹ کی گئی ہے!!
نوید صادق — فروری 13، 2009 7:31 صبح
لیکن کسی نے توجی ہی نہیں کی۔
خرم شہزاد خرم — فروری 13، 2009 7:50 صبح
ایک دفعہ پھر پرنے کا موقع ملا بہت خوب نوید صاحب بہت اچھی غزل ہے
محمد نعمان — فروری 14، 2009 4:26 صبح
بہت خوب نوید بھیا واہ واہ۔۔۔۔۔
لگے رہو نوید بھائی
ایم اے راجا — فروری 21، 2009 10:15 صبح
نوید بھائی داد تو میں پہلے بھی دے چکا ہوں آج اس غزل کو دوبارہ پڑھا تو ایک نقطہ نکل آیا جو کہ میری کم علمی کی وجہ سے میری سمجھ میں نہیں آیا یا یوکہیں کہ کم مطالعہ کی وجہ سے نظر سے نہیں گذرا۔ اک غم کہ ہمیں راس بہت تھا ،سو نہیں ہے
مدت سے نمِ چشم کو رسوا نہیں دیکھا نمِ چشم کیا لفظ ہے کیونکہ میں نے چشمِ نم ہی پڑھا ہے، چشمِ نم یعنی گیلی آنکھ، نمِ چشم ، کا کیا مطلب ہو گا، کیا اس سے سے مراد آنکھ کا گیلا پن ہے، یا آنکھ کا آنسو؟
الف عین — فروری 21، 2009 4:43 شام
صحیح سمجھے ہو راجا۔۔ نمِ چشم سے مراد آنسو۔۔۔ بلکہ درست کہو تو آنکھوں کی نمی۔
ایم اے راجا — فروری 22، 2009 7:42 صبح
شکریہ استادِ محترم، ایک سوال اور کہ کیا یہ کوئی نئی ترکیب ہے یا بِلا تردد اسے استعمال کیا جاسکتا ہے اور استعمال ہوتا رہا ہے؟
مغزل — اگست 12، 2009 9:35 صبح
نوید بھائی رسید کے بعد حاضر ہوں۔ مقدور بھر تبصرہ کرنے کے لیے ، اجازت (؟)