Rehan Ahmed — مارچ 10، 2019 11:01 صبح
عشق میں یہ وبال ہوتا ہے
کر کے جینا محال ہوتا ہے
کس ادا سے وہ ٹالتے ہیں اسے
جب بھی ذکرِ وصال ہوتا ہے
حسرتیں اور اداسیاں لے کر
پھر بھی جینا سوال ہوتا ہے
ہر کسی کو ملے جو چاہے وہ
زندگی میں محال ہوتا ہے
جو بھی انساں خطایں کرتا ہے
کھبی اس کو ملال ہوتا ہے
چھپا کے غم ہزار سینے میں
مسکرانا کمال ہوتا ہے
پھر بھی جیتے ہیں لوگ دنیا میں
گرچہ جینا محال ہوتا ہے
Rehan Ahmed — مارچ 10، 2019 11:02 صبح
براے مہربانی اصلاح فرمایں
فلسفی — مارچ 10، 2019 11:58 صبح
عظیم — مارچ 10، 2019 4:52 شام
عشق میں یہ وبال ہوتا ہے
کر کے جینا محال ہوتا ہے
=وبال کچھ فٹ محسوس نہیں ہو رہا ۔ شاید یوں کچھ بات بن سکے
عشق یوں تو کمال ہوتا ہے
یہاں 'تو' طویل کھنچ رہا ہے لیکن قبول کر لیا جاتا ہے شاید
یا اس طرح کا کچھ اور مصرع سوچیں۔
کس ادا سے وہ ٹالتے ہیں اسے
جب بھی ذکرِ وصال ہوتا ہے
=یہ شعر مجھے درست لگ رہا ہے
حسرتیں اور اداسیاں لے کر
پھر بھی جینا سوال ہوتا ہے
=مطلب واضح نہیں ہے، یعنی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں
ہر کسی کو ملے جو چاہے وہ
زندگی میں محال ہوتا ہے
=دوسرے مصرع میں 'ایسا ہونا' کر دیجیے۔ میرے خیال میں زیادہ بہتر رہے گا
جو بھی انساں خطایں کرتا ہے
کھبی اس کو ملال ہوتا ہے
='جو اور تو وغیرہ کو یک حرفی باندھنا زیادہ بہتر مانا جاتا ہے۔ بہت زیادہ مجبوری ہو تو میرے خیال میں کام چلا لیا جاتا ہے لیکن کوشش یہی کرنی چاہیے کہ یک حرفی ہی استعمال کیا جائے۔
اس کے علاوہ دونوں مصرعوں کا اختتام ایک ہی لفظ پر ہو رہا تو وہ بھی اچھا نہیں لگتا۔ اور اس شعر کا مطلب بھی واضح نہیں ہے۔ دوبارہ کہنے کی کوشش کریں
چھپا کے غم ہزار سینے میں
مسکرانا کمال ہوتا ہے
=یہ شعر بہت سیدھا سادہ اور اچھا ہے بس پہلے مصرع میں الفاظ تھوڑا آگے پیچھے کرنے کی ضرورت ہے بہتر روانی کے لیے۔
مثلاً
غم ہزاروں چھپا کے سینے میں
پھر بھی جیتے ہیں لوگ دنیا میں
گرچہ جینا محال ہوتا ہے
=یہ شعر بھی میں سمجھتا ہوں کہ درست ہے
الف عین — مارچ 10، 2019 8:14 شام
مطلع میں قبول کر سکتا ہوں
باقی
عظیم سے متفق ہوں
عظیم — مارچ 10، 2019 8:19 شام
مطلع میں قبول کر سکتا ہوں
باقی
عظیم سے متفق ہوں
بابا میں چاہتا ہوں کہ میں اسی طرح اصلاح سخن میں کچھ لکھتا رہوں۔ اس میں کچھ برائی تو نہیں ؟ کہیں میرے ان مشوروں سے کسی کے لیے مشکلیں تو نہیں پیدا ہوں گی؟ دراصل میرے پاس محفل میں آنے کی اور کوئی وجہ بھی نہیں ہے اور اس طرح میں کچھ نہ کچھ سیکھتا بھی رہوں گا۔ آپ اگر اجازت فرما دیں۔
الف عین — مارچ 10، 2019 10:55 شام
عظیم میں تو بہت خوش ہوتا ہوں جب دوسرے اور بطور خاص تم میری مدد کے لیے پہنچتے ہو۔ کہ تمہاری اصلاح کا طریقہ بالکل میری طرح ہے سوائے اس کے کہ تم زیادہ سختی سے کبھی کبھی کچھ اشعار پر اعتراض کر دیتے ہو۔ بہتر ہو کہ میری آمد سے پہلے ہی ، اگر تم کر سکو، تو اصلاحی مشورے دے دیا کرو۔ اس کے بعد تم مجھے ٹیگ کر دو تو میں تمہاری اصلاح پر اپنی رائے کا اظہار کر سکوں۔
Rehan Ahmed — مارچ 11، 2019 1:20 صبح
جناب رہنماہی کی لیے شکریہ کہ اپ نے مجھے اپنے قیمتی مشورں سے نوازا
عظیم — مارچ 11، 2019 6:07 صبح
جی
بابا میں ان شاء اللہ ایسا ہی کروں گا دراصل مجھے پتہ نہیں چلتا کہ کون سی بات قابل اعتراض ہے اور کس بات کو قبول کر لیا جانا چاہیے۔