غزل بعنوان "کوچ" اصلاح کے لئے پیش ہے

سید اسد معروف — نومبر 14، 2015 7:00 شام
ہزج مثمن سالم مضاعف
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
یوں تو ہیں پہلو بہت تاریک سارے کوچ کے
ہیں مگر خانہ بدوشوں کو سہارے کوش کے
ایک مدت سے بسے ہیں ہم نئے اس شہر میں
گونجتے ہیں ذہن میں لیکن نقارے کوش کے
رزق لکھا ہے اندھیروں میں اگر اس شہر کے
آسماں پر کیوں چمکتے ہیں ستارے کوچ کے
قحط الفت، رنج و غم اور بے سرو سامانیاں
شام کی بڑھتی اداسی میں نظارے کوچ کے
خلق کی بے زاریاں، احباب کی یہ بے رخی
تم نہ مانو --ہیں مگر سارے اشارے کوچ کے
فاتح — نومبر 14، 2015 7:16 شام
پہلی اصلاح تو یہ ہے کہ عنوان نظم کا ہوتا ہے۔ غزل کا کوئی عنوان نہیں ہوتا
فاتح — نومبر 14، 2015 7:19 شام
دوسری اصلاح یہ کہ آپ کا کوئی ایک مصرع بھی "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" کے وزن پر نہیں ہے۔
جس نے آپ کو یہ بتایا ہے کہ یہ بحر ہزج ہے اس نے آپ کے ساتھ بھیانک مذاق کیا ہے۔ یہ بحر رمل ہے۔
ادب دوست — نومبر 15، 2015 8:14 صبح
ماشاءاللہ اچھی غزل ہے ۔بہت داد قبول ہو۔
کہیں کہیں ٹائپو ہے کوچ کی بجائے کوش لکھا گیا ہے
لفظ نقّارے کو بھی دیکھ لیں۔ فاتح بھائی نے جن دو باتوں کی طرف اشارہ کیا وہ بھی ہیں
کاشف اختر — نومبر 15، 2015 12:51 شام
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ ،بحر کا نام آپ نے غلط بتایا ، کوئی بات نہیں ،اس میں تو بڑے بڑے اساتذہ سے غلطی ہوجاتی ہے،
ابن رضا — نومبر 15، 2015 12:58 شام
اچھی کوشش کے لیے داد۔
مزید یہ کہ ردیف بھی کئی جگہوں پر بدل رہی ہے۔ کوچ اور کوش
کاشف اختر — نومبر 15، 2015 1:08 شام
شاید ٹائیپنگ کی غلطی ہے
کاشف اختر — نومبر 15، 2015 1:09 شام
شاید ٹائیپنگ کی غلطی ہے ؟
الف عین — نومبر 15، 2015 2:52 شام
بڑی بڑی اغلاط گنوائی جا چکی ہیں۔ اگر ہر جگہ کوچ کو درست بھی مانا جائے ، تب بھی ردیف کہیں کہیں درست نہیں استعمال ہوئی ہے۔ نظارے اور سہاے کوچ کے کس طرح ہو سکتے ہیں۔
سید اسد معروف — نومبر 16، 2015 8:46 صبح
بعد از سلام انتہائی معذرت کے ساتھ---تمام بھیانک غلطیوں کے لئےمعافی چاہتا ہوں۔۔۔ در اصل مجھے غزل کی تقطیع کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں، یہ رپورٹ "عروض" کے سیکشن میں اصلاح کے ساتھ درج تھی جو میں نے غور کیے بغیر نقل کردی۔۔۔ آئندہ محتاط رہوں گا۔۔
دوبارہ پیش کرتا ہوں--
غزل
رمل مثمن محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
یوں تو ہیں پہلو بہت تاریک سارے کوچ کے
ہیں مگر خانہ بدوشوں کو سہارے کوچ کے
ایک مدت سے بسے ہیں ہم نئے اس شہر میں
گونجتے ہیں ذہن میں لیکن نقارے کوچ کے
رزق لکھا ہے اندھیروں میں اگر اس شہر کے
آسماں پر کیوں چمکتے ہیں ستارے کوچ کے
قحط الفت، رنج و غم اور بے سرو سامانیاں
شام کی بڑھتی اداسی میں نظارے کوچ کے
خلق کی بے زاریاں، احباب کی یہ بے رخی
تم نہ مانو --ہیں مگر سارے اشارے کوچ کے​
کاشف اسرار احمد — نومبر 17، 2015 1:37 شام
اچھی کوشش ہے۔
مشق جاری رکھیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B9%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%88%DA%86-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%DB%81%DB%92.85907/