غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح

مانی عباسی — اپریل 9، 2013 7:20 شام
نہ تارِ اشک کو گر ہم لہو کرتے
بھلا کیسے ادا رسمِ وضو کرتے
کبھی جو بیٹھ کر تم گفتگو کرتے
تمامِ ہجر کی ہم جستجو کرتے
محبت کچھ نہیں ہوتی اگر تو کیوں
سرِ بازار نیلام آبرو کرتے
سنا ہے مرکزِ گیسوئے جاناں کی
مریدانِ قمر ہیں آرزو کرتے
حدودِ کفر سے آگے نکل جاتے
اگر تم کو بیان اپنا عدو کرتے
روایت توڑ کر سب بزمِ مے والے
غم اپنے کب تلک نذرِ سبو کرتے
ہٹا آنچل، دکھا کاجل، ہوئے پاگل
عطا جز دلبری کیا خوبرو کرتے
فقط تسکینِ دل کے واسطے مانی
نمک سے زخمِ دل ہیں اب رفو کرتے...
الف عین — اپریل 10، 2013 7:42 صبح
اوزان تو درست ہیں اس غزل کے۔ مفاعیلن 3 بار کے افاعیل ہیں۔ بیانیہ کہیں کہیں اوبڑ کھابڑ ہو گیا ہے۔
نہ تارِ اشک کو گر ہم لہو کرتے
بھلا کیسے ادا رسمِ وضو کرتے
//پہلا مصرع اگر یوں کریں
نہ اپنے آنسوؤں کو ہم لہو کرتے
کبھی جو بیٹھ کر تم گفتگو کرتے
تمامِ ہجر کی ہم جستجو کرتے
//تمامِ ہجر؟ اچھا نہیں لگ رہا۔
محبت کچھ نہیں ہوتی اگر تو کیوں
سرِ بازار نیلام آبرو کرتے
// محبت کچھ گر نہ ہوتی تو آخر کیوں
بہتر ہو گا
سنا ہے مرکزِ گیسوئے جاناں کی
مریدانِ قمر ہیں آرزو کرتے
//شعر سمجھ میں نہین آیا۔
حدودِ کفر سے آگے نکل جاتے
اگر تم کو بیان اپنا عدو کرتے
//عدو بیان کرنا سے مراد محض ’کہنا‘ ہی ہے نا۔ اس سورت میں
بیاں تم کو اگر اپنا عدو کرتے
بہتر ہو گا۔
روایت توڑ کر سب بزمِ مے والے
غم اپنے کب تلک نذرِ سبو کرتے
//درست
ہٹا آنچل، دکھا کاجل، ہوئے پاگل
عطا جز دلبری کیا خوبرو کرتے
//پہلے مصرع کا بیانیہ پسند نہیں آیا۔ ’ہوئے پاگل‘ تو یقیناً حشو ہو گا۔
فقط تسکینِ دل کے واسطے مانی
نمک سے زخمِ دل ہیں اب رفو کرتے
//نمک سے رفو؟ نمک پاشی تو ممکن ہے لیکن رفو؟؟
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:16 صبح
فقط تسکینِ دل کے واسطے مانی
نمک سے زخمِ دل ہیں اب رفو کرتے
//نمک سے رفو؟ نمک پاشی تو ممکن ہے لیکن رفو؟؟

بعض اوقات درد کو بڑھانے سے درد کا علاج ہو جاتا ہے.۔۔۔۔۔۔۔
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:19 صبح
ہٹا آنچل، دکھا کاجل، ہوئے پاگل
عطا جز دلبری کیا خوبرو کرتے
//پہلے مصرع کا بیانیہ پسند نہیں آیا۔ ’ہوئے پاگل‘ تو یقیناً حشو ہو گا۔
حشو؟؟؟؟؟؟
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:22 صبح

سنا ہے مرکزِ گیسوئے جاناں کی
مریدانِ قمر ہیں آرزو کرتے
//شعر سمجھ میں نہین آیا۔

زلفوں میں چھپے مکھڑے کو چاند سے تشبیہ دی ہے جس کی آرزو مریدان قمر یعنی ستارے بھی رکھتے ہیں.۔۔۔۔۔۔۔
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:25 صبح
کبھی جو بیٹھ کر تم گفتگو کرتے
تمامِ ہجر کی ہم جستجو کرتے
//تمامِ ہجر؟ اچھا نہیں لگ رہا۔

