غزل براہ اصلاح

عمران سرگانی — اپریل 25، 2020 10:01 شام
سر الف عین براہ کرم اصلاح فرمائیے۔۔۔
افاعیل : فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
موت سے ملنا ہے سینہ تان کر جاؤں گا میں
نظریہ اپنا کسی کو دان کر جاؤں گا میں
شوق جو ہے گوہرِ نایاب پانے کا مجھے
ریت صحراؤں کی آخر چھان کر جاؤں گا میں
جان تیری چھوٹ جائے گی مرے جانے سے کیا
اپنی یادوں کو ترا مہمان کر جاؤں گا میں
کس نے بھیجا ہے تجھے ، کس شہر کا باسی ہے تو
دشمنِ جاں اب تجھے پہچان کر جاؤں گا میں
تم لگاؤ گے صدا گلیوں میں میرے نام کی
اب نہ پھر سے لوٹنے کی ٹھان کر جاؤں گا میں
بھولنا آساں نہیں اس کو مگر تو دیکھنا
ایک دن یہ کام بھی عمران کر جاؤں گا میں
شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 26، 2020 12:12 صبح
مطلع میں غلطی کر گئے آپ. نظریہ کہ ظ مفتوح ہے، فاعلاتن کے یوں مقابل باندھنا ذرا مشکل ہے.
الف عین — اپریل 26، 2020 2:16 صبح
نظریہ کے تلفظ کے علاوہ باقی درست لگ رہی ہے غزل
عمران سرگانی — اپریل 26، 2020 4:16 صبح
نظریہ کے تلفظ کے علاوہ باقی درست لگ رہی ہے غزل
سر اب دیکھیے کیا درست ہے۔۔۔
موت سے ملنا ہے سینہ تان کر جاؤں گا میں
سوچ بھی اپنی کسی کو دان کر جاؤں گا میں
عمران سرگانی — اپریل 26، 2020 4:16 صبح
مطلع میں غلطی کر گئے آپ. نظریہ کہ ظ مفتوح ہے، فاعلاتن کے یوں مقابل باندھنا ذرا مشکل ہے.
بہت شکریہ برادر خوش رہیں
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 26، 2020 4:19 صبح
سر اب دیکھیے کیا درست ہے۔۔۔
موت سے ملنا ہے سینہ تان کر جاؤں گا میں
سوچ بھی اپنی کسی کو دان کر جاؤں گا میں
ملنا ہے ... کو اگر ... ملنے کو کردیں تو؟؟؟
مقطع کے پہلے مصرعے میں تو کی بجائے تم کردیں تو میرے خیال میں زیادہ مناسب رپے گا.
عمران سرگانی — اپریل 27، 2020 11:27 صبح
ملنا ہے ... کو اگر ... ملنے کو کردیں تو؟؟؟
مقطع کے پہلے مصرعے میں تو کی بجائے تم کردیں تو میرے خیال میں زیادہ مناسب رپے گا.
بہت شکریہ محترم سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.111527/