غزل براہ اصلاح ،

عمران سرگانی — جون 21، 2020 1:38 شام
سر الف عین محمّد احسن سمیع :راحل: اصلاح فرما دیجئے۔
افاعیل: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن
مری آواز کر دی کس نے بہروں کے حوالے
وطن کا امن کیسے شر کے پہروں کے حوالے
نبی نے پنجتن کو علم کا وارث بنایا
ہوا دریا کا دریا پانچ نہروں کے حوالے
سکوں کے لمحے میری زندگی سے کٹ گئے ہیں
وجودِ خاک میرا اب دوپہروں کے حوالے
بہت چیخا ہوں میں نے ہاتھ پاؤں بھی ہیں مارے
مگر کرنا پڑا ہے خود کو لہروں کے حوالے
تمہارے ساتھ بیتے پل اثاثہ ہیں ہمارا
ہماری زندگی ان چند پہروں کے حوالے
کسانوں میں تو غربت کی ہوئی تقسیم عمران
ہوا گاؤں کا سارا غلہ شہروں کے حوالے
شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 21، 2020 1:53 شام
اچھی غزل ہے، بس مطلع کو دیکھ لیں، دوسرا مصرعہ کچھ نامکمل سا لگتا ہے۔
سکوں کے لمحے میری زندگی سے کٹ گئے ہیں
وجودِ خاک میرا اب دوپہروں کے حوالے
دوپہروں کے حوالے سے کیا مراد ہے؟
باقی استادِ محترم ہی بتا سکتے ہیں، مجھے تو بظاہر درست ہی لگ رہی ہے۔
دعا گو،
راحلؔ۔
عمران سرگانی — جون 21، 2020 1:58 شام
اچھی غزل ہے، بس مطلع کو دیکھ لیں، دوسرا مصرعہ کچھ نامکمل سا لگتا ہے۔
دوپہروں کے حوالے سے کیا مراد ہے؟
باقی استادِ محترم ہی بتا سکتے ہیں، مجھے تو بظاہر درست ہی لگ رہی ہے۔
دعا گو،
راحلؔ۔
بہت شکریہ محترم
عمران سرگانی — جون 21، 2020 4:53 شام
اچھی غزل ہے، بس مطلع کو دیکھ لیں، دوسرا مصرعہ کچھ نامکمل سا لگتا ہے۔
دوپہروں کے حوالے سے کیا مراد ہے؟
باقی استادِ محترم ہی بتا سکتے ہیں، مجھے تو بظاہر درست ہی لگ رہی ہے۔
دعا گو،
راحلؔ۔
مری آواز کر دی کس نے بہروں کے حوالے
وطن کا امن ظلم و شر کے پہروں کے حوالے
الف عین — جون 22، 2020 3:26 صبح
مطلع پہلے کیا تھا جسے تبدیل کر دیا گیا ہے؟ ابھی تو درست ہے، لیکن اصل مراسلے میں ترمیم نہ کیا کریں
تیسرا شعر دو پہروں والا اب بھی واضح نہیں، شاید دھوپ والی دو پہروں کہا جائے تو کچھ ربط بن سکے
باقی درست ہے
عمران سرگانی — جون 22، 2020 7:54 صبح
مطلع پہلے کیا تھا جسے تبدیل کر دیا گیا ہے؟ ابھی تو درست ہے، لیکن اصل مراسلے میں ترمیم نہ کیا کریں
تیسرا شعر دو پہروں والا اب بھی واضح نہیں، شاید دھوپ والی دو پہروں کہا جائے تو کچھ ربط بن سکے
باقی درست ہے
بہت شکریہ سر ، جی دھوپ والی دوپہروں ہی مراد ہے۔۔۔
چلیں سر میں اصل مراسلے میں ترمیم کو حذف کر دیتا ہوں۔
عمران سرگانی — جون 22، 2020 1:22 شام
سر الف عین
اس شعر کو یوں کر دیا ہے تاکہ ابہام ختم ہو جائے۔
سکوں کے پہر میری زندگی سے کٹ گئے ہیں
وجودِ خاک میرا اب دوپہروں کے حوالے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جون 22، 2020 6:44 شام
شکریہ سر ، جی دھوپ والی دوپہروں ہی مراد
اگر ایسا ہے تو پھر پہلے مصرعے میں سکون کے بجائے سائے کا ذکر ہونا چاہیئے، تبھی دونوں مصرعوں میں ٹھیک ربط قائم ہوسکے گا.
الف عین — جون 23، 2020 10:18 صبح
میرے خیال میں 'چھاؤں کے پہر' چل سکتا ہے بجائے سکوں کے، الفاظ بدل کر دیکھیں کیسے فٹ ہوتا ہے یہاں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%8C.112140/