نورالحسن جوئیہ — اکتوبر 13، 2015 11:16 شام
دل کی تلخی کو چھپا کر چل دئے
سسکیوں میں غم چھپا کر چل دئے
زندگی ہم نے بتائی اس طرح
چند آنسو تھے، بہا کر چل دئے
اس نے مجھ سے دل لگی یوں خوب کی
گھر میں مہماں کو بلا کر چل دئے
میرے دل سے اور بھی کھیلو گے کیا؟
ہاں میں وہ سر کو ہلا کر چل دئے
پہلےپہلے ہم بھی افسردہ ہوئے
پھر ہنسی میں غم اڑا کر چل دئے
الف عین — اکتوبر 14، 2015 4:43 صبح
بحر و اوزان میں تو مکمل درست ہے۔ البتہ مطلع میں قافیہ مشترک آ گیا ہے۔
سسکیوں میں غم بھلا کر
کر دیں۔
یہ مصرع روانی چاہتا ہے
ہاں میں وہ سر کو ہلا کر چل دئے
اس کو یوں کہیں تو بہتر
ہإ میں اپنا سر ہلا کر چل دئے
نورالحسن جوئیہ — اکتوبر 14، 2015 7:30 شام
بحر و اوزان میں تو مکمل درست ہے۔ البتہ مطلع میں قافیہ مشترک آ گیا ہے۔
ہإ میں اپنا سر ہلا کر چل دئے
سر اس کی سمجھ نہیں آئی؟ ''ہا'' مطلب؟؟
الف عین — اکتوبر 15، 2015 10:21 صبح
سر اس کی سمجھ نہیں آئی؟ ''ہا'' مطلب؟؟
ٹائپو ہے، لکھنا چاہا تھا
’ہاں‘‘ میں اپنا ۔۔۔۔۔
’سر کو‘ ہلانا محاورہ نہیں، محض سر ہلانا ہوتا ہے۔
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 16، 2015 1:19 شام
دل کی تلخی کو چھپا کر چل دئے
سسکیوں میں غم چھپا کر چل دئے
زندگی ہم نے بتائی اس طرح
چند آنسو تھے، بہا کر چل دئے
اس نے مجھ سے دل لگی یوں خوب کی
گھر میں مہماں کو بلا کر چل دئے
میرے دل سے اور بھی کھیلو گے کیا؟
ہاں میں وہ سر کو ہلا کر چل دئے
پہلےپہلے ہم بھی افسردہ ہوئے
پھر ہنسی میں غم اڑا کر چل دئے
اچھی غزل ہے۔
دل لگی یوں خوب اس نے مجھ سے کی
اس طرح شاید زیادہ رواں لگتا ہے۔
دلی مبارکباد۔