غزل براٗٗئے اصلاح

فیضان قیصر — جولائی 2، 2019 8:15 صبح

مجھے بدگمانی تھی اپنی وفا سے
تمھیں مانگ لیتا میں ورنہ خدا سے
کہاں میں کہاں پر محبت کی جھنجھٹ
تمھیں دے سکوں گا نہ جھوٹے دلاسے
مجھے وصل کی خوش گمانی ہی کب تھی
تمھیں کیوں شکایت ہے اپنی ادا سے
محبت کی ضو میں جو تاثیر ہوتی
مجھے چھین لیتی شبِ ابتلا سے

مجھے بے یقنی نے بے فیض رکھا
نتائج بدلتے ہیں ورنہ دعا سے
توقع بھلی کوئی فیضان کیوں ہو
کہ ناسور تم بھر رہے ہو دوا سے
فیضان قیصر — جولائی 2، 2019 8:18 صبح
الف عین سر
الف عین — جولائی 3، 2019 6:43 صبح
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں ماشاءاللہ
سید عاطف علی — جولائی 3، 2019 6:57 صبح
کہاں میں کہاں پر محبت کی جھنجھٹ
اس مصرع میں پر کی جگہ "یہ" زیادہ بر محل ہو گا کیوں کہ اس سے جھنجھٹ کی جانب اشارہ بھی شامل ہو جائے گا جو معنویت میں بہتر ہوگا ۔
فیضان قیصر — جولائی 3، 2019 7:00 صبح
اچھی غزل ہے، اصلاح کی ضرورت نہیں ماشاءاللہ
بہت شکریہ - جزاک اللہ
فیضان قیصر — جولائی 3، 2019 7:02 صبح
اس مصرع میں پر کی جگہ "یہ" زیادہ بر محل ہو گا کیوں کہ اس سے جھنجھٹ کی جانب اشارہ بھی شامل ہو جائے گا جو معنویت میں بہتر ہوگا ۔
مشورہ آپ کا اچھا ہے- مجھے بس یہ وہم تھا کہ شاید "یہ" کو دو حرفی نہیں باندھا جاتا
الف عین — جولائی 3، 2019 10:08 صبح
یہ کو دو حرفی باندھا جا سکتا ہے، یہاں واقعی 'یہ جھنجھٹ' 'پر جھنجھٹ' سے بہتر ہے
فیضان قیصر — جولائی 3، 2019 10:12 صبح
یہ کو دو حرفی باندھا جا سکتا ہے، یہاں واقعی 'یہ جھنجھٹ' 'پر جھنجھٹ' سے بہتر ہے

بہت بہت شکریہ سر -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%97%D9%97%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.107483/