عین عین — جون 22، 2010 9:59 صبح
کوئی دیکھے تو حالت بام و دَر کی
یہ صورت کیا ہوئی ہے میرے گھر کی
نشاں، منزل کا مجھ کو مل گیا ہے
نہیں جاتی مگر عادت سفر کی
ہمارا مشغلہ اتنا ہی تھا بس
خبر دینا اُدھر جا کے اِدھر کی
ذرا سی دیر میں نظروں سے اوجھل!
تمھیں درکار تھی مہلت نظر کی
جسے مقتل کی عادت ہو گئی ہے
اُسے کیا فکر ہو گی اپنے سر کی
خیال و خواب جیسی زندگانی
خیال و خواب میں ہم نے بسر کی
عارف عزیز
فاتح — جون 22، 2010 10:08 صبح
خوبصورت غزل ہے۔ داد اور مبارک باد قبول کیجیے۔
محمد اظہر نذیر — جون 22، 2010 10:41 صبح
بہت اچھی لکھی جناب
عین عین — جون 22، 2010 11:49 صبح
فاتح بھائی کچھ اونچ نیچ غلطی شلطی تو نکال دیتے۔ وارث بھائی اور بابا جانی کا بھی انتظار ہے۔ اشعار جان دار نہیں ہیں ۔ میں مزید بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔
فرخ منظور — جون 22، 2010 11:58 صبح
اچھی غزل ہے جناب۔ داد قبول کیجیے۔
محمد وارث — جون 22، 2010 12:12 شام
اچھی غزل ہے عارف صاحب۔
دوسرا، پانچواں اور چھٹا شعر خوبصورت اور خوب تر ہیں اور ان میں کسی تبدیلی کی کم از کم میری نظر میں ضرورت نہیں ہے۔
مطلع کو مزید جاندار بنایا جا سکتا ہے، تیسرے شعر میں 'مشغلہ' کے لفظ کو کس بہتر سے تبدیل اگر کر سکیں تو شعر مزید خوبصورت ہو جائے گا۔
والسلام
الف عین — جون 23، 2010 7:39 شام
اچھی غزل ہے عارف صاحب، اس کو اصلاح سخن میں پوسٹ کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی، ہاں البتہ ’مشورۂ سخن‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے وارث نے درست مشورے دئے ہیں۔ مجھے ایک لفظ ضرور کھٹکا، جب ’جا کر‘ بھی بحر میں آ جاتا ہے تو پھر ’جا کے‘ کا استعمال؟
خبر دینا اُدھر جا کے اِدھر کی
عین عین — جون 24، 2010 7:41 صبح
اچھی غزل ہے عارف صاحب، اس کو اصلاح سخن میں پوسٹ کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی، ہاں البتہ ’مشورۂ سخن‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے وارث نے درست مشورے دئے ہیں۔ مجھے ایک لفظ ضرور کھٹکا، جب ’جا کر‘ بھی بحر میں آ جاتا ہے تو پھر ’جا کے‘ کا استعمال؟
خبر دینا اُدھر جا کے اِدھر کی
بہت شکریہ۔ اِدھر اور کر میں تکرار سی محسوس کی تھی اس لیے جا کے کر دیا۔