غزل برائے تنقید و اصلاح "رات ہے اور خمار باقی ہے"

محمدارتضیٰ آسی — دسمبر 10، 2013 11:59 صبح
رات ہے اور خمار باقی ہے
شدّتِ انتظار باقی ہے
بال اُلجھے ہوئے سے رہتے ہیں
نشّہِ زلفِ یار باقی ہے

"مرگئے ہیں خدا سبھی" لیکن
خوئے شب زندہ دار باقی ہے
مقتلِ عشق ہوگیا ویراں
پھر بھی اک شہسوار باقی ہے
آج کی رات روئے کافر پر
اک انوکھا نکھار باقی ہے
بزم، ساقی، شراب کچھ نہ رہا
پھر بھی اک بادہ خوار باقی ہے
منزلیں مٹ گئی ہیں آسی کی
خواہشوں کا غبار باقی ہے
محمد ارتضیٰ آسی
خالد محمود چوہدری — دسمبر 10، 2013 12:03 شام
"مرگئے ہیں خدا سبھی" لیکن
خوئے شب زندہ دار باقی ہے
"مرگئے ہیں اے خدا سبھی" لیکن
خوئے شب زندہ دار باقی ہے
یہ اصلاح نہیں ہے بس ذرا تاثر غلط ملتا ہے
مہدی نقوی حجاز — دسمبر 10، 2013 12:06 شام
"مرگئے ہیں خدا سبھی" لیکن
خوئے شب زندہ دار باقی ہے
"مرگئے ہیں اے خدا سبھی" لیکن
خوئے شب زندہ دار باقی ہے
یہ اصلاح نہیں ہے بس ذرا تاثر غلط ملتا ہے
جناب یہاں تاثر غلط دینا ہے مراد ہے!
شاعر نطشے کے فلسفے "دی ڈیتھ آف گاڈ" کو استعارہ بنا کر پیش کر رہا ہے!
خالد محمود چوہدری — دسمبر 10، 2013 12:13 شام
جناب یہاں تاثر غلط دینا ہے مراد ہے!
شاعر نطشے کے فلسفے "دی ڈیتھ آف گاڈ" کو استعارہ بنا کر پیش کر رہا ہے!

جناب آپ درست فرما رہے ہیں، بس مجھے اچھا نہیں لگااس لئے لکھ دیا۔ ویسے اگر کوئی غلط لفظ، یا گناہ کے الفاظ استعمال کرے تو انہیں دہرانا مجھے پسند نہیں، میںنے نقص نہیں نکالا تھا۔ اپنی سمجھ میں جوآیا کہہ دیا
الف عین — دسمبر 11، 2013 3:27 صبح
غزل درست ہے، اصلاھ کی ضررت نہیں
محمدارتضیٰ آسی — دسمبر 11، 2013 8:03 صبح
متشکرم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%DB%81%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AE%D9%85%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DB%81%DB%92.70007/