مجھے تو صحیح لگا تھا.۔۔۔۔بہرحال کوئی متبادل لفظ تلاش کرتا ہوں
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:25 صبح
اوزان تو درست ہیں اس غزل کے۔ مفاعیلن 3 بار کے افاعیل ہیں۔ بیانیہ کہیں کہیں اوبڑ کھابڑ ہو گیا ہے۔
نہ تارِ اشک کو گر ہم لہو کرتے
بھلا کیسے ادا رسمِ وضو کرتے
//پہلا مصرع اگر یوں کریں
نہ اپنے آنسوؤں کو ہم لہو کرتے
اس طرح گرہ صحیح لگ رہی ہے ؟؟؟؟
مانی عباسی — اپریل 10، 2013 9:28 صبح
محبت کچھ نہیں ہوتی اگر تو کیوں
سرِ بازار نیلام آبرو کرتے
// محبت کچھ گر نہ ہوتی تو آخر کیوں
بہتر ہو گا
حدودِ کفر سے آگے نکل جاتے
اگر تم کو بیان اپنا عدو کرتے
//عدو بیان کرنا سے مراد محض ’کہنا‘ ہی ہے نا۔ اس سورت میں
بیاں تم کو اگر اپنا عدو کرتے
بہتر ہو گا۔
یہاں آپ سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔شکریہ خوش رہیں
الف عین — اپریل 11، 2013 7:10 صبح
بعض اوقات درد کو بڑھانے سے درد کا علاج ہو جاتا ہے.۔۔۔ ۔۔۔ ۔
وہ تو درست ہے، لیکن میں نے لکھا تھا کہ نمک سے رفو کس طرح کیا جا سکتا ہے؟
زلفوں میں چھپے مکھڑے کو چاند سے تشبیہ دی ہے جس کی آرزو
مریدان قمر یعنی ستارے بھی رکھتے ہیں.۔۔۔ ۔۔۔ ۔
یہ سمجھنے کا شعر میں تو کوئی قرینہ نظر نہیں آتا
حشو اور زوائد ان الفاظ یا فقروں کو کہتے ہیں جن کو زبردستی بحر و اوزان پورے کرنے کے لئے لایا جاتا ہے۔
اور یہاں مجھ سے ٹائپو ہو گیا۔
// محبت کچھ گر نہ ہوتی تو آخر کیوں
در اصل اس کو یوں پڑھو
محبت کچھ نہ گر ہوتی تو آخر کیوں
مانی عباسی — اپریل 11، 2013 7:27 صبح
حشو اور زوائد ان الفاظ یا فقروں کو کہتے ہیں جن کو زبردستی بحر و اوزان پورے کرنے کے لئے لایا جاتا ہے۔
ہٹا آنچل، دکھا کاجل، ہوئے پاگل
اس جملے میں کیفیت بیان کر رہا ہوں کب جب آنچل ہٹا تو کاجل بھری آنکھیں دکھیں اور پاگل ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔
مانی عباسی — اپریل 11، 2013 7:28 صبح
وہ تو درست ہے، لیکن میں نے لکھا تھا کہ نمک سے رفو کس طرح کیا جا سکتا ہے؟
یہ سمجھنے کا شعر میں تو کوئی قرینہ نظر نہیں آتا
نمک سے درد میں اضافہ ہوتا ہے اور اور نیا درد پچھلے درد کا مرہم بن جاتا ہے
الف عین — اپریل 11، 2013 8:03 صبح
نمک سے درد میں اضافہ ہوتا ہے اور اور نیا درد پچھلے درد کا مرہم بن جاتا ہے
لیکن یہ رفو کہاں ہوتا ہے بھائی، میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا، شاید ناکام رہا
مانی عباسی — اپریل 11، 2013 9:48 صبح
لیکن یہ رفو کہاں ہوتا ہے بھائی، میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا، شاید ناکام رہا
مرہم سے رفو ہو جاتا ہے ناں زخم۔۔۔۔۔۔:)
محمد یعقوب آسی — اپریل 11، 2013 10:04 صبح
جناب الف عین کے ارشادات کافی و شافی ہیں۔
مانی عباسی
مانی عباسی — اپریل 11، 2013 12:05 شام
جناب الف عین کے ارشادات کافی و شافی ہیں۔
مانی عباسی
او کے.۔۔۔شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.62390/