غزل براٗٗئے ٓاصلاح

فیضان قیصر — جون 20، 2019 10:49 صبح
میری وفائیں جاناں گویا سراب سی ہیں
ان میں وفا نہ ڈھونڈو ان میں وفا نہیں ہے
سب مشغلوں سے ہی دل بے زار ہو گیا ہے
تم سے بھی گفتگواب دل کو روا نہیں ہے
تم تو بلا وجہ ہی شرمندہ ہورہی ہو
تم سے تو بے دلی کا کوئی گلہ نہیں ہے
اس کو میں روک لوں تو ٹہرے گا وہ کہاں پر
گھر میں کوئی سلامت کمرہ بچا نہیں ہے
یاروں کے ساتھ رہ کر یاروں کی محفلوں میں
ان سے ملا نہیں میں ان کو پتا نہیں ہے
فیضان گفتگو تو ہوتی رہی ہے ان سے
لیکن جو جی میں ہے وہ اب تک کہا نہیں ہے
فیضان قیصر — جون 20، 2019 10:50 صبح
الف عین سر رہنمائی کا طالب ہوں
فیضان قیصر — جون 20، 2019 10:55 صبح
عظیم صاحب
عدیل عبد الباسط — جون 20، 2019 9:15 شام
بہت خوب! فیضان بھائی. بہت عمدہ مضامین، عام فہم الفاظ اور مناسب زیر و بم ہے.
عدیل عبد الباسط — جون 20، 2019 9:46 شام
جن احباب کے نام آپ نے ٹیگ کئے اصلاح تو وہی فرمائیں گے، میری ایک دو گزارشات ہیں، شاید مفید ہوں.
1. "تم تو بلا وجہ ہی"
میرے خیال میں "وجہ" کی جیم ساکن ہوتی ہے. اگر واقعی ایسا ہے تو وزن خطرے میں ہے. اس کو خطرے سے نکالنے کے لیے" بے وجہ تم اے ہمدم " کرنے کی تجویز پر غور فرما لیں.
2. "لیکن جو جی میں ہے وہ"
"جو" اور "جی" کا پڑوس طبیعت پر بھاری محسوس ہو رہا ہے "جو دل" کر لیں تو شاید طبیعت کے لیے زیادہ خوشگوار ہو جائے.
3. "شرمندہ ہو رہی ہو"
مخاطب کی جنس کا اظہار شعر کی آفاقیت میں رکاوٹ ڈالتا محسوس ہو رہا ہے. مخاطب کا تعین قارئین اور سامعین کے ذوق پر چھوڑ دینا شعر میں آفاقیت پیدا کر سکتا ہے. کوئی قدرت کی محبت میں گرفتار ہے، تو کوئی قادر پرفدا ہے. شعر میں آفاقیت ہو تو ہر ذوق کی تسکین ہوجاتی ہے.
پھر عرض کر رہا ہوں کہ یہ محض گزارشات ہیں، قبول و رد کے در وا ہیں.
عظیم — جون 21، 2019 8:00 صبح
عدیل عبد الباسط صاحب سے متفق ہوں۔
مزید یہ کہ مطلع میں 'جاناں' کا لفظ شاید گھسا پٹا ہونے کی وجہ سے پسند نہیں آ رہا۔ اور وفاؤں میں ہی وفا ڈھونڈنا عجیب لگ رہا ہے۔ اور وفاؤں میں ہی وفا ڈھونڈنا بے معنی لگ رہا ہے۔
تیسرے شعر میں 'گلہ' کو قافیہ کے اعتبار سے 'گلا' لکھا جانا چاہیے
فیضان قیصر — جون 21، 2019 10:11 صبح
جن احباب کے نام آپ نے ٹیگ کئے اصلاح تو وہی فرمائیں گے، میری ایک دو گزارشات ہیں، شاید مفید ہوں.
1. "تم تو بلا وجہ ہی"
میرے خیال میں "وجہ" کی جیم ساکن ہوتی ہے. اگر واقعی ایسا ہے تو وزن خطرے میں ہے. اس کو خطرے سے نکالنے کے لیے" بے وجہ تم اے ہمدم " کرنے کی تجویز پر غور فرما لیں.
2. "لیکن جو جی میں ہے وہ"
"جو" اور "جی" کا پڑوس طبیعت پر بھاری محسوس ہو رہا ہے "جو دل" کر لیں تو شاید طبیعت کے لیے زیادہ خوشگوار ہو جائے.
3. "شرمندہ ہو رہی ہو"
مخاطب کی جنس کا اظہار شعر کی آفاقیت میں رکاوٹ ڈالتا محسوس ہو رہا ہے. مخاطب کا تعین قارئین اور سامعین کے ذوق پر چھوڑ دینا شعر میں آفاقیت پیدا کر سکتا ہے. کوئی قدرت کی محبت میں گرفتار ہے، تو کوئی قادر پرفدا ہے. شعر میں آفاقیت ہو تو ہر ذوق کی تسکین ہوجاتی ہے.
پھر عرض کر رہا ہوں کہ یہ محض گزارشات ہیں، قبول و رد کے در وا ہیں.
