یہ تجھے کس خطا نے روکا ہے
ہم کو تیری ادا نے روکا ہے
ہم بھی چلتے گناہ کرنے کو
فکرِروزِ جزانے روکا ہے
اس چمن میں یہ پھول کیلیے نہیں
مجھ کوخارِوفا نے روکا ہے
شہر سے جانا تھا ہمیشہ کو
پھر یہ تیری صدا نے روکا ہے
میکشی سے تجھے اے واعظ بس
فقط اپنی انا نے روکا ہے
کب سے ڈرنے لگے خدا سے وہ
کب ستم بے وفا نے روکا ہے
اب یہ میری تباہی کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے
ہم کو تیری ادا نے روکا ہے
ہم بھی چلتے گناہ کرنے کو
فکرِروزِ جزانے روکا ہے
اس چمن میں یہ پھول کیلیے نہیں
مجھ کوخارِوفا نے روکا ہے
شہر سے جانا تھا ہمیشہ کو
پھر یہ تیری صدا نے روکا ہے
میکشی سے تجھے اے واعظ بس
فقط اپنی انا نے روکا ہے
کب سے ڈرنے لگے خدا سے وہ
کب ستم بے وفا نے روکا ہے
اب یہ میری تباہی کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے