ہاں ہوجاے عشق تو پھر انکار کیا کریں
رویں گر نہ ہم تو تیرےبیمار کیا کریں
جو دل میں عداوتیں تو لب پر وفا کا ذکر
ہو ایسا اگر پیار پھر پیار کیا کریں
نگاہیں بیان کر چکی حالِ دل تمام
جو کھولیں زبان اب تو اظہار کیا کریں
کہ ہم منکرینِ عشق تھےکل کی بات ہے
ہیں ہم بھی اج اس کے جو سزاوار کیا کریں
کہ جو سنایں حال ہم تو سنتے نہیں ہیں یار
تو ریحان غیر سے یہ گفتار کیا کریں
السلام علیکم استاد صاحب براے مہربانی اصلاح فرمایں
رویں گر نہ ہم تو تیرےبیمار کیا کریں
جو دل میں عداوتیں تو لب پر وفا کا ذکر
ہو ایسا اگر پیار پھر پیار کیا کریں
نگاہیں بیان کر چکی حالِ دل تمام
جو کھولیں زبان اب تو اظہار کیا کریں
کہ ہم منکرینِ عشق تھےکل کی بات ہے
ہیں ہم بھی اج اس کے جو سزاوار کیا کریں
کہ جو سنایں حال ہم تو سنتے نہیں ہیں یار
تو ریحان غیر سے یہ گفتار کیا کریں
السلام علیکم استاد صاحب براے مہربانی اصلاح فرمایں