غزل برائے تنقید و تبصرہ و اصلاح

مانی عباسی — مئی 1، 2013 7:41 شام

تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
مرے ماضی میں میرے حال میں ہے
ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے
ٹھکانہ جز جہنم کے ہو گا کیا
محبت نامۂ اعمال میں ہے
نوائے حسن میں موسیقیت ہے
نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے
چلو مت یوں ادا سے جی اٹھے گا
پہن کے جو کفن پاتال میں ہے
جھلک کشمیر کے سیبوں کی مانی
نظر آتی مجھے اک گال میں ہے
الف عین — مئی 2، 2013 11:37 صبح
اچھی غزل ہے مانی۔
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
÷÷÷درست
مرے ماضی میں میرے حال میں ہے
ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے
÷÷’میں میرے‘ میں م کی تکرار اچھی نہیں، اگر اسے یوں کر دیں
مرا ماضی ہے، میرے حال میں ہے
ٹھکانہ جز جہنم کے ہو گا کیا
محبت نامۂ اعمال میں ہے
÷÷’ہوگا کیا‘ میں ہوگا کا ’و‘ گرانا غلط ہے۔ ’نہ ہوگا‘ کیا جا سکتا ہے۔
نوائے حسن میں موسیقیت ہے
نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے
۔۔موسیقیت کا تلفظ غلط ہے، درست میں مشدد ’ی‘ ہوتی ہے۔ اگر یوں کر دیں تو شعر کا حسن بھی بڑھ جاتا ہے اور تقابل ردیفین کا سقم بھی دور ہو سکتا ہے کہ دونوں مسرعوں کا اختتام ’ہے‘ پر ہوتاہے۔
نوائے حسن میں ہے راگنی سی
چلو مت یوں ادا سے جی اٹھے گا
پہن کے جو کفن پاتال میں ہے
÷÷پاتال کو قبر کے معنی میں لے رہے ہو، یہ تحت الثریٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ باقی شعر درست ہے۔
جھلک کشمیر کے سیبوں کی مانی
نظر آتی مجھے اک گال میں ہے
درست، لیکن دوسرے گال میں کیا ہے؟ وہ یوسفی کی بات یاد آ گئی کہ آپ کا بایاں کان بہت خوبصورت ہے۔
مانی عباسی — مئی 2، 2013 5:15 شام
مرے ماضی میں میرے حال میں ہے
ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے
÷÷’میں میرے‘ میں م کی تکرار اچھی نہیں، اگر اسے یوں کر دیں
مرا ماضی ہے، میرے حال میں ہے
بات آپ کی دل کو لگی.۔۔۔۔۔۔۔شکریہ
مانی عباسی — مئی 2، 2013 5:18 شام
ٹھکانہ جز جہنم کے ہو گا کیا
محبت نامۂ اعمال میں ہے
÷÷’ہوگا کیا‘ میں ہوگا کا ’و‘ گرانا غلط ہے۔ ’نہ ہوگا‘ کیا جا سکتا ہے۔
ٹھکانہ جز جہنم کچھ نہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔
یہ صحیح ہے ؟؟؟
مانی عباسی — مئی 2، 2013 5:21 شام
نوائے حسن میں موسیقیت ہے
نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے
۔۔موسیقیت کا تلفظ غلط ہے، درست میں مشدد ’ی‘ ہوتی ہے۔ اگر یوں کر دیں تو شعر کا حسن بھی بڑھ جاتا ہے اور تقابل ردیفین کا سقم بھی دور ہو سکتا ہے کہ دونوں مسرعوں کا اختتام ’ہے‘ پر ہوتاہے۔
نوائے حسن میں ہے راگنی سی
نوائے حسن میں ہے راگنی سی ہے یہ زیادہ صحیح ہے
مانی عباسی — مئی 2، 2013 5:22 شام
چلو مت یوں ادا سے جی اٹھے گا
پہن کے جو کفن پاتال میں ہے
÷÷پاتال کو قبر کے معنی میں لے رہے ہو، یہ تحت الثریٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ باقی شعر درست ہے۔
اسی میں تو میں خود کنفیوز ہوں
مانی عباسی — مئی 2، 2013 5:23 شام
جھلک کشمیر کے سیبوں کی مانی
نظر آتی مجھے اک گال میں ہے
درست، لیکن دوسرے گال میں کیا ہے؟ وہ یوسفی کی بات یاد آ گئی کہ آپ کا بایاں کان بہت خوبصورت ہے۔
ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔کیا کروں قافیہ گال بنتا ہے اور وہ واحد ہے۔۔۔۔۔۔:)
اسرار احمد دانش — مئی 3، 2013 8:24 صبح
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
مرے ماضی میں میرے حال میں ہے
ملا بس درد ہی ہر سال میں ہے
ٹھکانہ جز جہنم کے ہو گا کیا
محبت نامۂ اعمال میں ہے
نوائے حسن میں موسیقیت ہے
نگہ سر میں اشارہ تال میں ہے
چلو مت یوں ادا سے جی اٹھے گا
پہن کے جو کفن پاتال میں ہے
جھلک کشمیر کے سیبوں کی مانی
نظر آتی مجھے اک گال میں ہے

