صدف رباب — اگست 24، 2018 5:10 صبح
آئینے میں تو ذرا دیر ٹھہر جاؤ ناں
اے مرے عکسِ شکستہ نہیں ڈراؤ ناں
یہ بھی آنکھوں میں لئے اشک نکل پڑتے ہیں
ان ستاروں کو کوئی بات سنا جاؤ ناں
اب تری آنکھ کی دہلیز پہ مر جانا ہے
ریزہ ریزہ جو مرا مان ہے لے آؤ ناں
خشک آنکھوں میں ترا درد سما لائی ہوں
وحشتِ دل کو شبِ درد میں سمجھاؤ ناں
مری یادوں میں کہیں دور بھٹکنے والے
کتنا اجڑے ہو مجھے ہنس کر دکھاؤ ناں
الف عین — اگست 24، 2018 7:16 صبح
اچھی غزل ہے خیالات کے اعتبار سے لیکن سارے ثانی مصرعے بحر سے خارج ہو گئے ہیں فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کے افاعیل کے مطابق جس میں دوسرے سارے مصرع تقطیع ہوتے ہیں
اس کے علاوہ 'ناں' کوئی لفظ نہیں، 'نا' درست ہے اور ان ہی معنوں میں جن میں استعمال کیا گیا ہے، نفی کے لیے نہیں
الف عین — اگست 24، 2018 7:17 صبح
مکرر ۔ یہ مصرع درست بحر میں ہے
وحشتِ دل کو شبِ درد میں سمجھاؤ نا
صدف رباب — اگست 24، 2018 9:46 صبح
مکرر ۔ یہ مصرع درست بحر میں ہے
وحشتِ دل کو شبِ درد میں سمجھاؤ نا
جی .
حرفِ تاکید اردو میں نا ' ہے نا سر ؟؟
صدف رباب — اگست 24، 2018 9:46 صبح
مکرر ۔ یہ مصرع درست بحر میں ہے
وحشتِ دل کو شبِ درد میں سمجھاؤ نا
جی ۔۔۔ اور کوئی خامی ؟؟اوزان ؟
صدف رباب — اگست 24، 2018 9:48 صبح
جی
اچھی غزل ہے خیالات کے اعتبار سے لیکن سارے ثانی مصرعے بحر سے خارج ہو گئے ہیں فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن کے افاعیل کے مطابق جس میں دوسرے سارے مصرع تقطیع ہوتے ہیں
اس کے علاوہ 'ناں' کوئی لفظ نہیں، 'نا' درست ہے اور ان ہی معنوں میں جن میں استعمال کیا گیا ہے، نفی کے لیے نہیں
جی اور اگر نا کو ہٹا کر تم لگا دیا جائے تو کیا بہتر ہے ؟؟
ابوعبید — اگست 24، 2018 10:38 صبح
اچھی کوشش ہے ۔ سلامت رہیں
صدف رباب — اگست 24، 2018 10:39 صبح
اچھی کوشش ہے ۔ سلامت رہیں
بہت بہت شکریہ !!
الف عین — اگست 24، 2018 6:07 شام
نا ہی درست ہے استمراری صیغہ میں ۔ لیکن ' یہ نا کرنا' غلط ہے وہاں درست 'نہ' ہے ناں اردو کا لفظ نہیں
اشعار بحر میں ہو جائیں پھر دیکھیں گے کہ کیا اغلاط ہیں