غزل براے اصلاح

Rehan Ahmed — مارچ 9، 2019 6:05 صبح
کیا کھبی اس طرح بھی گزری ہے
زندگی بے وجہ بھی گزری ہے
تیری الفت میں ہم پہ اے ہمدم
درد کی انتہا بھی گزری ہے
کوہی پیغامِ دوست لای کیا
ابھی تازہ ہوا بھی گزری ہے
ہر جگہ غم اداسیاں ہر سو
رندگی اس طرح بھی گزری ہے
ہجر سے بڑھ کے دنیا میں ریحاں
کوہی اب تک سزا بھی گزری ہے
یہ غزل اب کچھ اس طرح سے کہی براے مہربانی اصلاح فرمایں
جن کو خوفِ خدا نے روکا ہے
ان کو کب گناہ نے روکا ہے
ہم خدا سے کلام کر لیتے
راستہ اس خلانے روکا ہے
عشق کرنا ہے تو کرو لوگو
عشق سے کب خدا نے روکا ہے
ہم بھی چلتے گناہ کرنے کو
فکرِ روزِ جزا نے روکا ہے
تجھے بادہ کشی سے اے واعظ
صرف اپنی انا نے روکا ہے
چھوڑ جانا تھا شہر کو ہم نے
پھر یہ تیری صدا نے روکا ہے
ان ترقی پسند لوگوں کا
راستہ کب حیا نے روکا ہے
اب کہ میری تباہی کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے
منذر رضا — مارچ 9، 2019 7:52 صبح
Rehan Ahmed بھائی میری گزارش ہے کہ بہتر ہے کہ الگ الگ پوسٹ کیجیے غزلیات۔۔۔۔
مزید یہ کہ استادِ محترم کو ضرور ٹیگ کیا کیجے۔۔۔میں کر دیتا ہوں۔ ۔
الف عین
بہرحال۔۔۔
پہلے دوسری غزل پر تبصرے کی جسارت کرتا ہوں۔۔۔۔
مطلع کا مفہوم واضح نہیں۔۔۔۔مدعا صحیح طور پر ادا نہیں ہو پا رہا۔۔۔۔۔۔
دوسرا شعر۔۔
کس خلا نے راستہ روکا ہے؟ واضح نہیں۔۔۔
تیسرا شعر
تو کی دو حرفی تقطیع پہلے مصرعے کی فصاحت اور روانی کو کم رہی ہے
چوتھا شعر خوب ہے۔۔۔
پانچواں یوں زیادہ رواں ہو جائے گا:
"تجھ کو بادہ کشی سے اے واعظ!"
چھٹے شعر سے متعلق الف عین صاحب کے مشورے پر عمل کیجے۔۔۔۔
جا رہا تھا تمہارے شہر سے میں
پھر تمہاری صدا نے روکا ہے
ساتواں بھی ٹھیک۔۔
آٹھویں سے متعلق الف عین صاحب کی تجویز پر عمل کیجے۔۔۔۔۔
میری ساری بلاؤں کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے
شکریہ!
منذر رضا — مارچ 9، 2019 7:54 صبح
پہلی غزل میں ردیف آپ سے نبھائی نہیں گئی۔۔۔۔۔
البتہ الف عین صاحب کی رائے کا انتظار کیجے۔۔۔میرے خیال میں تو ردیف بدل کر کوشش کریں۔۔۔۔۔
Rehan Ahmed — مارچ 9، 2019 8:27 صبح
شکریہ جناب رہنماہی کے لیے امید ہے اپ أگے بھی مشوروں سے نوازتے رہیں گے
الف عین — مارچ 10، 2019 4:19 شام
پہلی غزل ہی فقط دیکھ رہا ہوں
کیا کھبی اس طرح بھی گزری ہے
زندگی بے وجہ بھی گزری ہے
.... وجہ کا تلفظ ۔۔ ج اور ہ دونوں ساکن ہیں۔ اس لیے قافیہ نہیں بن سکتا
تیری الفت میں ہم پہ اے ہمدم
درد کی انتہا بھی گزری ہے
... تکنیکی طور پر درست، لیکن دوسرا مصرع عجیب ہے، انتہا گزرنا محاورے کے خلاف ہے، مستزاد 'بھی'
کوہی پیغامِ دوست لای کیا
ابھی تازہ ہوا بھی گزری ہے
.. درست
ہر جگہ غم اداسیاں ہر سو
رندگی اس طرح بھی گزری ہے
... طرح بھی قافیہ نہیں بن سکتا
ہجر سے بڑھ کے دنیا میں ریحاں
کوہی اب تک سزا بھی گزری ہے
... درست، ریحان مکمل بھی باندھا جا سکتا ہے جو زیادہ فصیح اور رواں ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.105866/