عدیل عبد الباسط میں انتہائی نیازمند ہوں کہ آپ نے میرے لکھے پر اپنا قیمتی وقت صرف کیا- اور وجہ والا مصرع واقعی وزن سے خارج ہے- تلفظ کا ادارک نہ ہونا مجھے لے ڈوبا- باقی باتیں بھی آپ کی نہایت غور طلب ہیں- آپ نے اپنی رائے کے اظہار میں جو حسسایت برتی ہے وہ بھی قابل تحسین ہے- جزاک اللہ
عدیل عبد الباسط — جون 21، 2019 10:14 صبح
حوصلہ افزائی پر شکریہ. کسی کے کلام پر یہ میری زندگی کا شاید پہلا باقاعدہ تبصرہ تھا. اساتذہ میں سے کسی کا اس سے متفق ہونا باعث فرحت و حیرت رہا.
فیضان قیصر — جون 21، 2019 10:18 صبح
عدیل عبد الباسط صاحب سے متفق ہوں۔
مزید یہ کہ مطلع میں 'جاناں' کا لفظ شاید گھسا پٹا ہونے کی وجہ سے پسند نہیں آ رہا۔ اور وفاؤں میں ہی وفا ڈھونڈنا عجیب لگ رہا ہے۔ اور وفاؤں میں ہی وفا ڈھونڈنا بے معنی لگ رہا ہے۔
تیسرے شعر میں 'گلہ' کو قافیہ کے اعتبار سے 'گلا' لکھا جانا چاہیے
شکریہ عظیم صاحب جزاک اللہ
عدیل عبد الباسط — جون 21، 2019 10:18 صبح
عدیل عبد الباسط آپ نے اپنی رائے کے اظہار میں جو حساسیت برتی ہے وہ بھی قابل تحسین ہے- جزاک اللہ
جب انسان کسی محفل میں نو وارد ہو تو ایسی حساسیت برتا ہی کرتا ہے. دعا کیجئے گا کہ یہ کوشش فطرت بن جائے.
عدیل عبد الباسط — جون 21، 2019 10:22 صبح
عدیل عبد الباسطتلفظ کا ادارک نہ ہونا مجھے لے ڈوبا-
ڈوبیں گے نہیں تو گہرائی تک کیسے پہنچیں گے؟
فیضان قیصر — جون 21، 2019 11:50 صبح
درست فرماتے ہیں حضرت
فیضان قیصر — جون 21، 2019 1:50 شام
الف عین آپ کی رائے کا اب تک منتظر ہوں
الف عین — جون 21، 2019 2:13 شام
ابھی دیکھ سکا ہوں اسے اور ابھی معرب کے لیے بھی آٹھ رہا ہوں، متفق ہوں اب تک کی بحث سے۔ وجہ کی بجائے سبب استعمال کریں۔ باقی مشورے بعد میں
فیضان قیصر — جون 21، 2019 2:15 شام
ابھی دیکھ سکا ہوں اسے اور ابھی معرب کے لیے بھی آٹھ رہا ہوں، متفق ہوں اب تک کی بحث سے۔ وجہ کی بجائے سبب استعمال کریں۔ باقی مشورے بعد میں
جی بہتر - میں منتظر رہوں گا
الف عین — جون 21، 2019 3:31 شام
بس ایک دو باتیں
سب مشغلوں سے ہی دل بے زار ہو گیا ہے
تم سے بھی گفتگواب دل کو روا نہیں ہے
... پہلا مصرع بھی ہے پر ختم ہوتا ہے جو ردیف بھی ہے، 'ہی' بھی بھرتی کا لگتا ہے
بے زار ہو گیا ہے دل سارے مشغلوں سے
بہتر ہو گا
لیکن جو جی میں ہے وہ اب تک کہا نہیں ہے
جو جی کے تنافر کی بات ہو چکی ہے لیکن اس کے علاوہ روانی بھی اچھی نہیں
جی/دل میں جو ہے وہ لیکن.....
کیا جا سکتا ہے
فیضان قیصر — جون 21، 2019 4:18 شام
الف عین بہت شکریہ- کیا پہلا مصرع یو کیا جاسکتا ہے
میری وفائیں بھی تو گویا سراب سی ہیں
الف عین — جون 21، 2019 4:52 شام
الف عین بہت شکریہ- کیا پہلا مصرع یو کیا جاسکتا ہے
میری وفائیں بھی تو گویا سراب سی ہیں
درست
عدیل عبد الباسط — جون 21، 2019 8:34 شام
بس ایک دو باتیں
سب مشغلوں سے ہی دل بے زار ہو گیا ہے
تم سے بھی گفتگواب دل کو روا نہیں ہے
... پہلا مصرع بھی ہے پر ختم ہوتا ہے جو ردیف بھی ہے، 'ہی' بھی بھرتی کا لگتا ہے
بے زار ہو گیا ہے دل سارے مشغلوں سے
بہتر ہو گا
لیکن جو جی میں ہے وہ اب تک کہا نہیں ہے
جو جی کے تنافر کی بات ہو چکی ہے لیکن اس کے علاوہ روانی بھی اچھی نہیں
جی/دل میں جو ہے وہ لیکن.....
کیا جا سکتا ہے
بہت خوب جناب! تنافر اور بھرتی کی اصطلاحات سیکھنے کو ملیں. میں اصطلاحات سے واقف نہیں. جو محسوس ہوا، سادہ الفاظ میں اظہار کر دیا.
الف عین — جون 22، 2019 6:29 صبح
حشو و زوائد کے لیے عام بول چال میں بھرتی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی جن الفاظ کے بغیر بھی بات مکمل لگے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D9%97%D9%97%D8%A6%DB%92-%D9%93%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.107294/