کیا کھبی اس طرح بھی گزری ہے
زندگی بے وجہ بھی گزری ہے
تیری الفت میں ہم پہ اے ہمدم
درد کی انتہا بھی گزری ہے
کوہی پیغامِ دوست لای کیا
ابھی تازہ ہوا بھی گزری ہے
ہر جگہ غم اداسیاں ہر سو
رندگی اس طرح بھی گزری ہے
ہجر سے بڑھ کے دنیا میں ریحاں
کوہی اب تک سزا بھی گزری ہے
یہ غزل اب کچھ اس طرح سے کہی براے مہربانی اصلاح فرمایں
جن کو خوفِ خدا نے روکا ہے
ان کو کب گناہ نے روکا ہے
ہم خدا سے کلام کر لیتے
راستہ اس خلانے روکا ہے
عشق کرنا ہے تو کرو لوگو
عشق سے کب خدا نے روکا ہے
ہم بھی چلتے گناہ کرنے کو
فکرِ روزِ جزا نے روکا ہے
تجھے بادہ کشی سے اے واعظ
صرف اپنی انا نے روکا ہے
چھوڑ جانا تھا شہر کو ہم نے
پھر یہ تیری صدا نے روکا ہے
ان ترقی پسند لوگوں کا
راستہ کب حیا نے روکا ہے
اب کہ میری تباہی کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے
زندگی بے وجہ بھی گزری ہے
تیری الفت میں ہم پہ اے ہمدم
درد کی انتہا بھی گزری ہے
کوہی پیغامِ دوست لای کیا
ابھی تازہ ہوا بھی گزری ہے
ہر جگہ غم اداسیاں ہر سو
رندگی اس طرح بھی گزری ہے
ہجر سے بڑھ کے دنیا میں ریحاں
کوہی اب تک سزا بھی گزری ہے
یہ غزل اب کچھ اس طرح سے کہی براے مہربانی اصلاح فرمایں
جن کو خوفِ خدا نے روکا ہے
ان کو کب گناہ نے روکا ہے
ہم خدا سے کلام کر لیتے
راستہ اس خلانے روکا ہے
عشق کرنا ہے تو کرو لوگو
عشق سے کب خدا نے روکا ہے
ہم بھی چلتے گناہ کرنے کو
فکرِ روزِ جزا نے روکا ہے
تجھے بادہ کشی سے اے واعظ
صرف اپنی انا نے روکا ہے
چھوڑ جانا تھا شہر کو ہم نے
پھر یہ تیری صدا نے روکا ہے
ان ترقی پسند لوگوں کا
راستہ کب حیا نے روکا ہے
اب کہ میری تباہی کو ریحان
میری ماں کی دعا نے روکا ہے