جناب مانی عباسی صاحب کیا خوب غزل کہی ہے واہ ہ ہ واہ ہ ہ۔۔
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
کیا عمدہ مطلع پیش کیا ہے لاجواب غزل۔
خیراندیش
اسراراحمددانش
الف عین — مئی 3، 2013 8:41 صبح
ٹھکانہ جز جہنم کچھ نہ ہو گا ۔۔۔ ۔۔۔
یہ صحیح ہے ؟؟؟
درست ہے۔
نوائے حسن میں ہے راگنی سی ہے یہ زیادہ صحیح ہے
یہ آخر میں’ہے‘ کا اضافہ کیوں کر دیا؟
نوائے حسن میں ہے راگنی سی
کافی ہے
مانی عباسی — مئی 3، 2013 12:09 شام
جناب مانی عباسی صاحب کیا خوب غزل کہی ہے واہ ہ ہ واہ ہ ہ۔۔
تمہیں کچھ علم ہے کس حال میں ہے
غزالِ دل وفا کے جال میں ہے
کیا عمدہ مطلع پیش کیا ہے لاجواب غزل۔
خیراندیش
اسراراحمددانش
شکریہ بھائی جان۔۔۔۔۔۔
مانی عباسی — مئی 3، 2013 12:09 شام
درست ہے۔
یہ آخر میں’ہے‘ کا اضافہ کیوں کر دیا؟
نوائے حسن میں ہے راگنی سی
کافی ہے
ٹائپنگ کی غلطی ۔۔۔۔۔۔۔۔:)
مانی عباسی — جون 25، 2013 12:34 شام
الف عین
سر ایک اور شعر کا اضافہ کیا ہے اس غزل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رائے ضرورت ہے اس پر آپکی ۔۔۔۔۔
تمہیں چلتا جو رک کے دیکھتا تھا
وہ مست اب مورنی کی چال میں ہے
الف عین — جون 26، 2013 6:19 صبح
واضح نہیں ہے یہ شعر۔ الفاظ کی نشست بدل دیں
مانی عباسی — جون 26، 2013 6:37 صبح
واضح نہیں ہے یہ شعر۔ الفاظ کی نشست بدل دیں
صنم کی چال کی تعریف کی ہے اسکی چال کو مورنی کی چال کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تبدیلی کروں کوئی تجویز دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف عین — جون 27، 2013 7:26 صبح
لیکن شعر سے تو یہ واضح نہیں ہوتا۔ ’وہ مست اگر صنم ہی ہے تو پھر تم کون ہو؟
مانی عباسی — جون 27، 2013 10:29 صبح
لیکن شعر سے تو یہ واضح نہیں ہوتا۔ ’وہ مست اگر صنم ہی ہے تو پھر تم کون ہو؟
تمہیں چلتا جو روک کے دیکھتا تھا سی مرا میں خود ہوں یعنی میں صنم کی چال کی نزاکت اور مستی دیکھنے کو رک جاتا تھا ۔۔۔۔۔۔لیکن اب صنم نہیں ہے تو وہی چل کا انداز مورنی کی چال میں نظر آتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%88-%D8%AA%D8%A8%D8%B5%D8%B1%DB%81-%D9%88-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.63374/