غزل بغدض اصلاح

سرفرازاحمدسحر — جنوری 27، 2024 5:40 صبح
محترمی الف عین
سفر گو طویل تھا مگر مختصر ہوا
مرا ہم نوا ہی جب مرا ہم سفر ہوا
مُمَدِّ حیات پھر لگا زہر بھی اُسے
جنوں کی گلی سے جب خرد کا گزر ہوا
نہیں خار ہی فقط محبت کے پیڑ پر
اسی پر ہیں گل کھلے اسی پر ثمر ہوا
مقابل میں زیر کے رہا زیر ہی مگر
زَبر کے مقابلے میں آکر زبر ہوا
ہوا ہے یہ آپ کی جہاں پروری میں ہی
خرد سُولی چڑھ گئی ہنر دربدر ہوا
محمد ریحان قریشی — جنوری 27، 2024 6:14 صبح
یہ غزل آپ نے غالباً مفاعیل فاعلن مفاعیل فاعلن کے وزن پر کہی ہےجو کہ معروف اوزان میں سے نہیں ہے. ایسے اوزان سے اجتناب بہتر ہے.
سرفرازاحمدسحر — جنوری 27، 2024 10:08 صبح
یہ غزل آپ نے غالباً مفاعیل فاعلن مفاعیل فاعلن کے وزن پر کہی ہےجو کہ معروف اوزان میں سے نہیں ہے. ایسے اوزان سے اجتناب بہتر ہے.
@محمدریحان قریشی صاحب
نہیں سر میں نے تو اس پر کہی ہے.
فعولن مفاعلن فعولن مفاعلن
محمد ریحان قریشی — جنوری 27، 2024 10:31 صبح
@محمدریحان قریشی صاحب
نہیں سر میں نے تو اس پر کہی ہے.
فعولن مفاعلن فعولن مفاعلن
ایک ہی بات ہے. فعولن مفاعلن بہتر تقطیع ہے لیکن وزن تو وہی ہے، اردو میں غیر مستعمل ہے.
الف عین — جنوری 28، 2024 4:38 صبح
گو تھا سفر طویل مگر مختصر ہوا
کی بحر میں موزوں کریں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن /فاعلات
سرفرازاحمدسحر — جنوری 28، 2024 7:47 صبح
گو تھا سفر طویل مگر مختصر ہوا
کی بحر میں موزوں کریں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن /فاعلات
الف عین بہت شکریہ سر میں کوشش کرتا ہوں
سرفرازاحمدسحر — جنوری 28، 2024 5:07 شام
گو تھا سفر طویل مگر مختصر ہوا
کی بحر میں موزوں کریں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن /فاعلات
محترمی الف عین محمد ریحان قریشی
اک ہم نوا تھا بڑھ کے مرا ہم سفر ہوا
گو تھا سفر طویل مگر مختصر ہوا
یہ آپ کی ہوا ہے جہاں پروری میں ہی
سُولی چڑھی خرد تو, ہنر دربدر ہوا
تھا زیر کے مقابلے میں زیر ہی مگر
آکر مقابلے میں زبر کے, زبر ہوا
پھر زہر بھی لگا ہے مُمِدِّ حیات اس کو
کُوچے سے جب جنوں کے, خرد کا گزر ہوا
بس خار ہی نہیں ہیں محبت کے پیڑ پر
گل بھی کھلے اسی پہ , اسی پر ثمر ہوا
الف عین — جنوری 29، 2024 5:29 صبح
محترمی الف عین محمد ریحان قریشی
اک ہم نوا تھا بڑھ کے مرا ہم سفر ہوا
گو تھا سفر طویل مگر مختصر ہوا
درست
یہ آپ کی ہوا ہے جہاں پروری میں ہی
سُولی چڑھی خرد تو, ہنر دربدر ہوا
پہلا مصرع مجہول انداز بیان ہے
خرد اور ہنر میں تعلق،؟
تھا زیر کے مقابلے میں زیر ہی مگر
آکر مقابلے میں زبر کے, زبر ہوا
یہ زبردستی کی قافیہ پیمائی لگتا ہے
پھر زہر بھی لگا ہے مُمِدِّ حیات اس کو
کُوچے سے جب جنوں کے, خرد کا گزر ہوا
پہلا مصرع بحر سے خارج ہے
مفہوم بھی واضح نہیں
بس خار ہی نہیں ہیں محبت کے پیڑ پر
گل بھی کھلے اسی پہ , اسی پر ثمر ہوا
ثمر ہوا محاورہ نہیں، ثمر لگا کہا جاتا ہے
یہ کون سا کی بورڈ ہے کہ، کاما، ہی نہیں اردو والا!
سرفرازاحمدسحر — فروری 1، 2024 1:16 شام
درست
پہلا مصرع مجہول انداز بیان ہے
خرد اور ہنر میں تعلق،؟
یہ زبردستی کی قافیہ پیمائی لگتا ہے
پہلا مصرع بحر سے خارج ہے
مفہوم بھی واضح نہیں
ثمر ہوا محاورہ نہیں، ثمر لگا کہا جاتا ہے
یہ کون سا کی بورڈ ہے کہ، کاما، ہی نہیں اردو والا!
محترمی الف عین
بہت شکریہ
براہ مہربانی کی بورڈ تجویز کریں
الف عین — فروری 2، 2024 5:40 صبح
محترمی الف عین
بہت شکریہ
براہ مہربانی کی بورڈ تجویز کریں
میں تو سوئفٹ. کی استعمال کرتا ہوں مائکروسافٹ کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%B6-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.120337/